110

کیامعصوم شاہ واقعی بے قصور ہے۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

پشتوکامشہورمقولہ ہے کہ ’’ستادخیرہ می توبہ شہ خوداسپی دی رانہ ولہ‘‘یعنی مانگنے پر کچھ بھی نہ دومگراپنے کتوں کوقابومیں رکھو۔سالوں قبل میرے ایک نامی گرامی صحافی دوست نے ایک سیاسی شخصیت جوکہ اس کا قریبی دوست تھا کی ذات پر شائد یہ سوچ کرکالم لکھاتھاکہ دوست خوش بھی ہوجائے گااور اسے سیاسی فائدہ بھی ملے گا مگرکھوداپہاڑنکلاچوہاکے مصداق والہانہ محبت اور قربت کے اظہارمیں اس نے دوست کی ذات کے ساتھ ایسی خوبیوں کومنسوب کیا جن کااس کی ذات سے دورکابھی کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا لہٰذاکالم کی اشاعت سے قبل جہاں اس کا دوست اپنی ذات پر کالم شائع ہونے پرخوش ہورہاتھاوہیں اخبارمیں کالم چھپنے کے بعدخود سے منسوب غیرمعمولی خوبیاں پڑھ کراسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ دوست نے دوستی نبھائی یادشمنی میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اور نہ جانے کس پرانی دشمنی کابدلہ لیاہے۔ اسے کوئی ترکیب نہیں سوجھ رہی تھی کہ کیامنہ لے کر عوام کا سامناکرے۔خیراس قصے کوتوسالوں بیت گئے مگرگزشتہ دنوں ایک مؤقر روزنامہ اخبار کے سنڈے میگزین میں ایک ساتھی قلم کارکی اسی طرح کی ایک تحریرزیرنظرآئی جس کاآغازسے اختتام تک مرکزو محور خیبرپختونخواکے سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی کے معاون خصوصی سید معصوم شاہ رہے جومالی ضابطگی کے الزام میں نیب کی جانب سے درج مقدمات میں طویل عرصے سے جیل میں ہے۔ سابق وزیراعلیٰ کے سابق معاون خصوصی مالی بدعنوانی میں ملوث رہاہے کہ نہیں،کیاوہ واقعی بے گناہ ہے اورنیب کے وہ تمام الزامات اور درج مقدمات غلط اور بے بنیاد ہیں جن کا سامناکرتے ہوئے اسے جیل کی زندگی گزارنی پڑرہی ہے یایہ کہ نیب کے الزامات اوردرج مقدمات درست ہیں جبھی تواس کی جان بخشی نہیں ہورہی مجھے اس بحث میں پڑنے میں کوئی دلچسپی ہے نہ عدالتی معاملات میں دخل دینے جیسے توہین آمیزفعل کاارتکاب کرسکتاہوں مگرساتھی قلم کارکی تحریر پڑھتے ہوئے باوجود بڑی کوشش کے میں یہ سمجھنے سے قاصررہاکہ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے سید معصوم شاہ کوبے گناہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے یاان کے اعترافی بیانات کاحوالہ دے کرانہیں مجرم قرار دینے کی کوشش میں کامیاب رہے ہیں۔ایک جانب موصوف لکھتے ہیں کہ معصوم شاہ کوان کی ناکردہ گناہوں سے نجات نہیں مل رہی لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی بتارہے ہیں کہ قومی احتساب بیوروکولوٹی گئی دولت واپس کرنے کی حامی بھرنے کے باوجودان کی جاں خلاصی نہیں ہورہی ۔ موصوف اپنے دلائل کوآگے لے جاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ معصوم شاہ نیب کاواحد بد قسمت ملزم ہے جس کی پلی بارگین کے تحت رہائی کی درخواست 9کروڑروپے جمع کرانے کے باوجود منظورنہیں ہورہی۔اپنی تحریر کووسعت دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ معصوم شاہ نے قومی احتساب بیوروکے ساتھ 25کروڑ87لاکھ روپے پر پلی بارگین کررکھی ہے۔ نیب اور اس کے درمیان جومعاہدہ طے ہواہے اس کے تحت معصوم شاہ نے پہلی قسط نوکروڑروپے اداکردی ہے جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لئے بیان حلفی جمع کرایاہے جس پر احتساب بیورونے اس کی رہائی کے لئے احتساب عدالت میں درخواست جمع کرائی تاہم احتساب عدالت نے درخواست منظورکرانے سے انکارکیاحالانکہ اب تک نیب کے ساتھ پلی بارگین کرنے والے ملزمان میں ایک بھی ملزم ایسانہیں جس کی پلی بارگین احتساب عدالت سے منظورنہ ہوئی ہو۔نیب نے اس کی رہائی کی درخواست احتساب عدالت میں جمع کرائی تو احتساب جج نے درخواست منظورکرنے کی بجائے نیب اور ملزم کوایک سوالنامہ پیش کیاجس میں پوچھاگیاہے کہ ملزم نے انکم ٹیکس اور ویل ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسزاداکئے ہیں کہ نہیں اوران کی آمدن کے ذرائع کیاتھے۔ سوالنامے میں اس قسم کے مزید سوالات بھی اٹھاکرجوابات مانگے گئے ہیں۔ موصوف لکھاری لکھتے ہیں کہ سید معصوم شاہ نے نیب کے روبرواپناجرم تسلیم کیاہے کہ اس نے بحیثیت وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کرپشن کی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کرپشن کی رقم واپس کرنے کوتیار ہے ۔لکھاری کے مطابق جب نیب اور معصوم شاہ کے مابین 25کروڑ87لاکھ روپے کی مفاہمت ہوئی تواس کے باوجود اس کی عدم رہائی ایک سوالیہ نشان بنتاجارہاہے ۔یہاں اٹھتے سوال یہ ہیں کہ اگر سید معصوم شاہ نے کرپشن نہیں کی اور خود کوبے گناہ قراردیتاہے تو25کروڑ 87لاکھ روپے کامعاہدہ نیب کے ساتھ کرنے کی کیاضرورت تھی اوریہ کس خوشی میں کیاہے اس کی منطق سمجھ میں نہیں آتی جس میں اس نے 9کروڑروپے کی خطیر رقم نیب کوجمع بھی کرائی ہے اور بقیہ رقم کی ادائیگی کے لئے حلف نامہ جمع کیاہے ۔اس نے اگر کرپشن نہیں کی ہے تو اتنی زیادہ رقم اس کے پاس کہاں سے آئی۔ اوراگراس نے نیب کے سامنے اعتراف جرم بھی کرلیاہے،مبینہ معاہدے کی روسے کچھ رقم لوٹا دی ہے اور بقیہ کی ادائیگی کاتحریری وعدہ بھی کیاہواہے توپھراسے بے گناہ قرارکیونکر دیاجاسکتا ہے اور ایسے میں اگر عدالت کی جانب سے اس کی رہائی نہیں ہورہی ہے توعدالت کوکس چیزکے لئے قصوروارٹہرایاجاسکتاہے۔ اگرمتعلقہ عدالت نے سوالنامہ دے کرانکم ٹیکس،ویل ٹیکس اور دیگرٹیکسزکی ادائیگی اور ذرائع آمدن کاپوچھاہے تو اس میں قابل اعتراض بات کیاہے، اگرسوال اٹھایاجاتاہے کہ معصوم شاہ واحدملزم ہے جس کی پلی بارگین کے تحت رہائی نہیں ہورہی ہے جبکہ دوسری جانب نیب کاایساکوئی بھی ملزم نہیں جس کی پلی بارگین کے تحت رہائی نہ ہوئی ہوتوکیااس کایہ مطلب لیاجائے کہ پہلے بھی غلط ہواہے اور اب بھی غلط طریقہ کاراپنایا جائے۔کہنے لکھنے اور بتانے کامطلب یہ ہے کہ ایک ہی کمرے کے اندر گرمی اور سردی کے دوالگ الگ موسم نہیں ہوا کرتے ۔ یاتویہ کہا جائے کہ ملزم نے کوئی جرم کیاہی نہیں یاپھر اعتراف جرم کے بعد کوئی ملزم کس طرح بے قصورہوتاہے اس کی وضاحت کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں