74

سوشل میڈیا نے بچوں کو بچہ نہیں رہنے دیا۔۔۔ نغمہ حبیب

آجکل کا بچہ عجیب حالات کا شکار ہے اسی طرح والدین بھی عجیب مخمصے میں گرفتار ہیں سوشل میڈیا کے اس دور میں بچوں کی تربیت کسی امتحان سے کم نہیں۔ اس میں کچھ قصور والدین کا ہے جنہوں بچوں کو کھلی چٹھی دے رکھی ہے اور کچھ قصور حالات کا بھی ہے کہ جن سے جتنا بھی بچوں کو بچا کر رکھا جائے کہیں نہ کہیں وہ اس کے زیراثر آہی جاتے ہیں۔ ہم بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو موبائل فون پکڑا دیتے ہیں بہت دفعہ مائیں اپنا کام آسان بنانے کے لیے ایسا کرتی ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بچے اس کے عادی ہوجاتے ہیں۔ آپ کسی بچے سے موبائل لینے کی کوشش تو کر کے دیکھئے اور پھر سال دو سال کے بچے کی ضد دیکھئے جو موبائل واپس حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے اسی طرح جب وہ سکول جانے کی عمر تک پہنچتا ہے تو پڑھائی سے زیادہ مشق اس کی موبائل فون کی ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ بچے جسمانی ورزش سے بہت دور ہو چکے ہوتے ہیں جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت بُری طرح متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ چستی جو ایک نسل پیچھے کے بچوں میں تھی آج کی نسل میں نہیں۔ میں نے اپنے اکثر طلباء کو تقریباًبند آنکھوں کے ساتھ سکول آتے دیکھا ہے جو رات رات بھر موبائل فون پر بیٹھیے رہتے ہیں۔ یوں موبائل والوں کا کاروبار تو چمک جاتا ہے لیکن ایک پوری نسل اپنی صلاحتیں کھو رہی ہے۔ بچے میدانوں سے اُٹھ کر کمروں تک محدود ہوگئے اسی طرح معاشرتی تعلقات پر بھی انتہائی منفی اثر پڑا ہے۔ اس پہلو سے بچے اور بڑے یکساں متاثر ہوئے ہیں۔ وہی ہم لوگ کہ ایک دوسرے کو ملنے ایک دوسرے کے گھر جایا کرتے تھے آمنے سامنے گپ شپ ہوتی تھی اپنائیت کا احساس ہوتا تھا ایک دوسرے کو دیکھنے سے پیار اور محبت بڑھتی تھی پھر بات فون پر ہونے لگی اور پھر اس سے بھی نیچے آکر میسجز تک بات پہنچی یعنی براہ راست تعلق کم سے کم ہونے لگا۔ بچوں کے پہلو سے بات کی جائے تو اُن کے لیے اپنے دوستوں کی اہمیت کم سے کم ہونے لگی بلکہ وہ اس کے محتاج ہی نہ رہے باہر میدانوں میں، گلیوں میں، گھر کے صحن میں کھیل ہونے کی بجائے یہی بچے کمروں تک بھی محدودیوں ہوگئے کہ ایک کمپیوٹر اور ایک کھلاڑی بچہ اور یوں دوسرے انسان کی حاجت سے آزاد۔ دبئی میں ایک ٹورسٹ کوچ کے کنڈیکٹرنے سیلفی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بڑے پتے کی بات کی۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے سیلفی اس لیے نہیں پسند کہ اس نے انسانوں کو عاجزی سے پاک کردیا ہے اس نے اپنی بات کی تو ضیح اس طرح کی کہ پہلے ہم کسی سے درخواست کرتے تھے کہ ہماری تصویر اُتار دو اب ہم خود ہی یہ کام کر لیتے ہیں اور اس طرح دوسرے انسان سے جو چند لمحوں کا سہی تعلق بنتا تھا، وہ نہیں بن پاتا۔ اسی طرح ہم لائیبریوں میں جو تعلق بناتے تھے وہ نہیں رہا کہ انٹرنٹ پر موجود معلومات ہمارا کام کردیتی ہیں۔ کتاب سے رشتہ تو اب ختم ہی ہوتا جا رہا ہے بلکہ نئی نسل کا یہ رشتہ تو بہت حد تک ختم ہو چکا ہے۔ یہ تو کمپیوٹر ائز یشن کے معاشرتی پہلو تھے اب ذرا آئیے نفسیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ بے شمار ایسی کمپیوٹر گیمز بنائی گئی ہیں اور بنائی جارہی ہیں جنہوں نے بچوں کو اپنے ح

Print Friendly, PDF & Email