84

معروف عالم دین اورممتاز سماجی شخصیت قاری فیض اللہ کی طرف سے میٹرک امتحانات میں نمایان پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں اقراء ایوارڈ تقسیم کرنے کی تقریب

چترال (محکم الدین) چترال کے معروف عالم دین اور ممتاز سماجی شخصیت قاری فیض اللہ کی طرف سے میٹرک امتحانات میں نمایان پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو اقراء ایوارڈ بشمول نقد انعامات تقسیم کرنے کی پُررونق تقریب حسب سابق امسال بھی ضلع کونسل ہال چترال میں منعقد ہوئی۔ جس میں ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمن مہمان خصوصی تھے۔ جبکہ پرنسپل گورنمنٹ سنٹنیل ماڈل ہائی سکول چترال فدا محمدنے صدر محفل کے فرائض انجام دی۔ امیر جماعت اسلامی چترال اخونزادہ رحمت اللہ،پرنسپل گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول ایون احسان الحق، سیکرٹری جے یو آئی چترال انعام اللہ میمن، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر چترال فاروق اعظم اعزازی مہمان تھے۔ ایوارڈ تقسیم کی یہ تقریب حسب سابق قاری فیض اللہ کے دست راست ممتازعالم دین خطیب شاہی جامع مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کی زیر نگرانی اور مولانا محمد الیاس جیلانی کی نظامت میں انجام پائی۔ استقبالی خطاب میں مولانا خلیق الزمان نے کہا۔ کہ اقراء ایوارڈ عصری تعلیم میں پوزیشن ہولڈر طلبہ کیلئے ممتازعلم دوست شخصیت قاری فیض اللہ کی طرف سے اٹھارہویں تقریب ہے۔ اوراس کا بنیادی مقصد چترال کے تمام طلبہ کو بلا امتیازان کی نمایاں پوزیشن کی قدر اور حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقدس کتاب قرآن پاک کا پہلا بول اقراء سے شروع ہوتا ہے۔ اورفروغ علم کیلئے نبی پاک کے کئی ارشادات موجود ہیں۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد دین اور دنیا کی تعلیم کو الگ کیا گیا۔ اور یہ مسلمانوں کے خلاف ایک سازش تھی۔ انہوں نے کہا۔ کہ علماء تعلیم کے مخالف نہیں، تاہم عصری علوم کے نام پر مغرب کی اندھی تقلید کسی بھی طور درست نہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ قاری فیض اللہ چترال میں تعلیم کیلئے درد رکھتے ہیں۔ اور یہی جذبہ اُنہیں چترالی طلبہ کو سپورٹ کرنے اور طلبہ میں مقابلے کا رجحان پیدا کرکے چترال کی خدمت کیلئے تعلیم سے بہراورافرادی قوت تیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ انہوں نے تقریب میں شریک تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاری فیض اللہ تکبر اور غرور سے پاک ایک درویش صفت شخصیت ہیں۔ میں نے اُنہیں بہت قریب سے دیکھا ہے وہ محسن چترال ہیں کیونکہ چترال کے نوجوان نسل کی تعلیم سے لے کر قدرتی آفات میں لوگوں کی بلا امتیاز خدمات کر نے تک اُن کا جو کردار ہے۔ وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ ایم پی اے نے قاری کی طرف سے طلبہ میں مقابلے کا رجحان پیدا کرنے کیلئے سکالر شپ اور ایوارڈ دینے کے عمل کو ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے چترال کیلئے شاندار خدمات انجام دینے پر قاری فیض اللہ اور چترال میں اُن کے دست راست مولانا خلیق الزمان کی تعریف کی۔ اور پوزیشن ہولڈر طلبہ اور اُن کے والدین کو مبارکباد دی۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی اخونزادہ رحمت اللہ، ممتاز سوشل ورکرعنایت اللہ اسیر اور صدر محفل پرنسپل گورنمنٹ سنٹنیل ماڈل ہائی سکول فدا محمد نے خطاب کرتے ہوئے قاری فیض اللہ کی کوششوں کو سراہا۔ تقریب کے دوران ایم پی اے ہدایت الرحمن و دیگر مہمانوں کو چوغہ و ٹوپی پہنائے گئے۔ بعد آزان پوزیشن ہولڈر طلبہ میں ایوارڈ اور انعامات تقسیم کئے گئے۔ جس میں سرکاری اور پبلک سکولوں کیلئے الگ الگ کیٹگری رکھے گئے تھے۔ سرکاری سکولوں میں پہلی پوزیشن ہولڈر طالب علم محمد یاسر ولد محمد غفور خان گورنمنٹ سنٹنیل ماڈل ہائی سکول چترال حاصل کردہ نمبر 991کو پچاس ہزار روپے، حنظلہ سعید ولد سعید محمد گورنمنٹ ہائی سکول ایون نمبر978پوزیشن دوئم چالیس ہزاراورساجد اقبال ولد گُل فیروز خان گورنمنٹ سنٹنیل ماڈل ہائی سکول چترال نمبر 976کو تیس ہزار روپے انعام دیے گئے۔ اسی طرح پبلک سکولوں میں بالترتیب پہلی پوزیشن لائیبہ حیات دُختر حیات الرحمن دی لینگ لیڈز سکول اینڈ کالج نمبر 1009کو پچاس ہزار،فرحین فیضہ دختر محمد قاسم دی لینگ لیڈز سکول نمبر 1005کو چالیس ہزارجبکہ قتیبہ پبلک سکول کی عروج عالم دختر فیروزعالم اورتمسین عطاء دختر عطاء الرحمن اے کیو خان سکول لوئر چترال دونوں کے نمبر 1003آنے پر تیسری پوزیشن کے حقدار ٹھہری تھیں۔ اس لئے دونوں کو پندرہ پندرہ ہزار کے انعامات نوازا گیا۔ جبکہ کالاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طالب علم حمید حسین ولد غلام حسین گورنمنٹ ہائی سکول رمبور کو بیس ہزار روپے کا خصوصی انعام دیا گیا۔ تقریب میں چترال کے سیاسی قائدین کے ہاتھوں ایوارڈ مختلف طلبہ کو دیے گئے۔ جبکہ سنٹنیل ماڈل ہائی سکول چترال کے پرنسپل فدا محمد اور ہائیر سکینڈری سکول ایون کے پرنسپل احسان الحق کو خصوصی شیلڈ دیے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email