639

تیری جدائی کامنظرسب کے نگاہوں میں ہے۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

آنکھ سے دورسہی دل سے کہاں جائے گا

جانے والے توبس یاد بہت آئے گا

یہ بات سو فیصد درست ہے کہ انسان اپنے علم وہنر سے معاشرے میں پہچانا جاتا ہے مگر انسان کی شناخت کی اصل بنیاد اس کا علم و فن ہر گز نہیں ہوتا بلکہ اس کا اخلاق و کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ انسان کی حقیقی عظمت کا تعین اس کے معاملات اور زندگی کے طور طریقے  سے ہوتا ہے۔26فروری2021 بروزجمعرات  رات  کےتقریباً دس  بجےکے قریب معروف ماہرتعلیم سابق  ڈی  ای اومحکمہ ایجوکیشن چترال گلسمبربیگم اس دنیافانی سے رخصت ہوگئیں  اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھاموت ایک حقیقت ہے لیکن بعض موتین  ایسی ہوتی ہیں جوذہنون پرنقش چھوڑجاتی ہے اور اچانک جدائی  کی خبر دل ودماغ کوگہراصدماپہنچاتاہے ۔ کسی بھی قریبی رشتہ دار،دوست یاہمدرد کے انتقال کے صدمے سے دو چار ہونا ایک ایسا  تکلیف دہ تجربہ  ہے اس حقیقت  سے ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے ۔ اُس وقت انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتاہے ۔

گلسمبربیگم چترال میں تعلیم نسوان کی ترویج میں گران قدرخدمات انجام دی ہیں۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔ وہ علم کی روشنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ روایات،تہذیب،شرافت،اخلاق اور تمدن کا ہر لحاظ سے پاسداری کرنے والی خاتون تھی ان کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیگی ۔ وہ انتہائی پرخلوص ، کم گو اور مہربان انسان تھیں۔

گلسمبربیگم چترال کو پہلی لیڈی ہیلتھ وزیٹر   اور چترال کی پہلی خاتون کمیشنڈ آفیسرہونے کااعزاز تھیں۔وہ کئی سالوں تک  آغاخان ہیلتھ سروسز کے ساتھ صحت کے شعبے میں اور پھر محکمہ ایجوکیشن خیبرپختونخوا میں بحیثیت مدرس، ہیڈ مسٹریس، پرنسپل اورڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بہترین خدمات انجام دی تھیں۔وہ  طالبات میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے اور ان کے اندر تعلیمی روح پھونکنے کی کوشش کرتی تھی تاکہ وہ خود بخود تعلیم کی طرف کھینچے چلے آئیں۔وہ اساتذہ کے مختلف ورکشاپس ،سمینار اوردیگرپروگرامات میں یہی الفاظ باربارکہتی تھی

"استاد بننے کے لیے تعلیمی ڈگریاں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر توجہ دیتے ہوئے اپنے لباس، اپنی گفتگو،  چلنے کا ڈھنگ، تنہا ہو یا محفل میں بیٹھنے اٹھنے کا سلیقہ، اپنے چھوٹوں اور بڑوں سے برتاؤ کا سلیقہ، اپنے شاگردوں اور ان کے سرپرستوں سے میل جل کا ڈھنگ، اپنے عہدیداروں یعنی انتظامیہ کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آناچاہیے اوریہ بھی کہتی تھی کہ بچوں کی تربیت کے لئے والدین کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں البتہ والدین کا سمجھدار ہونا انتہائی ضروری ہے ۔”

ممتازماہر تعلیم  گلسمبر بیگم کا تعلق اپر چترال بونی ہے  ، ابتدائی  تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول ریشن سے حاصل کی۔ اس کے بعدکرچی چلی گئی جہاں بنیادی ہیلتھ کئیر میں ڈپلومہ کرکے واپس چترالی آئی اور مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیتی رہی ۔ سن 1981ء میں محکمہ تعلیم میں بحیثیت سنئیر انگلش ٹیچر بھرتی ہوئے  ۔ 1992ء میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے گریڈ 17 میں ہیڈ مسٹریس  پھر فیمل ڈی ای ا و ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور آخر میں ای ڈی او ایجوکیشن کی حیثیت سے سن 2011ء میں وہ ریٹائر ہوگئی تھیں

گلسمبربیگم کی بے وقت موت سے اپرچترال میں درس و تدریس  کا ایک اور روشن چراغ بجھ گیاوہ ہمیشہ امن ،محبت اوربھائی چارے کا درس دیتی تھی ان کی وفات سے چترال ایک عظیم انسان سے محروم ہو گئی۔ دکھ کی اِس گھڑی میں ورثاء کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں  دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ان کی روح کو دائمی زندگی کی مسرتوں سے نوازے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

.

آتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو

گلشن تیری یادوں کی مہکتاہی رہے گا(انشاء اللہ  تعالیٰ)

Print Friendly, PDF & Email