184

ایم پی اے مستوج کی کارکردگی۔۔۔۔۔از قلم :ناصر علی

ایم پی اے مستوج سید سردارحسین کا شمار چترال کے ان گنے چنے سیاسی افراد میں ہوتاہے جنہوں نے محنت ،لگن اور اپنی خداداد صلاحیتیوں کے بل بوتے پرنہ صر ف اپنے لئے سیاسی مقام حاصل کیا بلکہ ان کی سماجی خدمات بھی لائق تحسین ہے ۔ سب ڈویژن کے خوبصورت گاؤں بونی میں پیداہونے والے سردارحسین نے اپنی ابتدائی تعلیم بونی ہی سے حاصل کی میٹر ک کے بعد وہ کراچی چلے گئے وہاں سے انہوں نے گریجویشن کے بعد دوبارہ واپس بونی آئے اور سرکاری وغیر سرکاری ملازمت کی بجائے خود کو سیاسی اور سماجی کاموں کے لئے وقف کردیا ۔زمانہ طالب علمی ہی سے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سرگرم جیالا تھا کراچی سے واپسی کے بعد وہ پیپلز پارٹی چترال کے سرگرم رکن بنے اور ہر موقع پر قوم کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی۔یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ سب ڈویژن مستوج میں چرس کی کاشت ہوتی تھی اور علاقے کے لوگوں کا واحد ذرائع معاش چرس کی کاروبار سے منسلک تھا ۔ حکومت نے عوام کو چرس کی کاشت روک کر اس کے عوض انہیں ریشن پاؤر ہاؤس کا تحفہ دیا۔ لیکن جونہی نوے کے دھائی کے آخری سالوں میں یہ پاؤر ہاؤ س پایہ تکمیل کو پہنچا تو حکو مت اور بعض نام نہاد لیڈروں نے سازش کرکے ریشن پاؤر ہاؤس سے حاصل ہونے والی بجلی کو سب ڈویژن مستوج کے عوام کو دینے کی بجائے لوئر چترال میں لے جانے اور سب ڈویژن کو اس سے محروم کرنے کی کوشش کی ۔عوام کو متحد کر کے اس فیصلے کے خلاف سردارحسین نے بھر پور تحریک چلائی ۔ اگر یہ کہاجائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ ریشن پاؤر اسٹیشن سے حاصل ہونے والی بجلی سے اگر آج تک سب ڈویژن مستوج کے عوام مستفید ہورہے تھے تو اسے ممکن بنانے میں سردارحسین صاحب کا کردار سب سے نمایاں تھا جس کے لئے انہوں نے سات دن تک بھوک ہڑتال کیا اور بالآخر جب سب ڈویژن کو ریشن پاؤر ہاؤ س سے بجلی کی فراہمی یقینی ہوگئی تب انہوں نے اپنا بھوک ہڑتال ختم کرنے کافیصلہ کیا۔اپنے دورشباب میں علاقے کی پسماندگی بالخصوص انفراسٹریکچر کی زبوں حالی کے خلاف چلنے والی تحریکوں کی قیاد ت بھی سردارحسین کے حصے میں آئی۔اسی ہی کا ثمر کہ 1996-97ء کے عام انتخابات میں عوام نے بھرپور طریقے سے ان پر اعتماد کیا البتہ موروثی سیاست دانوں نے انہیں اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے ریاستی مشنری اور ٹھیکدار مافیاز کی مدد سے انہیں ہرادیاگیا۔ البتہ اس کے باؤجود ان کے اور جیتنے والے کے درمیان معمولی ووٹوں کا فرق رہا۔سن 2001ء کو جب بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تو آپ امیر اللہ کو لے کر یوسی چرون سے نظامت کا انتخاب لڑ اجس میں انہیں بھرپور کامیابی ملی ۔سیاست کے علاوہ آپ سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہے۔بیار لوکل سپورٹ آرگنائزیشن یعنی بی ایل ایس او کے قیام اور اسے مستحکم بنانے میں بھی سردارحسین کا کردار مسلمہ حقیقت ہے آپ ہی کی کاوشوں کی بدولت بی ایل ایس او اب ایک مضبوط اور مستحکم ادارے کی شکل اختیار کرچکی ہے ۔بی ایل ایس او علاقے کی تعمیر وترقی میں ہراول دستے کاکرداراداکررہے ہیں۔
