75

تورکھو روڈ کے سلسلے میں احتجاجی جلسہ دھرنے میں تبدیل، 72 گھنٹوں تک مسئلہ حل نہ ہو ا توبونی کی طرف لانگ مارچ ہوگا۔ متفقہ فیصلہ

اپرچترال(ذاکر محمد زخمی)تورکھو روڈ جو عرصہ داراز سے مسلہ بنا ہوا ہے۔مختلف فوروم پر اواز اٹھا کر ناکامی اور مایوسی کے بعد آ ج تورکھو کے ہیڈ کوارٹر شاگرام میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ موسم کی خرابی کے باوجود تینوں یو سیز تریچ،کھوت اور شاگرام یوسیز کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کرکے

اس اہم مسلے پر اپنی نقطہ نظر سے اور شدید ردِ عمل سے نہ صرف انتظامیہ بلکہ عوامی نمائیدوں کو خبردار کی کہ مسلہ حل نہ ہونے کے صورت میں لانگ مارچ کی جائے گی۔ جلسہ کی صدارت ریٹائرڈ رحمت کریم بیگ جس کا تعلق تریچ سے ہے نے کی۔تلاوت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔

سیاسی شخصیت امان اللہ نظامت کی فرائض ادا کی۔ اپنے اپنے علاقوں کی نمائیندہ گی کرتے ہوئے مقررین نے حکومت کی بے حسی عوامی نمایندوں کی غفلت اور انتظامیہ اور سی۔اینڈ ڈبلیو کی لاپرواہی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور اس عزم کا اظہار کیا کہ

جب تک مسلہ حل نہیں ہوتا یہ مظاہرہ اور دھرنا جاری رہیگا۔۔جلسہ سے سابق ضلعی ناظم سیف اللہ،مولانا امتیاز،حسین زرین، اشرف،شیر مدد، اولیا،جلال الدین، مولانا جاوید حسین امیر جماعت اسلامی اپر چترال،ساقب کمشنر سلطان وزیر،سابق ضلعی ناظم عبد القیوم بیگ، قاضی کھوت، سابق چیر مین عصمت اللہ، میر حیدر خان، وغیرہ شامل تھے۔جو اپنے اپنے علاقوں کی عوام کے نمائیندگی کر رہے تھے۔

جلسے میں لوگوں کی تعداد اندازے سے کہیں زیادہ تھی۔ جلسہ کے آخر میں مسلہ حل ہونے تک دھرنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی گئی کہ اگر مذکورہ ڈیڈ لائن کے اندر مسلہ حل نہ ہوا تو دوبار کال دیکر بونی کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔۔ اس دوران انتظامیہ اپر چترال کے طرف سے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مظاہرین سے مذاکرات کے پہنچے تاہم طویل گفت و شنید کے بعد مظاہرین کو باور کرانے میں ناکام رہے۔ اور مظاہرین دھرنے اور احتجاج سے دستبردار اس صورت میں ہونے کے لیے تیار ہوئے جب اسٹیل پل استارو کے مقام پر پہنچے گا۔ اس طرح احتجاج کے بعد دھرنے کے جگہ کا تعین کرکے اس کے لیے باقاعدہ لایحہ عمل ترتیب دی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email