68

لاوی ہائیڈل پراجیکٹ کے متاثرین کوجائز حقوق دینے میں مزید تاخیری حربے استعمال کیے گئے تو پراجیکٹ خلاف شدید احتجاج کیا جائے گا۔سہراب خان

چترال (محکم الدین) سابق ناظم یونین کونسل شیشی کوہ سہراب خان نے کہا ہے کہ لاوی ہائیڈل پراجیکٹ کے متاثرین اور مقامی افراد کو ان کے جائز حقوق دینے میں مزید تاخیری حربے استعمال کئے گئے۔ تو پراجیکٹ کے ذمہ داروں کے خلاف شدید احتجاج کیا جائے گا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سہراب خان نے کہا کہ 69 میگاواٹ لاوی ہائیڈل پراجیکٹ کے آغاز کے موقع پر انتظامیہ کے ساتھ یہ معاہدہ طے پایا تھاکہ پراجیکٹ کیلئے مقامی ہنرمند افراد انجینئرز، کمپیوٹر اپریٹرز،فورمین، ڈرائیورز وغیرہ کو ترجیح دے کر بھرتی کئے جائیں گے اور مزدور مقامی لئے جائیں گے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقامی ٹیکنکل افراد کو بھرتی کی گئی ہے اور نہ مقامی مزدور لئے گئے ہیں۔ بلکہ غیر مقامی ٹیکنکل اور نان ٹیکنکل افراد کو کھپایا گیا ہے جو کہ مقامی لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ ایریا میں لوگوں کے جو زمینات، باغات و جنگلات متاثر ہوئے ہیں۔ ان افراد کی سادہ لوحی کا بھی ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور ان کے نقصانات کے عوض معقول معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ سابق ناظم نے کہا کہ پراجیکٹ کے زیر استعمال شیشی کوہ روڈ سے بھی مقامی لوگ بری طرح متاثر ہیں کیونکہ گاڑیوں کی اُڑتی دھول اور پھیلتی آلودگی سے سکولوں کے طلبہ اور لوگ کئی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں اور آئے روز ان بیماریوں کے علاج کیلئے مردوخواتین مریضوں کو ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے ذمہ دار اس روڈ پر پانی چھڑکاؤ کرکے گرد و غبار پھیلنے پر قابو پا سکتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پراجیکٹ میں کام کررہے ہیں ان کی ماہانہ تنخواہ بھی اٹھارہ ہزار سے پچیس ہزار روپے ہے اور ان سے چوبیس گھنٹے کام لیا جاتا ہے جو کہ لیبر قوانین کے بھی خلاف ہیں جبکہ گذشتہ کئی مہینوں سے ان ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں جس کی وجہ سے ملازمین کے گھروں میں فاقوں نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ سہراب خان نے مطالبہ کیا کہ چونکہ یہ پراجیکٹ شیشی کوہ ایریے میں تعمیر ہو رہا ہے اس لئے زیر تعمیر بجلی گھر سے شیشی کوہ کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی مہیا کیا جائے اور مذکورہ بالا زیادتی اور ناانصافیوں کا بھی فوری ازالہ کیا جائے۔ بصورت دیگر اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنے اور راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے

Print Friendly, PDF & Email