43

صدر تحریکِ انصاف اپر چترال کی بونی دشمنی سمجھ سے بالاتر ہے۔ عمائیدین بونی

اپرچترال (ذاکر محمد زخمی)اپر چترال ضلع بننے کے بعد دفترات کی بونی سے منتقلی اور قاق لشٹ کے کونے پر تعمیر کی خبریں عرصے سے زیرِ گردش ہیں۔اس مسلے کو لیکر اس سے قبل بھی کئی بار اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں جس میں اپر چترال کے مختلف علاقوں سے معتبرات شریک ہوکر متفقہ قراردادوں کے ذریعے اپنے تحفظات بالائی اور ضلعی حکام تک پہنچا نے کے باوجود اب تک خاطر خواہ اور مثبت پیش رفت دیکھنے کو نہ ملی۔ اس سلسلے ایک با ضابطہ اجلاس سابق تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف کے صدارت میں اس وقت بھی ہوئی تھی جب اپ تحصیل ناظم تھے اور اس اجلاس میں بھی متفقہ طور پرضلعی دفترات عوامی مفاد میں بونی میں ہی تعمیرکرانے کے حق میں قرارداد پاس ہوئی تھی۔لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا وہ سب بے سود ہوئے۔ دراین اثنا دفترات کی بلڈنگ ڈیزائن کے لیے اشتھار دینے کی خبر ہے اور پانچ کمپنیاں ٹینڈر میں حصہ لینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد بونی کے اندر تشویش کی لہر پیدا ہو چکی ہے۔اپنی تشویش کو ایک بار پھیر بالائی حکام تک پہنچانے کے عرض معتبراتِ بونی کا ایک اجلاس آج مقامی ہوٹل بونی میں منعقد ہوا۔ جس میں علاقے کے معتبرات اور تحریکِ تحفظ حقوق اپر چترال کے اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کی صدارت نوجوان قانون دان اور ضلع بار اپر چترال کے جنرل سکرٹری قاضی ممتاز ایڈوکیٹ نے کی۔نظامت کے فرائض محمد پرویز لال نے انجام دی۔ صدر تحریک ِ تحفظ ِ حقوق اپر چترال مختار احمد، شاہ وزیر لال،سابق کونسلر رحمت سلام،جاوید،سید دینار شاہ،نصرُمن اللہ، سابق ویلج ناظم سلامت خان، حیات اللہ، صدر تجار بونی محمد شفع، سردار وغیرہ نے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پی۔ٹی۔ائی کی مقامی قیادت کی خاموشی اور بے حسی پرا نہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں مورد الزام ٹھرائیے کہ ان کے ایماء پر سب کچھ ہو رہے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اپر چترال کے صدر رحمت غازی کا بونی کے ساتھ کا روایہ نا قابل فہم ہے۔وہ بونی کے خلاف کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ جو یو۔سی بونی کو توڑکر یو۔سی چرون کرنے سے شروع ہو کر تا اندام جاری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب انہیں ووٹ دیکر ضلعی ممبر بنیایا گیا تو بونی کے اندر گرلز ہائی سکول پی۔سی۔سی روڈ چرون منتقل کرکے اپنے لیے ذاتی روڈ تعمیر کیے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ دور میں اپنی تعلقات کے بنا قاق لشٹ ہاوسنگ اسکیم کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا جو بعد میں عوامی ردِ عمل کے نتیجے ناکامی پر ختم ہوئی۔ اب ضلعی دفترات قاق لشٹ کے مخصوص مقام پر منتقلی پر بھی اپ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا حالانکہ قاق لشٹ ایک وسیع وعریض میدان ہے۔اس کے وسط میں بھی دفترات تعمیر ہو سکتے تھے۔ قاق لشٹ کے متواقع اور مخصوص جگے میں دفترات کی تعمیر سے نہ صرف بونی بلکہ اپر چترال کے اکثریتی علاقے براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ضلعی دفترات کے علاوہ نادرہ آفس اور دوسرے دفترات بھی وہاں منتقل ہونے کے خبریں ہیں۔ جو کہ اپر چترال کی اکثریتی آبادی کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے۔ اور تحریکِ انصاف کے مقامی نمائیندوں کی اس عمل نے تحریک انصاف حکومت کی احسن اقدام کو بھی مشکوک بنا دیاجو ضلع کی صورت میں اپر چترال کو دی تھی۔ نوٹفکیشن میں واضع طور پر بونی کو ہیڈ کوارٹر قرار دیا گیا ہے۔ لہذا دفترات کو بونی سے باہر منتقلی کو روکنے کے لیے قانون طور پر ہر محاذ میں قانونی جنگ لڑینگے۔اور بونی اور اپر چترال کے خلاف پسِ پردہ سازشوں کو بے نقاب کرینگے۔

Print Friendly, PDF & Email