119

کالاش قبیلے کا معروف سرمائی تہوار چترمس کا آغازڈانسنگ پلیس میں سرازری کی رسم کی آدا ئیگی کے ساتھ کی گئی

چترال (محکم الدین) ہندو کُش کی وادی چترال میں کالاش قبیلے کے سال کا آخری معروف سرمائی تہوار چترمس (چوموس) کا آغاز

پیر اور منگل کی درمیانی شب وادی رمبور کے گاؤں بڑانگورو میں معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ کی کوششوں سے تعمیر ہونے والے نئے ڈانسنگ پلیس میں سرازری کی رسم کی آدا ئیگی کے ساتھ کی گئی۔ تہوار سرازری میں مقامی کالاش قبیلے کے مردو خواتین کے علاوہ بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے

شرکت کی۔ سرازری کی رسم کے ساتھ تہوار کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دی گئی۔ اور روایتی رقص کیا گیا۔ جس میں حسب روایت کالاش مردو خواتین نے شرکت کی۔ اس رسم کی آدائیگی کے دوران ایس اوپیز پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر تھی۔ سرازری در اصل کالاش تہوار چو موس کی پہلی رسم ہے جس کے بعد مختلف رسوم دنوں کی مناسبت سے ادا کئے جاتے ہیں۔ جن میں چوناری،ساویلیکھاری،سوگ کے خاتمے کا اعلان، بچوں کا تہوار پچ انجیک، دیوتا کیلئے قربانی،(چنجا) الاؤ جلانے کی رسم اور عبادت خانے سجانے و نذرو نیاز تقسیم کرنے کی رسومات خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ رمبور ویلی میں پچ انجیک کی رسم حسب روایت شاندار طریقے سے ادا کی جاتی ہے۔ جس میں معروف قربان گاہ سجی گور میں کئی بکروں کی قربانی دی جاتی ہے۔ اور دُعا کے ساتھ مذہبی رہنما قربانی کے گوشت تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اہم مذہبی رسم ہے۔ جہاں قبیلے کے بزرگ،جوان اور بچے جمع ہوتے ہیں۔ اور قربان گاہ سجی گور میں کالاش قبیلے کے روشن مستقبل امن و امان اور باہمی اتفاق و اتحاد کیلئے دُعائیں مانگتے ہیں۔ چوموس تہوار کے دوران کالاش قبیلے کے بزرگ و نوجوان سات دن تک گاؤں سے دور مویشی خانوں سے ملحق مکانوں میں قیام کرتے ہیں۔ بکرے ذبح کرکے اُس کا گوشت بھون کر دیسی شراب کے چھلکتے جام کے ساتھ خوراک بنا لیتے ہیں۔ لیکن بکرے کا گوشت خواتین کو نہیں دی جاتی۔ خواتین کیلئے بکریاں ذبح کی جاتی ہیں، کیونکہ کالاش مذہب میں خواتین کیلئے بکرے کا گوشت کھانا اور شہد استعمال کرنا ممنوع ہے۔ تہوار کے چند دن مخصوص ہوتے ہیں۔ جس کے دوران باہر کے لوگوں کا گاؤں میں آنا جانا کسی سے ملنا مذہبی طور پر بند ہے۔ اور خلاف ورزی کرنے والوں کو باقاعدہ طور پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔ اس لئے مقامی لوگ اس کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات سیاح ان مذہبی پابندیوں کو ان سنی کرکے مسائل کھڑی کر دیتے ہیں۔ سوگ ختم کرنے کی رسم بھی تہوار کا اہم جُز ہے۔ جس کا اعلان گاؤں کے بزرگ اور مذہبی پیشواسوگوار خاندان میں جا کر کرتے ہیں۔ سوگوار خاندان کے مرد سوگ کے دوران کسی بھی قسم کے بال نہیں کاٹتے، اور خواتین سر پر روایتی ٹوپی کوپیسی نہیں پہنتیں۔ سوگ کے خاتمے کے بعد مرد شیو اور خواتین ٹوپی پہننا شروع کردیتی ہیں۔ شرابیریک کی رسم راتوں کو ہوتی ہے۔ جس میں گندم کے آٹے کی خمیر سے مختلف جانوروں کے شبہیں بنائی جاتی ہیں۔ اور اُن کو آگ میں پکاکر مختلف رشتے داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کالاش مذہب میں سوری جاجک کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ یونیسکو نے اس کی اہمیت کے پیش نظر سوری جاجک (سورج گردش عمل دیکھنے) کو ورلڈ ہیرٹیج قرار دیاہے۔ یہ رسم سیاروں اور ستاروں کے علم کے حامل کالاش بزرگ انجام دیتے ہیں۔ اور اسی علم کے ذریعے آیندہ سال کیلئے مو سمیاتی پیشنگوئی کرتے ہیں۔ امسال کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد چوموس فیسٹول میں شرکت کیلئے چترال پہنچ چکی ہے۔ ٹی سی کے پی کی طرف سے بمبوریت میں کیمپنگ پاڈ تعمیر ہو چکے ہیں۔ لیکن ادارے کی طرف سے اب تک ہوٹلنگ کے انتظامات نہیں کئے گئے ہیں۔ اس لئے حالیہ فیسٹول میں بھی یہ خوبصورت کیمپنگ پاڈ استعمال ہوتے نظر نہیں آرہے۔ تاہم سیاحوں کو مقامی ہوٹلوں اور خصوصا کالاش گیسٹ ہاؤسز میں رہائش کے بہترین سہولیات میسر ہیں۔ جبکہ سیاحوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کالاش فیسٹول کے ساتھ ساتھ سیاح ان دنوں ویلیز میں ہونے والی برفباری کا بھی لطف اُٹھارہے ہیں۔ اور یہ سیاحوں کیلئے ایک تیر میں دو شکار کے مصداق کالاش فیسٹول اور موسم دونوں سے لطف اندوز ہونے کا ایک بہترین موقع ہے۔

Print Friendly, PDF & Email