196

برٹش کونسل کی مالی معاونت سے ایس آر ایس پی کے اس پراجیکٹ نے نہایت ہی منفرد، سائنسی اور نتیجہ خیز انداز میں کا م شروع کیا ہے

چترال (نمائندہ ) سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام پراجیکٹ ٹیک اے چائلڈ ٹو سکول  کے زیر اہتمام منعقدہ کمیونٹی ایونٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سکول میں داخلے سے رہنے والے بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے اور اس کے نتیجے میں علاقے سے ناخواندگی کا مکمل خاتمہ کرنے کا کام صرف محکمہ تعلیم کا نہیں بلکہ اس میں سول سوسائٹی کا کردار بھی اہم ہے اور برٹش کونسل کی مالی معاونت سے ایس آر ایس پی کے اس پراجیکٹ نے نہایت ہی منفرد، سائنسی اور نتیجہ خیز انداز میں کا م شروع کیا ہے جس کے ثمرات بہت جلد ہی سامنے آئیں گے۔ جمعرات کے روز منعقدہ یک روزہ اورینٹیشن ورکشاپ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) حیات شاہ، ایس آر ایس پی کے ڈی پی ایم طارق احمد، TACSکے پراجیکٹ کوارڈینیٹرعباد الرحمن،اے ڈی ای او (میل) احمد الدین، اے ڈی ای اوز(فیمل) سرور پروین، رابعہ عیسیٰ، عائشہ، کمیونٹی موبلائزر عارف اور پراجیکٹ کے تحت کام کرنے والے مختلف دیہات سے آئے ہوئے محلہ کمیٹیوں کے عہدیداران اور ایلمبیسڈر کے نام سے رضا کاروں نے کثیر تعدا د میں شرکت کی۔ حیات شاہ نے اپنے خطاب میں تعلیم کے میدان میں ایس آر ایس پی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ سکول میں داخلے سے محروم رہنے والے اور سکول میں داخلے کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھنے والے طلباء وطالبات کو سکول میں داخل کرانا اور انہیں سکول چھوڑنے سے روکنا ایک قومی فریضہ ہے جس سے قوم کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایس آر ایس پی نے تعلیم کے سیکٹر میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سی ڈی ایل ڈی پروگرام میں کام کرنے کے ساتھ چترال میں کوالٹی تعلیم کے لئے قائم ادارہ اسامہ شہید کوچنگ اکیڈیمی کی عمارت بھی بنارہی ہے۔ انہوں نے ٹی اے سی ایس پروگرام میں محلہ کمیٹیوں اور محکمہ تعلیم کے درمیان فاصلے کو کم کرنے اور کوارڈینیشن کا نظام بہتر بنانے پر زور دیا اور کہاکہ سکول سے باہر رہنے والے بچوں اور سکول سے خارج ہونے والے بچوں کے بارے میں مکمل طور پر معلومات بہم پہنچائی جائیں کہ کن وجوہات کی بنا پر وہ تعلیم سے محروم رہ رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل کے لئے کوئی حل ڈھونڈا جاسکے۔ اس موقع پر طار ق احمد نے اپنے خطاب میں کہاکہ ایس آر ایس پی نے 2002ء میں چترال میں قیام کے بعد سے ایجوکیشن کے سیکٹر میں مختلف انداز میں کام کرتا رہا ہے جن میں انفراسٹرکچروں کی تعمیر، بحالی اور بہتری کے علاوہ معیار تعلیم میں اضافے کے لئے مختلف اقدامات اور موجودہ پراجیکٹ میں ان بچوں کو سکول میں داخل کرنے میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی معاونت ہے جوکہ کسی وجہ سے داخلے سے محروم رہ گئے ہیں جن کو مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے تعلیم کے سیکٹر میں ایس آر ایس پی کے زیر اہتمام انجام پانے والے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے 2005ء میں ایل ایف ایل نامی پراجیکٹ سے لے کر 2010میں RAHAپراجکیٹ اور2014میں PEACEپروگرام کے ساتھ ساتھ PATRIPپراجیکٹ کا نام لیا جن میں سکولوں کی مخدوش عمارتوں کی بحالی سمیت ناپید سہولیات کی فراہمی اور ٹیچرز کی تربیت اور کئی مقامات پر اضافی کلاس رومز اور لیبارٹریوں کی تعمیر اور پاکسان غربت مکاؤ فنڈ کے تحت پراجیکٹ میں دروش کے دو نوں یونین کونسلوں میں بچوں کو ہزاروں کی تعداد میں سکول بیگز اور دوسرے سازوسامان کی فراہمی کا ذکر کیا۔ پراجیکٹ کوارڈینیٹر عبادالرحمن نے کہاکہ برٹش کونسل کے مالی تعاون سے اس پراجیکٹ میں تعلیم کو مرکز ومحور بنایا گیا ہے اور ان بچوں اور بچیوں کو سکول میں داخل کرانا مقصد ہے جوکہ کسی نہ کسی وجہ سے سکول میں داخل ہوکر حصول علم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس پراجیکٹ میں محلہ کمیٹی تشکیل دئیے جاتے ہیں اور ایلمبسیڈر کے نام سے رضا کار وں کی ٹیم تیار کی جاتی ہے جوکہ سکول سے آؤٹ بچوں اور بچیوں کا ڈیٹا تیار کرتے ہیں اور محلہ کمیٹی اپنے اپنے علاقے میں سکولوں میں بچوں کو داخل کرنے کے ساتھ ساتھ سکول کی کارکردگی کی بہتری میں بھی مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے اس پراجیکٹ کو کامیاب اور سودمند بنانے میں محکمہ تعلیم کے تعاون کا خصوصی ذکر کیا۔ اس موقع پر مختلف محلہ کمیٹیوں کے چیرمین اور ایلمبسیڈر وں نے اپنی اپنی کارکردگی اور ان کے نتائج شئر کئے اور ساتھ ساتھ سکولوں کے مسائل بھی بیان کئے جن میں بریر محلہ کمیٹی کے چیرمین شمس الربی اور سویر کے محمد زبیر

شامل تھے

Print Friendly, PDF & Email