51

کے ٹو نے میرے والد علی سدپارہ کو ہمیشہ کیلیے اپنی آغوش میں لے لیا

کے ٹوپرلاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے والد کی موت کی تصدیق کردی۔

کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پار ہ نے والد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کے ٹو نے میرے والد علی سدپارہ کو ہمیشہ کیلیے اپنی آغوش میں لے لیا، اللہ میرے والد کو جنت میں اعلیٰ مقام دے اور اللہ میرے خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ موسم سرما میں کے ٹو سرکرنے کی مہم جوئی میں مصروف تھے اور اس مہم جوئی میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سدپارہ سمیت غیر ملکی کوہ پیما بھی تھے۔

5 فروری کو ساجد سدپارہ آکسیجن سلینڈر میں مسئلے کے باعث واپس بیس کیمپ آگئے تھے لیکن ان کے والد محمد علی سدپارہ بیس کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔

محمد علی سدپارہ اور غیر ملکی کوہ پیما کی تلاش کے لیے پاک فوج اور دیگر اداروں نے ریسکیو آپریشن بھی کیا لیکن کوہ پیماؤں کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔

جیونیوز کے مطابق گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر خان اور علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے پریس کانفرنس کی جس میں ساجد سدپارہ نے اپنے والد کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کی۔

ساجد سدپارہ کا کہناتھا کہ علی سدپارہ نے محنت ، بہادری اور ہنر مندی سے 8 ہزار سے بلند 8 چوٹیاں سر کیں ، نانگا پربت کو پہلی بار سردیوں میں سر کر کے وارلڈ ریکارڈ بنایا۔

ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے اوران کا خواب پورا کریں گے۔ ریسکیو آپریشن پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور عسکری ایوی ایشن کے بہادر پائلٹس کا بھی مشکور ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email