169

چترال سے ایل پی جی پلانٹ منصوبے کو گلگت بلتستان منتقل کرنے کے حکومتی فیصلے کو انتہائی ظالمانہ اور چترال دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا/مولانا عبدالاکبر چترالی

ٍٍٍٍٍٍٍٍچترال (نمائندہ ) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے چترال سے ایل پی جی پلانٹ منصوبے کو گلگت بلتستان منتقل کرنے کے حکومتی فیصلے کو انتہائی ظالمانہ اور چترال دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور کہاکہ اس بارے میں پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتیں متحد اور ایک پیج پر ہیں اور کبھی بھی اپنے ساتھ اس ذیادتی کو برداشت نہیں کریں گے اس لئے قومی اقتصادی کمیٹی کے فیصلے کو واپس لے کر چترال میں اس منصوبے پر کام کا فی الفور آعاز کیا جائے۔ ہفتے کے روز چترال پریس کلب میں جماعت اسلامی چترال کے امیر مولانا اخونزادہ رحمت اللہ اور دوسرے رہنماؤں وجیہہ الدین، فضل ربی جان، اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کو چاہئیے کہ وہ حکومت سے اس ذیادتی کے بارے میں اپنے سخت تحفظات کا اظہار کرے جوکہ محض اس وجہ سے گیس منصوبے کو ختم کردی ہے کہ یہ مسلم لیگ (ن) کا شروع کردہ منصوبہ تھا۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر واضح کردیا کہ گزشتہ حکومت کے عوام دوست منصوبوں کو ختم کرنا نہایت قبیح عمل ہے اور اس طرح وہ غلط روایات کو فروع دے رہے ہیں اور یہ بھول رہے ہیں کہ کل وہ اپوزیشن میں ہوں گے، تو ان کے تجویز یا شروع کردہ کاموں کو بند کیا جائے گا۔ مولانا چترالی نے کہاکہ چترال میں ایک منفی رجحان فروع پارہا ہے کہ ہر جماعت کے کارکن دوسروں کے کئے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کا کریڈٹ اپنی پارٹی کے سر لینے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جوترقیاتی منصوبے شروع ہوتے ہیں یاپایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں، ان کا کریڈٹ مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈر حضرات لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جو منصوبے ڈراپ ہوتے ہیں، ان میں مجھے مورد الزام ٹھہراتے ہیں جس طرح گیس منصوبے میں مجھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ دروش چترال روڈ اور چترال گرم چشمہ روڈ کی کریڈٹ بھی کوئی اور لینے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ یہ روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ان منصوبوں کو چترال شندور روڈ سمیت اسمبلی کے فلور اور حکومتی ایوانوں میں ان کی سرتوڑ جدوجہد سے منظور کرائے گئے ہیں اور یہ بات بھی ان ریکارڈ ہے کہ 2019-20کے پی ایس ڈی پی سے یہ منصوبے نکالے گئے تو میں نے قائمہ کمیٹی کے ذریعے بحال کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اگلے ماہ تک چترال شندور روڈ پر باقاعدہ کام کا آعاز کیا جارہا ہے۔ مولانا چترالی نے مزید کہاکہ بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے سلسلے میں انہوں نے چھ مختلف فیڈروں بروز، کیسو، ارسون، ارندو، عشریت کی منظوری لے لی ہے جن پر ایک ارب 80کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں ایک سیاسی جماعت کے رہنما نے ایک ویڈیو پیغام میں ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جس کا وہ جواب نہیں دینا چاہتے کیونکہ وہ سیاسی ماحول کو مزیدکشیدہ کرنے کی بجائے اسے دوستانہ کرنے کے لئے کوشان ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چکدرہ چترال روٹ کو ان ہی مسلسل جدوجہد سے دوبارہ سی پیک روٹ کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بارے میں گزشتہ دنوں جنرل عاصم باجوہ نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو فون کرکے خوشخبری سنادی تھی

Print Friendly, PDF & Email