36

سکم کاڈورجی اور لاہور کا نواز شریف۔۔۔تتقدیرہ خان

بیرسٹر اعتزاز احسن نے ایک ٹیلی ویژن چینل پر دھواں دھار تقریر کی اور غداری کی تعریف میں آنے والے سارے مجرمانہ فعل نہ صرف دھرائے بلکہ ایک ایک پر مفصل بحث بھی کی۔ اُن کے کلام شیریں کی بنیاد علم الکلام کے فلسفے و فکر پر تھی۔ آپ نے اپنے دلائل کی بنیاد پر تو ثابت کر دیا کہ کرپشن بد دیانتی، لوٹ مار، سرکاری املاک پر غاصبانہ قبضہ، چرب زبانی، ملکی خزانے کی بندر بانٹ، اقربا پروری اور دیگر افعال جو منظم جرائم کی تعریف میں آتے ہیں کا مرتکب فرد یا افراد ملکی سلامتی امن اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے موزوں نہیں۔ انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی ان افعال کا مرتکب ہو وہ قوم مجرم اور سزا کا حق دار ہے۔
اس اخلاقی اور کسی حد تک قانونی بحث کے بعد انہوں نے پینترا بدلا جس کی وجہ اُن کے شعور کے کسی گوشے میں بیٹھا آصف زرداری ہوسکتاہے جو نہ صرف اعتزاز احسن کا قائد ہے بلکہ سیاسی امام بھی ہے۔ اعتزاز احسن نے ایک اچھے او روطینت سے بھر پور کلام کو میکالین فکر ودانش کے لبادے میں پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میں میاں نواز شریف، ان کے حواریوں اور اہل خاندان کو غدار نہیں سمجھتا۔ جس کسی نے اُن پر غداری کا پرچہ درج کروایا ہے وہ شخص قابل مذمت ہے اور ہمیں بحیثیت مجموعی ایسے افعال سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ مصدق ملک نے کہا کہ غداری کا مقدمہ میرے لیے باعث فخر ہے۔میری بیوی اور بچے فخر محسوس کرتے ہیں کہ اُن کے گھر میں ایک غدار اور دہشت گرد رہتا ہے۔ جسٹس وجیہ الدین نے بھی کہا کہ کیپٹن صفد ر غدار نہیں ہوسکتا۔ قانون دانوں، تبصرہ نگاروں اور سیاسی مبصرین کو اگر توفیق ہو تووہ نواز لیگ،نواز شریف، سکم کے بادشاہ جوگیال پالڈن تھونڈو پ نام گیال (Palden Thondupanmgyol) (Chogyal) سکم کے وزیراعظم کا زی پون ڈوپ ڈورجی(Kazi HpndupDorji) اور سکیم سٹیٹ کانگرس پر نظر ڈالیں تو غداری، وطن فروشی اور دیگر افعال کے علاوہ بیرسٹر اعتزاز احسن کے بیان کرہ فرمودات میں بڑی حدتک ہم آہنگی نظر آئے گی۔
میاں نواز شریف بلکہ میاں شریف کے خاندان کی تاریخ سے ساری دنیا واقف ہے۔ کشمیر سے امرتسر اور پھر لاہور تک سفر کی داستان ہر پاکستانی کو ازبر ہے۔ میاں نواز شریف کے لوہار خانے سے دومرلہ کی فاؤنڈری اور پھر فاؤنڈری سے فاؤنڈریاں، فیکٹریاں، کاروبار، بادشاہوں، شہزادوں اور دنیا کے امیر ترین کاروباری افراد سے روابطہ کی داستان بھی داستا ن طلسم ہو شربأ سے کم نہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ نواز کا قیام، جنرل ضیاء الحق، جنرل حمید گل، جنرل جیلانی اور بریگیڈئیر قیوم کے ذکر کے بغیر یہ داستان ادھوری ہے۔
1947میں تقسیم ہند کا مرحلہ آیا تو کئی ریاستوں، حکمرانوں اورسیاستدانوں نے نہرو سے رابطہ قائم کیے جن میں سکیم کا بیوقوف بادشاہ جو گیال اور اُسکا دست راست ڈورجی بھی شامل تھے۔ جوگیال اور اندرا گاندھی کی دوستی تھی جو اسے ملنے شملہ اور کالمپونگ جاتا تھا۔ ان دنوں اندرا گاندھی کی ایک سہیلی اور سی آئی اے کی ایجنٹ جس کا تعلق نیویارک سے تھا 1963میں دار جیلنگ آئی اور بادشاہ سے دوستی کر لی۔ اندرا کی سہیلی کا نام ھوپ کول(Hope Cool) تھا جو بیک وقت سی آئی اے اور اندر ا گاندھی کے لیے کام کررہی تھی۔ ھوپ کول نے کچھ عرصہ بعد بادشاہ سے شادی کر لی اور خفیہ معاملات امریکہ اور دہلی بھجوانے لگی۔ نیپال بھوٹان، چین اور پاکستان نے بادشاہ کو خبردارکیا کہ وہ بھارت پر اعتماد نہ کرے اور اقوام متحدہ کی ممبر شپ کے کے لیے درخواست دے۔ تینوں ممالک نے اسے یقین دلایا کہ وہ سب سے پہلے سکم کے حق میں ووٹ دینگے چونکہ سکیم جغرافیائی لحاظ سے تینوں ممالک کے لیے انتہائی اہم تھا۔ 1974میں شاہ برندراکی تاج پوش کے موقع پر چین کے نائب وزیراعظم،بھوٹان کے بادشاہ اور پاکستان کے سفیر نے جوگیال کو سمجھایا کہ وہ کچھ عرصہ تک واپس سکم نہ جائے اورامریکہ کے دورے پر چلا جائے۔ ھوپ کول نے ساری تدبیروں پر پانی پھیر دیا اور کم عقل بادشاہ واپس سکم چلا گیا۔
اسی طرح سی آئی اے کی ایک اور ایجنٹ ایلساماریہ (Elisa Maria) وزیراعظم ڈورجی پر کام کر رہی تھی۔ ماریہ کا تعلق بلجیم سے تھا اور وہ نہرو کی بھی دوست تھی۔ ماریہ نے ڈورجی سے شادی کر لی اور اُسے بادشاہ کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا۔
نہرو کی خوشنودی کی خاطر ڈورجی نے سکم سٹیٹ کانگرس قائم کی اور بادشاہ کے خلاف تحریک شروع کر دی۔ بھارت اور امریکہ نے ڈورجی کی مالی معاونت کی اور ہزاروں بھارتی فوجی سول کپڑوں میں سکم میں داخل کر دیے۔ یہ لوگ ہر روز بادشاہ کے خلاف جلوس نکالتے اور بھارتی میڈیا بے ضر ر بادشاہ کے عوام پر مظالم، ہندوؤں کے قتل، ہندو عورتوں اور بچوں کے عصمت دری اور دیگر نا کردہ جرائم کی فرضی کہانیاں بیان کرتا۔ مغربی اور امریکی میڈیا بھی اس پراپیگنڈ ے کو اچھالتا تا کہ سکم کا بادشاہ اقوام متحدہ کی ممبر شپ کا اہل نہ رہے۔ بھارت سے آئے لاکھوں شہری اور فوجی پلے کارڈ اٹھا کر شہروں اور دیہاتوں میں پھرتے جنکا نعرہ تھا ظالم اور سفاک بادشاہ سے بہتر ہے کہ ہم بھارتی کہلوائیں۔1973میں بادشاہ کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تو بادشاہ کے اے ڈی سی کیپٹن سونام یوگندا نے انکشاف کیا کہ سکم میں جو مظاہرے ہو رہے ہیں اس میں کوئی سکمی باشندہ شامل نہیں۔ کیپٹن یوگندانے یہ بھی کہا یہ سب بھارتی سازش ہے جس میں وزیراعظم ڈورجی، ملکہ ھوپ کول، خاتون اوّل ایلسا ماریہ، دہلی میں مقیم برطانیہ اور امریکہ کے سفیر شامل ہیں۔ اورنا چل پردیش پر چینی دعویٰ اپنی جگہ قائم ہے جبکہ نیپال، چین، بھوٹان اور مشرقی پاکستان کے عین درمیان ایک چھوٹی ہی سہی مگر آزاد وخود مختار ریاست کا وجود بھارت سمیت عالمی طاقتوں کو کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں۔ بلکہ ھوپ کول نے بادشاہ کو یقین دلایا رکھا ہے کہ امریکہ سفیر خودان سے ملنے آئینگے۔ اس لیے وہ بھوٹان، نیپال، چین اور پاکستان سے کوئی رابطہ نہ کریں۔ دوسری جانب ماریہ نے وزیراعظم کو ایک قدیم شجرہ پیش کیا جو درحقیقت کسی بھارتی جوگی نے نہرو کے حکم پر تیار کیا تھا۔ اس شجرے کے مطابق صدیوں پہلے ڈورجی کا خاندان سکم کا حکمران تھا جسے موجود جوگیال کے خاندان نے تخت و تاج سے محروم کیا تھا۔ ڈورجی کو باور کروایا گیا کہ سکم کا اصل حکمران اُس کا خاندان تھا۔ اگر وہ بھارت کی بات مان کر بادشاہ کے اختیارات میں کمی کروا دے تو الیکشن کے بعد اسمبلی بادشاہ کو معزول کر کے اسکا خاندانی حق اسے واپس دلوادے گی۔ اسے یہ بھی لالچ دیا گیا کہ تخت شاہی پر براجمان ہوتے ہی اسے اقوام متحد کی ممبر شپ بھی مل جائے گی۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ملکوں کے علاوہ جاپان نہ صرف اسے تسلیم کر لینگے بلکہ سرمائیہ کاری کے ذریعے اسے دنیا کا امیر ترین بادشاہ بننے میں بھی مدد دینگے۔
