58

کشمیر میں بھارتی فوج دستے اتارنے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت عصب کرنے پر ملک کے دیگر حصو ں کی طرح چترال میں بھی یوم سیاہ منایا گیا

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال)1947ء میں اس دن کشمیر میں بھارتی فوج دستے اتارنے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت عصب کرنے پر ملک کے دیگر حصو ں کی طرح چترال میں بھی یوم سیاہ منایا گیا جس میں جلوسوں اور جلسوں کے علاوہ بڑے بڑے سائز میں بینیر اویزان کرنے اور مذاکرے اور مباحثے منعقدکرکے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی اور بھارتی قبضے کی مذمت کی۔ لویر چترال میں سب سے بڑا جلوس کامرس کالج سے اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) شہزاد کی قیادت میں نکالا گیا جوکہ مختلف بازاروں سے ہوکر دوبارہ کامرس کالج پہنچ گئی جس سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) عبدالولی خان، پرنسپل کامرس کالج پروفیسر صاحب الدین، ڈپٹی ڈی ای او ڈاکٹر عبدالمالک، پرنسپل سینٹینل سکول شاہد جلال، صدر ڈسٹرکٹ بار نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، معروف کالم نویس جاوید حیات اور دوسروں نے خطاب کیا اور کشمیر پر بھارت کی عاصبانہ تسلط کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کراچی سے لے کر چترال تک 22کروڑ عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ا نہوں نے کہاکہ بھارت نے کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کی کوشش کرکے ایک اور جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جسے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا اور بھارت اپنی اس قدم سے عالمی برادری کے سامنے مزید ایکسپوز ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر گورنمنٹ کالج چترال، کامرس کالج اور سینٹنل ہائی سکول کے طلباء نے کشمیر یوں کی جدوجہد آزادی کے موضوع پر تقریر کی۔ گورنمنٹ گرلز کالج چترال اور دروش کے علاوہ ایون، کوغوزی اور گرم چشمہ میں بھی یوم سیاہ کے سلسلے میں تقریبات منعقد ہوئے۔ درین اثناء ضلع اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز بونی میں بھی یوم سیاہ منایا گیا جس میں ڈی سی اپر چترال شاہ سعود، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عرفان نے جلوس کی قیادت کی جوکہ گورنمنٹ ہائی سکول پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کی جس سے متعدد مقرریں نے خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email