88

دس گرام سونا……..تحریر: طائب جان

دنیا کی پہلی  جمہوری ریاست 507 قبل مسیح میں یونان کے دس ہزار افراد پر مشتمل شہر ایتھنز  میں قائم کیا گیا۔ اس ابتدائی طرز کی جمہوریت کو بلاواسطہ (Indirect Democracy)  کہتے ہیں جس میں حکمران عوام کو جمع کرکے اُن کی مشاورت سے فیصلے کرتا تھا۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ سب لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا ممکن نہ رہا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز میں  فرانسیسی  فلاسفروں، والٹیئر، مونٹیسکو اور روسو نے پرانے بلا واسطہ جمہوریت  کو نئی شکل دے کر آزاد خیال جمہوریت  (Liberal Democracy)    کی بنیاد ڈالی،جس  کے مطابق عوام  کے حقوق اورآزادی کو سرکاری طور پر تسلیم کر کےتحفظ دیا جاتا ہے۔ جمہوریت  کی بنیادی  نکات میں  جلسے کرنے،   اظہار رائے کی آزادی،اشتراک، برابری، رکنیت ، رضا مندی، ووٹ، زندگی کا حق، اور اقلیت کے حقوق شامل ہیں۔ امریکہ کے1860 میں منتخب   ہونے والے سولہویں صدر ابراھم لنکن نے جمہوریت کی تعریف یوں  کی  ہے ’ جمہوریت لوگوں  کی حکومت ہے جو لوگوں کے ذریعے  ہے اور لوگوں  کے لئے ہے۔‘   وقت گزرنے کے ساتھ  ساتھ  جمہوریت رنگ بدلتی رہی اور ہر علاقے اور قوموں کے رنگوں میں ڈھلتی رہی۔

لنکن صاحب کو شاید اس بات کا بالکل بھی اندازہ   نہ تھا، کہ ہمارے ہاں امیدوار  ذات پات، رنگ و نسل،مالی استعداد، قومیت، مذہب اور فرقوں سے تعلق کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں۔ اور اس نظام سے منتخب ہونے والے افراد جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے طور طریقوں سے نمائندگی کرنے لگتے ہیں۔  یوں ہماری دیسی جمہوریت  نے لنکن کے جمہوریت کی تعریف میں سے ’حکومت  لوگوں  کے ذریعے ہے‘ہی کو کچھ حد تک چُنا اور باقی دوسرے حصے چھوڑ دیا۔ نہ اب حکومت عوام کے ذریعے ہے نہ عوام کیلئے۔  آج سیاسی رہنما   عوام سے صرف چُنے جانے کا   شوق  رکھتے ہیں  اور اس کے بعد یہ نمائندے عوام  کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرتے ہیں جسے تنگ نظر جمہوریت(Illiberal democracy)   کہتے ہیں۔    

ایک بار منتخب ہونے کے بعد  ان  نمائندوں کو مختلف وزارتیں اور عہدوں سے مستفید کیاجاتا ہے۔ جس کے ساتھ  مالی مراعات، چمچماتی گاڑیاں، وی آئی پی پروٹوکول  ، گھروں اور دفتروں پہ کام کرنے کے لیے نوکر چاکر ملتے ہیں اوریہ چاکری جتنی بڑھتی ہے  اُتنے اس کے دام  بڑھتے ہیں۔ اور اگر حکومت میں شامل نہ ہو سکے تو ساری توجہ حکومت کو گرانے میں لگا دیتے ہیں، اس گہما گہمی اور تگ و دو   میں اسمبلی میں اُن کی  نمائندگی کی مدت مکمل ہو جاتی ہے ۔ اور  اُن کو اس بات پہ سوچنے کا موقع  ہی نہیں ملتا کہ لوگوں نے انھیں کس مقصد کے تحت اسمبلیوں تک پہنچایا تھا۔  اس کی وجہ سے سیاسی رہنماوں اور  عوام کے درمیان خلیج بڑھتا  جاتا ہے۔

 سیاسی لیڈروں  اور عوام کے  ترجیحات اور مسائل  میں کوئی چیز قدرے مشترک  ہی نہیں  اور  نہ ہی ان میں رتی بھر  مماثلت ہے۔  لیڈر اپنےاختیارات،  اپنی پارٹی کی اچھائیوں اور دوسرے پارٹیوں کی برائیوں میں ہی الجھا رہتاہے، جبکہ عوام کو اس بات سے کوئی سروکا ر نہیں ہوتا کہ شیر آئے گا، تیر چلے گا یا بلا چلے گا۔ عام آدمی کو اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں کہ  ملک میں دس گرام سونے کی قیمت کتنی ہے، سٹاک  ایکسچنج کی کیا صورتحال ہے، امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں کتنی اونچی اُڑان بھر رہا ہے، کرنٹ اکاونٹ خسارہ کتنا کم یا     زیادہ  ہواہے،  ملک میں افراط زر کی شرح کتنی ہے،  ہم نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے کن شرائط پر اور کتنے قرضے لئے  ہیں ، کس کو جیل میں ڈالا ہے، کس کا نام ای سی ایل میں  شامل ہے، کون ریلوے کا نظام چلاتا ہے۔ اُن  کو اس بات سے بھی کوئی مطلب نہیں کہ کتنے لوگ  کس سیاسی پارٹی پہ جان دیتے ہیں۔  عام آدمی ان باتوں کو سمجھتا ہی نہیں ہے۔

عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی محدود آمدنی میں مہینہ بھر کا خرچ کیسے پورا کرے۔ جیسے گیٹ پہ کھڑا ہوئے ایک سیکورٹی گارڈ کو اس بات کی فکر ہے کہ اُس کی آٹھ ہزار کی تنخواہ  میں وہ گزارہ کیسے کرے۔ اُس کو کھانے کے لیےروٹی، دال، چاول، چینی، اور گوشت سستے داموں میں  چاہیے۔  پینے کا صاف پانی چاہیے۔  صحت کیلئے معیاری اور سستے ہسپتال  چاہیے۔  بچوں کی تعلیم کے  لیئےسکول، کالج، یونیورسٹی چاہیے۔ آمد و رفت کیلئے ٹرانسپورٹ،اورسڑکیں چاہیے۔  بجلی اور گیس چاہیے،   خواتین اور بچوں کا تحفظ چاہیے،   فوری اور سستا  انصاف چاہیے،کھیلوں کے میدان چاہیے، صاف ستھری گلیاں چاہیے۔  لیڈرز نہ ان مسائل  کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی ان مسائل سے واقف ہیں ورنہ ٹی وی پر سونے کی قیمت  اور کس وزیر نے کیا کہا کے بجائے روٹی، دال، سبزی کی قیمت ، تعلیم، صحت   پہ بات ہونی چاہیے۔  اس وقت صورتحال یہ ہے کہ  ٹی وی پہ تعلیم اور صحت کے لیے کوئی مخصوص چنیل ہی نہیں اور درجنوں نیوز  چینلز ہیں جن پہ صرف سیاسی خبریں اور تبصرے ہوتے ہیں۔

اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سیاسی رہنماوں کو اُن امور پر کام  ہی نہیں کرنا چاہیے  جن کےدو رس نتائج نکلتے ہوں   بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان امور  کے ثمرات  عام آدمی تک پہنچے اُن  کو اپنی روز مرہ کے معاملات میں بہتری  اور آسانیاں نظر آئے۔ اگر افراط زر پر قابو پا لیا گیا ہے تو بازار میں چیزیں سستی ہونی چاہیے، اگر بد عنوانی پر قابو پا لیا گیا ہے تو دفتروں میں عام آدمی کے کام باآسانی ہونی چاہیے،   عام آدمی  کو امید نظر آئے، اُن کو مستقبل نظر آئے،  اُن کی جان، مال اور آبرو کی رکھوالی کرنے والا نظام  نظر آئے جس پر بھروسہ کیا جا سکے۔  سیاسی رہنماوں کو عوام  کے درمیان رہنا چاہیے اُن کی طرح سوچنا چاہیے اور ان مسائل کے حل کے لئے کوششیں کرنی چاہیے تب جاکر معاشرے میں بہتری آئے گی، سیاسی رہنماوں پر  اعتماد بڑھے گا اور جمہوریت مستحکم ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email