24

بین الصوبائی ہم آہنگی

نغمہ حبیب

پاکستان نظریے کی بنیاد پر بننے والی دور جدید کی پہلی ریاست تھی اور اس کا نظریہ تھاہندوستان میں بسنے والے مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ یہی نظریہ جو دو قومی نظریہ کہلایا اور یہی پاکستان کی اساس بنا۔چودہ اگست 1947کو پاکستان بن گیا لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ ایک قوم بننے میں ہمیں ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے جو ہم نے اس طرح نہیں کی جیسی ہمیں کرنی چاہیئے تھی۔ ہم پر اب بھی صوبائیت کا رنگ غالب آتا رہتاہے۔ ہم خود کو پنجابی، پٹھان، سندھی،بلوچی اور کشمیری کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں بلاشبہ یہ ملک کے اندر ہماری پہچان ہے اور اس پہچان پر فخر کرنا کچھ بُرا بھی نہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ دوسرے صوبے کے بارے بُرے خیالات رکھیں یا وہاں کے لوگوں کو کم خیال کریں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایسا ہی کرتے ہیں حالانکہ ہم نے ایسا کرنے کی بہت بڑی سزا 1971میں آدھاملک گنوا کر پائی ہے۔ شروع شروع میں ایک دوسرے پر ہونے والی تنقید سے بات آگے بڑھ کر شدید نفرت اور پھر دشمنی اورآخر کار علیحد گی تک جا پہنچی بلکہ علیحدگی کے بعدبھی دلوں کی کدورتیں برقراررہیں اور اب تک تعلقات اُس نہج پر نہیں آئے جہاں ہونے چاہیئے تھے لیکن ہم نے اس سانحہء عظیم سے بھی کوئی سبق نہ سیکھا اور اب بھی کسی نہ کسی شکل میں کسی نہ کسی پیمانے پر یہ رویے موجود ہیں اگرچہ میڈیا نے اس گیپ کو کافی حد تک پاٹ دیا ہے یا کم کیا ہے لیکن ابھی اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ رویے صرف صوبائی سطح پر موجود نہیں بلکہ صوبوں کے اندر بھی ایک دوسرے پر تنقید ہوتی رہتی ہے۔تنقیدپر اعتراض نہیں لیکن اگر یہ بہتری کی طرف لے جائے مگر ہمارے ہاں ہو یہ رہا ہے کہ دیہی سندھ شہری سندھ کے خلاف کمر بستہ ہے اور شہری سندھ دیہی سندھ کے، دونوں ایک دوسرے پر حقوق غصب کرنے کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔سالہا سال سے برسراقتدار پیپلز پارٹی کی حکومت پر ایم کیو ایم یہ الزام لگاتی ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کی ترقی کو مسلسل اورمکمل نظر انداز کیا جارہاہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دیہی سندھ کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں لیکن ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہی حال سینٹرل پنجاب اور جنوبی پنجاب کا ہے اگر چہ یہ ضرور ہے کہ سینٹرل پنجاب میں جنوبی پنجاب کی نسبت زیادہ ترقیاتی کام ہوئے ہیں لیکن وہاں بھی دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔ ان شہروں میں بھی بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں ترقی کی ہوا تک نہیں پہنچی۔ یہی خیال قبائلی علاقوں کے عوام کا باقی پاکستان کے بارے میں ہے جسے منظور پشین جیسے لوگ استعمال کرکے ملک دشمن عناصر کوورغلا رہے ہیں اور دشمن کے اشارے پر ان میں بے چینی پھیلائی جا رہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے قبائلی علاقے اپنے مخصوص مزاج اور حالات کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے تھے تا ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعداب ترقی کا یہ سفر کافی حد تک شروع ہوچکا ہے لیکن پھر بھی وہاں کے عوام کو اس احساس کمتری میں مبتلاء کیا جا رہاہے کہ جیسے انہیں جان بوجھ کر ترقی سے دور رکھاجا رہاہے۔ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ بلوچستان کا ہے جس کے مخصوص طبعی اور سیاسی حالات کی وجہ سے صوبہ ترقی کی دوڑ میں باقی صوبوں سے پیچھے ہے۔ اس پسماندگی میں زیادہ ہاتھ وہاں کے سرداری نظام کاہے جس میں سردار نہیں چاہتے کہ ان کی رعایا بہتر ماحول میں بہتر سہولیات کے ساتھ رہے لیکن اس چیز کو دوسرے صوبوں سے نفرت اور منفی رویّوں کے لیے استعمال کیاجا رہاہے اور بجائے ترقیاتی کاموں کے منفی رویہ پیدا کرنے پر زیادہ کام کیا جا رہا ہے جو در اصل صوبے کی پسماندگی کی وجہ ہے ورنہ ہر پاکستانی دل سے یہ چاہتا ہے کہ بلوچستان کے تمام شہر کوئٹہ کی طرح پھلیں پھولیں اور ترقی کریں۔یہ تو تھے وہ منفی رو یے جو کم سطح پر سہی لیکن موجود ضرور ہیں اور اگراسے روکا نہ گیا توخدانخواستہ یہ سلسلہ آگے بھی بڑھ سکتا ہے اس لیے حکومت کو اس پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیئے۔اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کو سیاسی امور کے ساتھ ساتھ عوامی ہم آہنگی پر بھی کام کرنا چاہیئے۔ اس سلسلے میں نیچے دی گئی کچھ تجاویز پر اگر کا م کیا جائے تو ہم ان رویوں کو کافی حد تک روک سکیں گے۔ طلباء کسی بھی قوم کا وہ طبقہ ہے جن کے ذہنوں پر اس عمر میں جو لکھ دیاجائے اس کا اثر تا عمر رہتا ہے اسی فارمولے پر بین الاقوامی سطح پر کام کیا جاتا ہے اور مختلف ملکوں کے درمیان سٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرام چلتے ہیں جیسے کہ امریکہ کا مختلف ممالک کے ساتھ کینڈی لوگر ا یکسچینج پروگرام ہے جس میں پاکستانی طلباء کسی امریکی خاندان کے ساتھ رہتے ہیں اور وہاں کی معاشرت سے آگاہ ہوتے ہیں اسی طرح کے کچھ مناسب اندازکے پروگرام بین الصوبائی سطح پر بھی چل سکتے ہیں تاکہ خاندانی سطح پر خوشگوار تعلقات استوار ہوں اگر چہ ہمارے طلباء دوسرے صوبوں میں تعلیم ضرور حاصل کرتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ اس پروگرام کے تحت بھی اگر لائے جائیں تو بھی نرم گوشہ پیدا کرنا ممکن ہے۔ اسی طرح اگر چہ ہمارے ثقافتی پروگرام ہوتے ہیں لیکن اس میں بات دوسرے صوبوں کے روایتی لباس پہننے سے آگے نہیں بڑھتی۔ ان پروگراموں میں دوسرے صوبوں کی روایات، وہاں ہونے والے ترقیاتی کاموں،وہاں کی سیاست وغیرہ پر بھی کھلے ذہن کے ساتھ بات ہواورزیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ان کے درمیان ماڈل یونائیٹڈنیشن کی طرز کے مباحثے ہوں تاکہ وہ ایک دوسرے کے وسائل و مسائل سے آگاہ ہو سکیں۔ ایسی نمائشیں لگائی جائیں جس میں تمام صوبوں کی نہ صرف دستکاریاں رکھی جائیں بلکہ دلچسپ انداز میں ان کے مشہور مقامات اور کھانوں سے لے کر شخصیات تک کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ ایک دوسرے کی زبانوں کو ضروری عام بول چال کی حد تک بچوں کو سکھایا جائے اگر چہ ہمارے رابطے کی زبان اردو رہے تاہم کچھ الفاظ اور جملے اگر سکول کی سطح پر ہی صوبائی زبانوں کے سکھادیے جایاکریں تو اپنائیت کا ایک احساس اُجاگر کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے صوبوں کی ترقی کو سراہا ضرور جائے لیکن مثبت انداز میں اور اسے رول ماڈل بنانے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا جائے اگر ایک صوبے نے عوام کی فلاح کے لیے کوئی منصوبہ بنایا ہے تو دوسروں کو ایسا کرنے کی ترغیب دی جائے نہ کہ اس پر تنقید کی جائے۔ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے دائرہ کا ر کو بڑھا کر عوامی سطح تک لایا جائے اور قوم کو متحد قوم کے طور پر اُبھار اجائے۔ یہ کام مشکل نہیں صرف خلوص سے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email