44

دفتری اوقات میں سما ٹ فو ن کے استعمال پر پا بندی……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خبر آگئی ہے کہ صو بائی حکومت کے محکمہ ابتدائی و ثا نوی تعلیم نے درجہ چہارم پر دفتری اوقات میں سما ٹ فو ن کے استعمال پر پا بندی لگا ئی ہے حکم میں ڈرائیوروں کا خا ص طور پر ذکر ہے گو یا در جہ چہارم کا اطلا ق ڈرائیوروں پر نہیں ہو تا ان کا نا م لینا ضروری تھا کسی دفتری حکم کواخباری کا لم کا مو ضوغ بنا نا عام حا لا ت میں منا سب نہیں تا ہم یہ خا ص حکم ہے اور مخصو ص حا لا ت میں جار ی کیا گیا ہے اب تما م محکموں کو اس طرح کے احکا مات جا ری کر نے کی ضرورت ہے محکمہ صحت، محکمہ تعمیرات، محکمہ جنگلا ت، محکمہ خوراک وغیرہ کو بھی ایسے ہی احکا مات کے ذریعے ما تحت ملا زمین کو کا م کا پا بند بنا نا چا ہئیے اگر یہ حکم چیف سکرٹری یا وزیر اعلیٰ کے علم میں لا یا گیا تو یقینا دوسرے محکموں کو بھی اس طرح کے احکا مات کا پا بند کیا جائے گا پہلی نظر میں اس حکم کا خیر مقدم کرنے کے باوجود ہم اس کو مکمل نہیں سمجھتے یہ حکم اس وقت مکمل ہو گا جب دفتر ات کے اندر کلر کوں اور دیگر عملے کو بھی ایسا ہی حکم دیا جا ئے گا ہر دفتر میں چار اہم ڈیسکوں پر نیٹ کی جا زت ہو نی چا ہئیے تا کہ دفتری خط و کتا بت میں آسا نی ہو ان کے سوا کسی کو انٹر نیٹ کے استعما ل کی اجا زت نہیں ہو نی چا ہئیے دفترات میں کلا س فور یا ڈرائیور وں کے پا س انٹر نیٹ ہو نے کا اتنا نقصان نہیں ہو تا جتنا نقصان دفتر کے دوسرے عملے کے ہاتھ مفت انٹر نیٹ آنے کا ہو تا ہے سنگا پور یا ملا ئشیا کا کوئی سیا ح کسی کا م سے پشاور یا اسلا م اباد کے کسی دفتر کا چکر لگا ئے تو اس کو یہ جا ن کر تعجب ہو گا کہ یہاں کمپیو ٹر اور سما ٹ فون فلم دیکھنے اور گا نے سننے کے کا م آتا ہے دفتر میں ائیر فو ن لگائے ہوئے لڑ کے با لے اہم کر سیوں پر بیٹھے ہیں اور اپنی دنیا میں مگن ہیں بٹگرام، تور غر اور چترال سے سائل اپنے پنشن کی منظوری کے لئے آیا ہوا ہے چہرے پر سفید داڑھی اور کندھے پر صا فہ ہے وہ چشموں سے گھور گھور کر دیکھتا ہے اس کی فائل دفتر میں گم ہو چکی ہے متعلقہ با بو فلم دیکھ رہا ہے یا اس کے مو بائل پر فلمی گا نا لگا ہوا ہے ”اوارہ ہوں یا گردش میں ہوں آسمان کا تارا ہوں“ اس حوالے سے حکومت کی جا مع پا لیسی آنی چاہئیے جس طرح کا م کی جگہ پر خواتین کو ہرا سان کر نے کے خلا ف قوانین اور قواعد بنا ئے گئے ہیں اس طرح دفتری اوقات میں سائلین کو ہرا سان کر نے کے خلا ف بھی کوئی حکمنا مہ ہو نا چا ہئیے کوئی قا نون کوئی قا عدہ ہو نا چا ہئیے اور اس حکم کا اطلا ق صرف صو بائی دفاتر پر نہیں بلکہ ضلعی اور میو نسپل دفاتر پر بھی ہو نا چا ہئیے اگر حقیقت کی نظروں سے جا ئزہ لیا جا ئے تو معلوم ہو تا ہے کہ انٹر نیٹ اور سما رٹ مو بائل فون آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا سے آسٹریلیا تک تر قی یا فتہ اور ترقی پذیر مما لک کی ساری آبا دی اس فکر میں مبتلا ہے کہ اپنے گھر اور دفتر کو انٹر نیٹ سے کسی طرح بچا یا جا ئے، سما رٹ فو ن سے کس طرح محفوظ کیا جا ئے اور سوشل میڈیا کی یلغا ر سے کس طرح بچ کر وقت گزارا جائے ایران، چین اور روس نے مغربی مما لک سے آنے والی ہواوں کا رخ موڑ نے کے لئے فیس بک، ٹو ٹیر، یو ٹیو ب وغیرہ کے خلا ف دیوار یں کھڑی کر کے ”جام“ (Jam) لگا دیا ہے تر کی، انڈو نیشیا اور بھارت سے ایسی خبریں آرہی ہیں کہ مختلف نا موں سے اپنا سو شل میڈیا بنا کر نئی نسل کے ہا تھ میں دیدیا ہے تا کہ نئی نسل مغرب کی ثقا فتی یلغار سے محفوظ رہے وطن عزیز پا کستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب حکومت نے یو ٹیوب پر پا بندی لگا ئی مگر یہ پا بندی چند مہینوں سے زیا دہ نہ چل سکی با ہر سے اتنا دباؤ آگیا کہ حکومت نے معا فی مانگی اور پا بندی کا حکم واپس لے لیا گذشتہ سال ہماری حکومت نے بڑی سوچ بچار کے بعد پب جی نا می گیم پر پا بندی لگائی اس گیم کی وجہ سے نو جوانوں میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور لا قا نو نیت کے ساتھ ذہنی امراض پید ا ہو تے ہیں پب جی کھیلنے والے نو جوان تعلیم سے محروم ہو تے ہیں تعمیری سر گر میوں کے قابل نہیں رہتے نہ ماں باپ کے کا م آسکتے ہیں نہ معا شرے کے کام آنے کے قابل ہوتے ہیں اور نہ اپنے آپ کو سنبھا لنے کے قا بل ہوتے ہیں پوری قوم نے پب جی پر پا بندی کا خیر مقدم کیا مگر با ہر سے حکم آیا کہ یہ ہمارا کا رو بار ہے اس پر پا بند ی مت لگاؤ حکومت نے ایک مہینہ بعد پا بندی اُٹھا لی صو بائی حکومت کے ایک محکمے کی طرف سے درجہ چہارم کے ملا زمین پر دفتری اوقات کے دوران سمارٹ فون استعمال کرنے پر پا بندی لگا کر ثا بت کیاگیا ہے کہ سو شل میڈیا دفترکے لئے مفید نہیں اب اس حکم کو دائیں بائیں اور اوپر نیچے تک پھیلا نے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email