148

ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے اپر چترال لے جاتے ہوئے راستے سے واپس لویر چترال لاکر دریا برد کردیا/امجد اقبال کاپریس کانفرنس

چترال / مستوج اپر چترال سے تعلق رکھنے والے امجد اقبال نے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ چترال میں چند جعل سازوں کی سازش کے نتیجے میں اے سی لویر چترال اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر فوڈ اتھارٹی نے ان کے ساڑھے 8لاکھ روپے مالیت کے فروزن چکن کو دریا برد کرنے کا سخت اور فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کی تلافی کا ازالہ کیاجائے اور ساتھ ہی جعلی برانڈ کے ساتھ مضر صحت چکن چترال کو سپلائی کرنے والے نذیر حسین کے خلاف سخت کاروائی کیا جائے جوکہ ڈاؤن ڈسٹرکٹ میں بیمار مرغیوں کو سستے داموں خریدکے ان کی پیکنگ کر کے یہاں لارہے ہیں۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں کے اینڈ اینز فوڈ کے اتھارائزڈ ڈیلر بادشاہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ اپر چترال میں حکومت کے رجسٹرڈ فوڈ کمپنیوں کے مال سپلائی کررہے ہیں جس سے نذیر حسین کے غیر قانونی کاروبار میں کمی ہوئی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ان کو پھنسانے کی کوشش کی اور ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے اپر چترال لے جاتے ہوئے راستے سے واپس لویر چترال لاکر دریا برد کردیا۔انہوں نے کہاکہ ایک غیر مقامی صحافی گل حماد فاروقی کی ایما پر ان کے خلاف کاروائی کی گئی جوکہ نذیر حسین کا جگری دوست ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو چیلنج دیتے ہوئے کہاکہ ان کے اور نذیر حسین کے تمام کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے اور اس بنا پر کاروائی کی جائے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ایک نمبر کا کاروبار کرنے والے کو تو تنگ کیاجاتا ہے مگر دونمبری کاروبار کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ نذیر حسین اور ان کے غیر مقامی صحافی دوست گل حماد فاروقی کو ضلع بدر کیا جائے جوکہ گزشتہ دنوں اپنے ایک اور دوست ضیاء کو لے کر اپنے آپ کو فوڈ ڈیپارٹمنٹ کا اہلکار ظاہر کرکے لاسپور اور اپر چترال کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ نذیر حسین کا دوست گل حماد فاروقی محکمہ موسمیات سے دماغی مرض میں مبتلا ہونے کی بنا پر ریٹائر منٹ لی تھی اور یہ صحافی بروغل سے شندور اور لاسپورتک ہر کہیں باپردہ خواتین کی تصاویر کو ایکسپوز کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کرکہا فوڈ اتھارٹی والوں نے جس ایکٹ اور دفعہ کے تحت ان کا چالان کیا تھا، اس کے مطابق مال کو تلف یا دریا برد کرنے کا ذکر ہی نہیں ہے لیکن انہوں نے آدھ گھنٹے کے اندر اسے دریا برد کرکے قانون کی دھجیاں خود اڑادی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email