93

ْْْْْْداد بیداد…قلعہ سکر دو کا فا تح..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

گلگت بلتستان کی آزادی کا ہفتہ ہر سال یکم نو مبر سے 7نو مبر تک منا یا جا تا ہے اس تاریخ کی اہمیت یہ ہے کہ ڈوگر ہ راجہ ہری سنگھ کے آ خری گورنر گھسارا سنگھ کو گرفتار کر کے گلگت کے مر کزی قلعے پر پا کستان کا سبز ہلا لی پر چم لہرا یا گیا تھا یہ یکم نومبر 1947کا واقعہ ہے سکر دو کا قلعہ 14اگست 1948کو فتح ہو ا دونوں کے درمیاں 10ماہ کا وقفہ ہے تو اس کی معقول یا کسی حد تک نا معقول وجہ بھی ہے وجہ یہ ہے کہ سکردو کا سب سے بڑا قلعہ کھر فو چو ڈوگرہ فوج کے پا س تھا کشمیر اور گلگت بلتستان کی آزادی کے لئے پو رے خیبر پختونخوا سے رضا کاروں کے قافلے محا ذ پر پہنچ گئے تھے تراگبل،گریز، کار گل پلوائی، سکردو،استور، دیا مر اور دوسرے محا ذوں پر جنگ جا ری تھی اس جنگ کے بے شمار ہیرو اور سورما آج بھی یا د کئے جا تے ہیں ان میں کرنل حسن خان، میجر با بر خان اور کرنل مطا ع الملک کے نام بچے بچے کی زبان پر از بر ہیں آزادی کی جنگ چھڑ گئی تو ہمسا یہ ریا ستوں میں سے چترال کی ریا ست کے مہتر مظفر المک نے رضا کاروں کے 3دستے روانہ کئے ایک دستہ شہزادہ برہان الدین کی قیا دت میں کارگل کے محاذ پر بھیجا گیا دوسرا دستہ شہزادہ میجر غلام محی الدین کی قیا دت میں تراگبل کے محا ذ پر بھیجا گیا، دونوں دستے درہ لواری عبور کر کے نو شہرہ کے راستے محا ذ پر گئے، تیسرا دستہ شہزادہ کرنل مطاع الملک کی قیا دت میں درہ شندور کے راستے گوپس اور گلگت سے ہو کر 19دنوں کی مسافت کے بعد سکر دو پہنچا ان رضا کاروں کے علا وہ چترال سکا وٹس کا ایک دستہ میجر محمد طفیل (نشان حیدر) اور لفٹننٹ عبد الرروف کی قیا دت میں استور پھلوائی کے محا ذ پر بھیجدیا گیا اس دستے کا سگنل اپریٹر اشرف خان 97سال کی عمر میں بقید حیات ہے اور صحت مند زندگی گزار رہا ہے ایف سی این اے کے کمانڈر میجر جنرل سلطان محمود خان نے گذشتہ عید پر ان کو قیمتی تخا ئف بالیم لاسپور میں ان کے گھر پر بھیجے اور ان کے لئے نیک خوا ہشات کا اظہار کیا کرنل مطاع الملک نے ریڈیو پا کستان چترال کو تفصیلی انٹر ویو دیا ہے نیز اپنی یا د داشتوں پر مبنی خوب صورت تحریر ڈگری کا لج گلگت کے مجلہ ہندو کش قراقرم میں شائع کر ائی ہے مولا نا حق نواز نے اپنی کتاب جنگ آزادی گلگت بلتستان میں اس مجا ہد اسلام کے کا رنا موں کا تفصیلی ذکر کیا ہے چترال سے رضا کاروں کا یہ دستہ جنوری 1948میں سکر دو پہنچا اس دستے نے پہلے کھر منگ، شگر گانچھے اور خپلو کی وادیوں سے ڈوگرہ فوج کو نکا لا دشمن نے سکر دو کے مر کزی مقام پر کھر فوچو کے قلعے کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا دیا کر نل ایس کے تھا پا، کپٹن گنگا سنگھ، کپٹن پر بہ لال اور لفٹنٹ اجیت سنگھ کے ساتھ ڈوگرہ فوج قلعے میں محصور ہو گئی کھر فو چو کا قلعہ سکر دو میں مو جود ہ کمشنر ہاوس کے سامنے دریا کے پار بلند پہاڑی پر واقع تھا اب بھی اس کے نشا نات مو جو دہیں کرنل مطا ع الملک نے توپ خا نے کے ذریعے قلعے پر بم بر سائے اور اپنے جوا نوں کو چاروں طرف پیش قدمی کاحکم دیا، بموں سے قلعہ کے اندر کھلبلی مچی ہوئی تھی لا شوں کے انبار لگے تھے اور زخمیوں کو نکا لنے کے راستے تلا ش کئے جا رہے تھے اس اثنا ء میں مجا ہدین کے ہراول دستے نے قلعے کا صدر دروازہ توڑ دیا کرنل تھا پا اور کپٹن گنگا سنگھ کو گرفتار کر کے قلعے پر پا کستان کا سبز ہلا لی پر چم لہرا یا کپٹن گنگا سنگھ کے خلاف جنگی جرائم کی بے شمار شکا یتیں تھیں ان پر مقدمہ چلا یا جارہا تھا راولپنڈی سے تار بھیجا گیا کہ قیدی افسروں کو پورے اعزاز کے ساتھ ایک جہا ز میں راولپنڈ ی روانہ کیا جائے کرنل مطاع الملک نے تار ملتے ہی کپٹن گنگا سنگھ کو فوراً گولی مارنے کا حکم دیا اور تار کے جواب میں لکھا کہ ”کپٹن گنگا سنگھ کو سزائے موت دی گئی ہے کرنل تھا پا کے لئے جہاز بھیجدو“ گلگت بلتستان کی آزادی کا ذکر جب بھی آتا ہے قلعہ کھر فو چو کا نام بھی آتا ہے اسکو کا غذات میں کھریچو بھی لکھا جا تا ہے یہ گلگت بلتستان کے ان تین قلعوں میں ہوتا ہے جن قلعوں میں مسلمانوں نے ڈوگرہ فوج کو شکست دی ان میں سے ایک قلعہ مڈوری یا سین ہے قلعہ مڈوری یا سین کا واقعہ 1862ء میں پیش آیا تھا قلعہ گلگت کا واقعہ 1947میں رونما ہوا جبکہ قلعہ کھرفو چو کا واقعہ 1948ء میں پیش آیا گلگت بلتستان کی انتظا میہ نے غیر سر کاری تنظیموں اور عالمی عطیہ دہندگان کی مدد سے ان قلعوں کو دوبارہ تعمیراور تزین وارائش سے مزین کر کے سیا حوں کے لئے پر کشش بنا دیا ہے جہاں ڈوگرہ کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہوئی مگر قلعہ خپلو،قلعہ شگر، قلعہ التیت اور قلعہ بلتیت البتہ ان قلعوں کو نظر انداز کر دیا ہے جہاں ڈوگرہ فوج کے خلاف مزا حمت ہوئی آج قلعہ گلگت، قلعہ مڈو ری اور قلعہ کھر فو چو کے کھنڈرات میں ما ضی کی تاریخ کے سارے دریچے بند ہو گئے ہیں چند سال بعد ان کھنڈرات کی دیواریں بھی معدوم ہو جائینگی ؎
نہ گور سکندر ہے نہ قبر دارا
مٹے نا میوں کے نشان کیسے کیسے

Print Friendly, PDF & Email