بھارت نے ڈورجی اوراپنے دیگر ایجنٹوں کے ذریعے بادشاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ سہ فریقی مذکرات کے ذریعے اندرونی خلفشار کم کرے۔ یہ مذکرات بھارت، سکم سٹیٹ کانگرس جو بھارتی کانگرس پارٹی کی ہی ایک شاخ تھی اور بادشاہ کے درمیان ہوئے۔ ان مذکرات کے نتیجے میں بادشاہ کے اختیارات میں کمی دی گئی اور وزیراعظم ڈورجی کو بڑی حد تک بااختیار کر دیا گیا۔ ڈورجی نے بھارتی وزیراعظم کی خواہش پر ملک میں عام انتخابات کروائے۔بھارتی شہریوں اور فوجیوں نے پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کر لیا اور 32میں سے 31سیٹوں پر سکم سینٹ کانگرس کے نمائندے جیت گئے۔ اسی نام نہاد اسمبلی سے ملک گیر ریفرنڈم کروایا گیا اور بھارتی ایجنٹوں کے ووٹوں سے بادشاہ کے اختیارات ختم کر دیے۔ سارے حربے اپنانے کے بعد6اپریل 1975کو بھارتی فوج نے بادشاہ کے محل پر حملہ کر دیا اور بادشاہ کے محافظ دستے کا خاتمہ کرنے کے بعد سکم کا پرچم اُتار کر ترنگا لہرادیا۔ باوجود اس کے بادشاہ اور اندرا گاندھی کے ذاتی تعلقات بحال رہے۔ وہ بھارتی فوج کے اعزازی میجر جنرل کی وردی پہن کر اپنی امریکن بیوی کے ہمراہ تقریبات میں حصہ لیتا اور اندرا گاندھی کی زلفوں کا اسیر بھی رہا۔ سکم پر قبضے کے بعداندرا گاندھی نے بیان دیا کہ ایسی ریاستوں پر قبضہ بھارت کے مفاد میں ہے۔ بھارتی را کے ڈپٹی ڈائریکٹر جی ایس داس نے اپنی کتاب سکم ساگا میں لکھا کہ سکم کے بیوقوف بادشاہ سے فائدہ نہ اُٹھانا ہماری بیوقوفی میں شامل ہوجاتا۔ سکم کے ایک سابق وزیراعظم نے لکھا کہ بھارتی قوم دنیا کی سب سے بڑی منافق، بد عہد اور بے اصول قوم ہے۔ جو اس کے چمکے میں آیا وہ اپنا وجود کھوبیٹھا۔ بھارت کی ایماء پر شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان توڑا اور پھر ساتھیوں سمیت ذلت کی موت مرا۔ ڈورجی بادشاہ تو نہ بن سکا مگر 103سال کی عمر غدار ملت کہلواتا رہا۔ وہ تین ماہ تک سکم کا وزیراعظم کا وزیراعلیٰ رہا اور جونہی اندراگاندھی نے سکم کو بھارت کا بائیسواں صوبہ قرار دیا ڈورجی کو اٹھا کر کچرہ دان میں پھینک دیا۔
آج میاں نواز شریف،اسکا خاندان اورحواری جو کچھ کر رہے ہیں اور جو آوازیں دلی اورلندن سے آرہی ہیں اُس میں مماثلت ہی نہیں بلکہ بڑی حدتک ہم آہنگی ہے۔ میاں نواز شریف اپنی تقریروں میں کہہ چکا ہے کہ وہ الطاف حسین اور مجیب الرحمن کی آئیڈیالوجی پر گامزن ہے۔ جونا گڑھ پرقبضے کے بعد نہرو نے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ چھوٹے ملکوں پر قبضہ کرنا ہمار ے لیے توپ سے مکھی مارنے کے برابر ہے۔ یہ بات نواز شریف کی فوج کے خلاف تقریر اور کیپٹن صفدر کے خطاب پر تالیاں بجانے والے تین ریٹائرڈ جرنیلوں کو بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اس سازش کا حصہ بن رہے جس کا ہدف فوج ہے۔اگر وہ اس سازشی ٹولے کا حصہ رہے جس کی پشت پر بھارت اور پاکستان مخالف قوتیں ہیں تو وہ ڈورجی اور جوگیال کی طرح اعزازی وردی سے بھی محروم ہو جائینگے۔ گوجرانوالہ کے سابق کور کمانڈر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ صفدر جیسے شخص کی قیادت میں کور کمانڈر ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان سن کر تالیاں بجائے۔ سکم کے ڈورجی اور لاہورکے میاں نواز شریف کی آئیڈیالوجی ایک جیسی ہے اور انجام بھی ویسا ہی ہوگا۔ میاں نواز شریف کو بھول ہے کہ وہ بھارت کی شہ پر کامیاب ہوگا۔ اسے جوگیال کی طرح ہوش نہیں کہ بھارت اُس سے کیا کروا رہا ہے۔ یہ ملک دین اسلام کے نام پر قائم ہوا تھااور ہمیشہ قائم ہی رہے گا۔

Print Friendly, PDF & Email