93

ڈھڑکنوں کی زبان….خدمت والدین بڑا امتحان ‘‘ …تحریر محمد جاوید حیات 

وہ درد سے یا زندگی کی افسردگی ، شکستگی ، نامرادی ، برے انجام ، اپنی بے بسی پتہ نہیں کس وجہ سے سر تکیہ سے نہیں لگا رہا تھا ۔ مسلسل اضطراب میں تھا بے چینی تھی سر ہلا رہا تھا ۔کبھی ادھر کرتا کبھی ادھر کرتا میں سر ہانے بیٹھا تھا ۔اس کی آنکھوں میں افسردگی کے آنسو تھے ۔عمر قریب 80 سال تھی ۔ اپنے وقت کا بے مثال تنو مند جوان تھے ۔ دولت مند تھا۔د و بیٹے تھے ۔ بہو بیٹیا ں تھیں۔ پوتے پوتیاں تھیں مگر وہ قریب المرگ ہوتے ہوئے بھی تنہا تھے ۔ میں اس کے سر کے نیچے ہتھیلی رکھ کر اس کے سر کو ذرا اوپر اُٹھا یا ۔ اب زم زم پلایا ۔تو افاقہ ہوا ۔ اس نے میرا شکر یہ ادا کیا ۔اور کہا کہ بیٹا میں اپنی آنکھوں میں آتے ہوئے ان شر مند ہ آنسوؤں کی کہانی تمہیں سناؤں۔۔۔ بیٹا ذرا غور سے سنو! بیٹا میرا ابو میر ی طرح دولت مند آدمی تھے ۔ گھر میں کسی چیز کی کمی نہ تھی ۔ گاؤں میں رسوخ تھا طبیعت کا تند تھا اس لئے لوگ ڈرتے تھے ۔ میں جوان تھا نئی میری شادی تھی ۔ ماں زندہ تھی کہ ابو بیمار ہوگئے ۔۔بیمار ی رو ز بروز بڑھتی رہی تھی مگر ہم تھے کہ اس سے دور ہوتے گئے ۔ایک روز صبح کا وقت تھا بیٹا ہم دونوں دیر سے اُٹھ کر ناشتہ کیا ۔ اور دونوں ابو کے کمرے میں گئے ۔ دیکھتے ہیں کہ ابو سر تکیے سے لگا کے اسی طرح ہلارہے ہیں ماں سر ہانے بیٹھی انسو بہا رہی ہے ۔ اتنے میں ابو کو قے آگئی ۔اس آواز سے ہم دونوں چونک گئے ۔بیٹا میں نے رومال اور تمہاری انٹی نے دوپٹے کا پلو منہ پہ رکھا ۔ بیٹا ہم دونوں جلد باہر نکلے اس سمے تا یا جی ابو کی بیمار پرسی کے لئے آرہا تھا ۔ ہم نکلے وہ کمرے میں د اخل ہوئے اور ہاں شاید کہ یہ قے نہیں ابو کی اخری ہچکی تھی اور اس کی زندگی کا خلاصہ تھا ۔ ہم اپنے کمرے میں تھے کہ تایا جی کی اواز آئی ۔۔ ’’ تیرے ابو فوت ہوئے کفن دفن کا بندوست کرو۔ تایا جی کی آواز کر خت تھی ۔۔۔ ہم نے کیا ۔بیٹا ۔۔ پھر میں بڑا کامیاب ہوا دوبئی گیا ۔۔ سعودی عرب گیا ۔۔ پیسہ لا یا دکان کیا ۔بیٹے جوان ہوئے بہو بیٹیان آئیں۔ لیکن پتہ ہے بیٹا میں اس ’’ امتحان ‘‘ میں فیل ہو ا تھا ۔ فیل ہی رہا ۔ میری زندگی کی وہ ساری کامیابیاں میر ے کچھ کام نہ آئیں ۔آج میں تنہا ہوں اور ہاں میرے بیٹے آج شاید میری زندگی کی اخر ی ہچکی بھی نہ سن سکیں۔میں اوندھے منہ ’’ قے ‘‘ ’’ قے ‘‘ کر تا کر تا اُس جہاں کو سد ھار جاؤں۔۔ بیٹا تجھ پہ یہ امتحان گذرا کہ نہیں۔۔ میں نے کہا بابا۔ گذرا ہے۔۔ پر چے کیسے ہوئے ۔۔ پتہ نہیں بابا نتیجہ آنا شروع ہو گیا ہے۔۔ ۔ میں جب امتحان دے رہا تھا بابا تو اپنے صاحب فراش ابو کو ہاتھوں پہ اُٹھا کے بڑ ی مشکل سے واش روم لے جاتا ۔۔ حاجات کے دوران اس کے ساتھ ہونا پڑتا ۔ جب واپس اس کو اس کے بیڈ پہ لے آتا۔۔ تومیر ا تعلیم یافتہ ابو میری ڈھارس بند ھا تا اور کہتا بیٹا تیرا پر چہ اے ون ہوا ‘‘ تیر ا ریزلٹ اللہ کے پاس ہے۔امتحان ختم ہوا بابا اب نتیجے کا انتظار ہے ۔ انتظار اس لئے کہ فلحال میں تنو مند ہو ں کسی لمحے ،کسی چیز کی ،کسی طرح کا انحصار نہیں کرتا، کسی کی کسی قسم کی مدد کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔اگر عمر نے وفا بڑھا یا آگیا تو نتیجہ ضرور دیکھو نگا ۔۔
اوپن یونورسٹی کی بی ایڈکی ورک شاپ تھی ۔ ایک سیدھا سادھا دیہاتی بابامیرے پاس آیا ۔ کہا بیٹا میری بچی ادھرہے میں نے بچی کوبلایا اور بابا سے کہا بابا یہ تمہاری بچی ہے مگر میری چھوٹی بہین ہے۔ اس کی فکر نہ کر میں اس کا بھائی ادھر ہر وقت اس کی مدد کو تیار ہو ں بابانے ایک ہاتھ بیٹی کے سر پر رکھا ا وراس کادوسرا ہاتھ میں نے اُٹھا کر چوم لیا کیو نکہ اس سمے میرا ابو مجھے بہت یا د آئے ۔بچی نے سربابا کے سینے پہ رکھی
اور کہا ابو تو کیوں آئے ۔۔۔ بابا رخصت ہوا اور بعد میں یہ بچی میرے پاس آئی اور میرے ہاتھ کو بوسہ دے کر کہا سرجی تو نے میرے ’’ ان پڑھ ‘‘ ابو کا ہاتھ چو م لیا ۔یہ جملہ سنکر میں تڑپ اُٹھا اور کہا بیٹا ابو اور امی ان پڑھ نہیں ہوتے ۔ ان کی گود اور کندھا تمہاری پہلی درسگاہ ہوتی ہے اگر وہ ان پڑھ ہوتے تو یہ درسگا ہ ’’ کیسے ہوتے ۔ بچی کی آنکھوں سے آنسو روان ہوئے ۔ میں نے کہا بیٹا مجھے تمہاری محبت پہ رشک آیا ۔ ان نے کہا سرجی میرے ابو میری دنیا ہیں آج وہ بابا تو اس دنیا میں نہیں مگر وہ محبت کی پتلی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ مدینہ منورہ میں ہے اور روضہ رسول ؐ کی ہمسائیگی کی قابل رشک زندگی گذار رہی ہیں ۔ہاں دوستو! خدمت والدین عظیم امتحا ن ہے ۔لمحہ لمحہ امتحان ہے سیکنڈسیکنڈ پیر پر ہے ۔لمحوں کا حساب رکھنا ہے اپنے لمحون کو سنوارنا ہے۔ ہاں دوستو! والدین کے بڑھاپے کا ذکر قرآن میں ہے۔ان کی ضعیف العمری میں ان کی کیفیت بتائی گئی کہ وہ نافہم بچے کی طرح ہوتے ہیں۔ضد کرتے ہیں ۔اُڑتے ہیں بھولتے ہیں الٹی سیدھی فرمائشیں کرتے ہیں ۔مگر بچوں اور بوڑھوں میں فرق یہ ہے کہ بچوں کی فرمائشیں اور ضدیں پیاری لگتی ہیں ۔ بوڑھوں کی ضد پہ غصہ آتا ہے اب غصہ پینا ہے دوستو! امتحان پا س کرنا ہے ۔یہ محبت کابڑا امتحا ن ہے ۔ یہ دنیا کا عارضی امتحان نہیں کہ سی ایس ایس کر کے بڑا افیسر بنو ریٹا ئرڈ ہو کے مرجاؤ ۔ نہیں نہیں اس امتحان پر دونو ں دنیا ؤں کا انحصار ہے اگر پاس ہوا تو دونوں دنیا ئیں سنور جائیں گی اگر خدا نخواستہ فیل ہو ئے تو دونوں میں تباہی ۔۔ دوستو! اجکل کا دور افراتفری کا ہے پرآشوب ہے ۔ نفسانفسی کا ہے ۔ مگر جو والدین کا دامن پکڑ ے گا وہ کامیاب ہوگا خدا کی قسم وہی سی ایس ایس کریگا۔۔ ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں