56

سینٹ الیکشن اور اپر چترال…….. آفگن رضا آوی ، اپر چترال

اس میں کوئ دو راۓ نہیں کہ اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینے کے بعد اس کے مسائل میں بھی وقت وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا ۔۔۔
ڈسٹرکٹ کو چلانے کیلے جو ایڈمنسٹریشن ہمیں ملی ہے، اس کی ناکامیوں کے بارے میں اگر لکھا جاۓ تو ایک مکمل کتاب کی شکل اختیار کرے گا۔۔۔

سڑک۔۔۔
اپر چترال کے رابطہ سڑکوں میں خرد برد کی بھی مثال سب کے سامنے عیان ہے ۔۔۔ خوا وہ یارخوں روٹ میں گھپلا ، کرپشن ہو یا تورکھو سڑک میں تاخیر ۔۔۔۔
یہ دونوں درا ، ان دو دروں میں عوام کا ہجوم سویا رہتا ہےے ، میں سویا اسلے کہتا ہوں کیونکہ جب یارخوں روٹ میں سڑک کا الزام ایک سیاسی نمائندے کے اوپر لگا ، تو ان میں سے کی بھی مجاز نہ ہوی کہ اس سے پوچھ سکے ۔۔۔۔

بجلی ۔
اپر چترال کے ہیڈکواٹر بونی ،میں ابھی تک بجلی کا کوئ صحیح پاور ہاوس نہیں ۔۔۔۔۔ یہاں پر گورنمنٹ کام ہو یا افیشل کام ، سماجی ہو یا دیکر ، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سخت پیریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ بڑے بڑے آفیسوں میں جینیریٹر سے کام چلایا جاتا ہے جبکہ بازاروں ، دکانوں میں بجلی کا شدید فقدان ہو ہوا دیکھائ دیتا ہیں ۔۔۔۔
انٹرنیٹ نہ ہونا بھی ایک عزاب ہے جسے لوگ ابھی محسوس کر رہے ہیں ۔۔ یہ کچھ مخصوص علاقوں کی کچھ چیدہ مسائل ہے اور لوئر چترال کو اس زمرے میں دیکھا جاۓ تو کافی بہتر ہیں ۔۔۔۔۔اسلے اگر سینٹ کا ممبر اپر چترال سے ہو تو ، اس سے علاقے کو بہت ہی فائدہ ہوگا اور علاقے میں موجود مسائل و مشکلات کا حل کچھ بہتر ہوگا ۔۔۔۔
یہاں سے نمائنده اگر سینٹ میں ہوگا ، تو ہمارے مشکلات اسان ہونگے ۔۔۔۔۔
اپ تمام افراد سے گزارش ہے کہ اس بات پر بھی غور کریں ۔۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email