90

مہنگائی مہنگائی اور مزید مہنگائی ……….نغمہ حبیب

ملک شدید مہنگائی کی زد میں ہے۔ غریب تو غریب متوسط طبقہ زندگی گزارنے سے لاچار نظر آرہاہے۔ حکومت کی طرف سے بار بار کہا جا رہا ہے کہ معاشی صورت حال بہتر ہو رہی ہے غلط وہ بھی نہیں کہہ رہے صورت حال بہتر ہو رہی ہوگی لیکن صرف ان کے لیے جو حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں یا کارخانوں کے مالک ہیں فلور ملوں اور شوگرملوں والوں کو فرق نہیں پڑ رہا۔ وہ اگر کہیں بھی کہ گندم یا گنا مہنگا ملے گا تو آٹا اور چینی مہنگی ہی ہوگی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہی گندم اور گنا اُگانے اور بیچنے والا چھوٹا کسان اور زمیندار آج دو وقت کی روٹی کو ترس رہاہے اگر گندم پانچ روپے مہنگی ہو رہی ہے تو آٹا بیس روپے مہنگا ہو رہاہے اور اگر گنادس روپے مہنگا مل رہا ہے تو چینی تیس روپے مہنگی مل رہی ہے لہٰذا چھوٹے زمیندار اور کسان کے حالات تو بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور تنخواہ دار اور دیہاڑی دار طبقے کا تو پوچھیئے مت۔ مہنگائی کی شرح آسمان کو چھورہی ہے تو تنخواہ میں اضافہ صفر۔ لوگ دو دو تین تین نوکریاں کرکے بس اپنی ضروریات ہی پوری کر رہے ہیں اور وہ بھی آدھی ادھوری اور دیہاڑی دار تو تین وقت میں کبھی ایک اور کبھی دو وقت کی روٹی کھالے تو بھی بہت ہے۔آپ کسی حکومتی ماہر معاشیات کے ساتھ بیٹھ جائیں تو وہ آپ کو معاشی بھول بھلیوں کے گھن چکر میں ایسے گھما دیں گے جو کسی کی سمجھ میں نہیں آئے گا اور مجبوراً جو سب اچھا ہے کا نتیجہ یہ ماہرین نکالیں گے آپ کو ماننا پڑے گا۔یہ سب ہوگا اور اللہ کرے سب اچھا ہو لیکن عام آدمی کو غرض ان اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اپنے پیٹ، علاج،تعلیم اور روزمرہ کے اخراجات سے ہے جو کسی طرح بھی مثبت نہیں۔ جہاں دال ساگ کی قیمت بھی اس درجے تک جا پہنچے کہ غریب اسے کھانے کے قابل نہ رہے جہاں تیل گھی کی قیمتوں میں یکمشت بائیس اور ستائیس روپے کا اضافہ ہوجائے وہاں کوئی اپنے بچوں کا پیٹ کیسے بھرے۔ یہ تو ہے گھر گھر کی کہانی کہ کھانا تو سب نے کھانا ہے چاہے وہ محل میں رہے یا جھونپڑی میں اچھا کھائے یا بُراامیر اچھاکھائے تو غریب پانی میں نمک مرچ اُبال کر کھائے کہ اب یہ کھانا بھی مشکل لگ رہا ہے۔ اب ذرا پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں پر نظر ڈالیے جو کورونا کی وجہ سے ایک دفعہ نیچے آئی تھیں اور اس کے بعد سے مسلسل رو بہ ترقی ہیں یعنی اوپر ہی اوپر جا رہی ہیں اور ہر پندرہ دن بعد اس میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا اثر لا محالہ ہر چیز کی قیمت پر پڑتا ہے لیکن اُس وقت جب تاریخ میں پہلی بار تیل بے قیمت ہوا تب بھی اسے خرید کر ذخیرہ نہ کیا گیا بلکہ ہمارے پاس ایسی کوئی سہولت ہی نہیں تھی اس لیے تیل سستا ہونے کے بعد جلد ہی دوبارہ قیمتی ہوگیااور اس کے بعدسے قیمتی ترہی ہوتا جا رہا ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے کا مطلب کیا ہوتا ہے یعنی ہر چیز مہنگی ہوجانا۔ نقل و حرکت سے لے کر نمک مرچ تک ہر چیز پر اثر پڑ جاتا ہے یہ سب جانتے ہیں لیکن پھر بھی قیمتیں مسلسل بڑھائی جاتی ہیں۔ اب ذرا بجلی کو لیتے ہیں جس کی اس شدید سردی میں بھی کسی نہ کسی پیمانے پر لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے کہیں کم کہیں زیادہ اوربِل اس موسم میں بھی دبا کر آتا ہے مہنگی گیس اور بجلی کا مطلب ہے مہنگی پروڈکشن اور اس پر مہنگا پیٹرول یعنی مہنگی ترسیل اور یوں چیزوں کی اصل قیمت ہی قابو سے باہر ہو جاتی ہے اور بیچارہ صارف پِس جاتا ہے۔لیکن صاحبان اقتدار کو چونکہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے فرق نہیں پڑتا اس لیے وہ اس پر وقت ضائع نہیں کرتے اور زیادہ وقت سیاسی جوڑ توڑ میں صرف کر دیا جاتا ہے آج اگر پی ڈی ایم تحریک چلا رہی ہے جو مہنگائی کے نام پر شروع کی گئی لیکن بات پھر اصل یعنی حصول اقتدار تک آگئی تو کل آج کی حکومت بھی یہی کر رہی تھی عمران خان با آواز بلندنعرے لگاتے تھے عام آدمی کی باتیں کرتے تھے بلندبانگ دعوے کرتے تھے حکومت میں آنے کے بعد بھی ابتداء میں بہت ساری ایسی باتیں کی گئیں لیکن بات وہی ڈھاک کے تین پات عوام اُسی طرح مہنگائی کی چکی میں پِس رہے ہیں بلکہ روز بہ روز اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور ساتھ ہی عوام کی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔اگر حکومت سنجیدگی سے اس طرف توجہ دے اور ماہرین خلوص دل سے منصوبہ بندی کریں تو عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ حکومت کو اپنی معاشی منصوبہ بندی کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا ورنہ لوگ بھوک اور افلاس کے ہاتھوں عدم برداشت بلکہ جرائم پر آمادہ ہو جائیں گے اور زوال پذیر معاشرہ مزید تباہی کی طرف جائے گا اور پھر حکومت کو جو ابھی سے ہتھیار ڈالے بیٹھی ہے اس کے لیے حالات کوسنبھالنا مشکل نہیں نا ممکن ہوجائے گالہٰذا حالات کو ادھر تک پہنچنے سے پہلے کوئی نہ کوئی بندوبست کرنا ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email