آپ سن 2013ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر سب ڈویژن مستوج سے انتخاب لڑا جس میں ایک مرتبہ پھر ٹھیکدار مافیاز اور موروثی سیاسی خاندانوں نے تمام تر پروپیگنڈوں ،پیسوں کی مدد نیز ریاستی مشنری کے استعمال کے بعد صرف چار ووٹوں کے فرق سے آپ کو ہرادیا۔لیکن طویل سیاسی جدوجہد کی بدولت عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے غلام محمد جیسے سرمایہ دار کے خلاف مسلسل ایک سال تک انتخابی نتائج میں ہیر پھیر کا کیس لڑا جس میں بالآخر انہیں کامیابی ملی۔ اس دوران اگر وہ چاہتے تو غلام محمد سے کروڑوں روپے لے کر عیاشی بھی کرسکتے تھے ۔لیکن سردارحسین کا موقف یہ تھا کہ اگر آج میں ان مافیاز کو شکست نہ دیا تو پھر کوئی بھی غریب کا بچہ سیاست میں نہیں آسکتالہٰذا علاقے کے غریب لوگوں کے حق کے لئے جدوجہد کی اور بالآخر وہ اپنے مقصد میں کامیا ب بھی ہوگئے ۔
ایم پی اے منتخب ہونے کے بعد جب وہ صوبائی اسمبلی پہنے اورتقریر کے لئے انہیں وقت دیا گیا تو سردارحسین نے سب سے پہلے اسپیکر سے استدعا کی کہ انہیں تقریر کے لئے کم ازکم ایک گھنٹے کا وقت دیاجائے جس پر اسپیکر حیرت سے پوچھا کہ اسمبلی میں تو کسی رکن کو ایک گھنٹے کا وقت نہیں دیاجاتا جبکہ تاریخی لحاظ سے بھی آپ کے علاقے کے اراکین اسمبلی کاروائی میں ایک منٹ سے زیادہ کاوقت نہیں لیتے۔ اکثر وہ اسمبلی کاروائی میں حصہ بھی نہیں لیتے پھر آپ ایک گھنٹے کا وقت کیوں مانگ رہے ہیں۔اس پر ایم پی اے نے جواب دیا کہ میں ایک سال تک قانونی جنگ لڑکے آیاہوں اس ضائع شدہ ایک سال کے لئے میں اسمبلی فلور میں علاقے کے مسائل پر بات کرنے کے لئے ایک گھنٹے کا وقت مانگتاہوں ۔سردارحسین شائد پہلا رکن اسمبلی ہوگا جس نے اسمبلی کے کسی بھی سیشن کے دوران بھر انداز سے حصہ لیتے ہوئے بہترین تقریریں کی اور علاقے کے مسائل کو اسمبلی فلور پر اٹھایا۔ اپنے پہلے ہی سال وزیر اعلیٰ سے تعلقات استواء کرکے تین ہائرسکنڈری سکولوں کی منظوری دلادی حالانکہ حکمران پارٹی کے اراکین کو بھی صرف دودو ہائر سکنڈری سکول ملتے ہیں۔ جب سردارحسین کو وزیر اعلیٰ نے تین ہائر سکنڈری سکولوں کی منظوری دی تو اس پر اسمبلی میں بہت شور مچا کہ ایک حزب مخالف کے امیدوار کو تین ہائر سکنڈری سکول دئیے جارہے ہیں۔ ایم پی اے نے علاقے کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں سے ایک ہائر سکنڈری سکول کو لوٹ اویر میں ایک گرلز ہائر سکنڈری سکول کو ریچ میں اور ایک ہائرسکنڈری سکول کو تریچ میں رکھا ۔جس پر کام تیزی سے جاری ہے ۔آپ ہی کی کوششوں سے متحدہ عرب امارات اور حکومت پاکستان کے تعاون سے بننے والی خواتین پولی ٹیکنکل کالج کا قیام جنالی کوچ خندن میں بنایاگیا جو صرف دو سالوں کے کم ترین مدت میں مکمل ہوچکی ہے اور عنقریب اس کے لئے اسٹاف کا تقررہونے کے بعد باقاعدہ کلاسز کا بھی آغازہوگا ۔اس سے علاقے کے خواتین کو ہنرسیکھانے اوراپنے پاؤں پر کھڑاکرنے نیز معاشی سرگرمیوں کے فروع میں اہم کرداراداکرسکتی ہے۔ حالیہ سیلاب نے پورے چترال میں تباہی پھیلادی دروش ،بمبوریت اور گرم چشمہ سمیت سب ڈویژن مستوج کے بہت سارے علاقوں کو بربادکردیا اسی دوران جب آرمی چیف جرنیل راحیل شریف ایم پی اے مستوج سردارحسین ہی کی کوششوں سے ریشن اور کوراغ کادورہ کیا اگر وہ اپنی طرف سے چترال کو دورہ کیاہوتا تو گرم چشمہ اور بمبوریت بھی جاتے ۔اس دورے کو کروانے میں ایم پی اے سردارحسین کا کلیدی کرداررہا۔ نیز وزیر اعظم نواز شریف بھی اپنے دورہ چترال میں کوراغ آئے اور زرعی قرضوں کی معافی کے علاوہ امداد کا بھی اعلان کیا۔جس کے لئے بھی سردارحسین نے کرداراداکیاتھا۔ایم پی اے سردارحسین ہی کی کوششوں سے قائدحزب اختلاف سیدخورشید شاہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دوسرے عہدے داروں نے چترال اور سب ڈویژن مستوج کا تفصیل دورہ کیا کروڑوں روپے نقد اورکروڑوں روپے مالیت کے امدادی اشیاء تقسیم کئے گئے ۔ آپ ہی کی کوششوں سے سید خورشید شاہ نے حکومت سندھ کی جانب سے 250کلوواٹ کے تین ڈیزل جنریٹر وں کی فراہمی کویقینی بنایا جو کہ علاقے میں بجلی کی مخدوش صورتحال پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔جتنے بھی غیر سرکاری ادارے سیلاب اور اکتوبر کے زلزلے کے بعد علاقے میں سروس دے رہے ہیں ان کو لانے اور ان کے لئے اجازت نامہ جاری کرنے میں ایم پی اے سردارحسین نے اہم کرداراداکیا،انہی کی بدولت سیلاب اور زلزلہ متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم ہوئی ۔گزشتہ سال مون سون کی سیلاب کے بعد ایم پی اے سردارحسین نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد منظورکروائی جس میں مطالبہ کیاگیاتھا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے چترال کی زراعت بری طرح متاثر ہوچکا ہے ۔جس کی وجہ سے غریب عوام کو دووقت کی روٹی بھی ملنامشکل ہے لہٰذاعلاقے کے اس گھمبیر مسئلے کو پیش نظر رکھتے ہوئے کم ازکم دوسال تک چترال کے لئے گندم میں خصوصی سبسڈی دی جائے ۔ اس قرارداد کو صوبائی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کرنے کے بعد مرکزی حکومت کو بھیج دیاگیا امید ہے کہ عنقریب اس حوالے سے بڑی پیش رفت ہوگی ۔
بلدیاتی انتخابات کی مناسبت سے پیپلز پارٹی نے سب ڈویژن مستوج کے سارے انتظامات ایم پی اے سردارحسین کے حوالے کردئیے گئے تھے ۔ ضلع ،تحصیل اور دیہی کونسل میں امیدوار لاتے وقت سردارحسین نے اعلان کردیا کہ ان انتخابات میں ’سادات خاندان‘ کا کوئی بھی فرد حصہ نہیں لے گا۔کیونکہ ایم پی اے کا موقف تھا کہ جن لوگوں نے 2013ء اور پھر 2014ء کے عام انتخابات میں مجھے سپورٹ کیاتھا اب انہیں ووٹ دیاجائے اگر سادات فیملی کا کوئی فرد آپ کے موقف سے اختلاف رکھتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا تو سردارحسین نے ان کے خلاف بھرپور مہم چلائی ۔ شائد چترال کی سیاست کا یہ پہلا موقع تھا جب کسی راہنما نے اقرباء پروری کی بجائے حقیقی جیالوں کے ساتھ بھرپورتعاون کیا۔ حالیہ صوبائی اسمبلی کی کاروائی میں علاقے کے لوگوں کے مطالبات اور علاقے کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے قاقلشٹ ٹاؤن شپ اسکیم کے خلاف ایک قراردادصوبائی اسمبلی سکٹریٹ میں جمع کی ہے جس میں موقع اپنایاگیا ہے ۔’’قاقلشٹ ٹاؤن شپ اسکیم چترالیوں کو اپنے گھرمیں بے گھر کرنے کے مترادف ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت آفت زدہ چترال کے واحد محفوظ مقام قاقلشٹ کو ہاؤسنگ اسکیم میں تبدیل کرکے پشاور میں من پسند لوگوں میں اونے پونے داموں فروخت کرناچاہتے ہیں جس کی چترالی عوام کسی صورت اجازت نہیں دیں گے‘‘۔
ابھی ایک دن قبل ایم پی اے چترال سلیم خان اور ایم پی اے مستوج سردارحسین نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملاقات کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی دوبارہ بحالی کے لئے 650ملین یعنی 65کروڑروپے کی منظوری لی ہے ۔جو کہ سیلاب سے تباہ کن انفراسٹریکچر کی دوبارہ بحالی میں معاون ثابت ہوگا،اتنی خطری رقم کی منظوری دونوں ممبران صوبائی اسمبلی کے کارنامے ہیں۔
ایم پی اے سردارحسین کا تاریخی کردار عوامی فلاح وبہبود کے لئے وقف رہاہے ۔ لیکن آج بعض لوگ اپنی نظریاتی اختلافات کو لے کر سماجی رابطوں کی ویب سائڈ اور عوامی مقامات پر ان کی ذات کو داغدار بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔اس سارے عوامل کے پیچھے وہ لابی کارفرما ہے جنہوں نے 32سالوں تک ایک فرد کو ووٹ دیتے رہے جبکہ اسی دوران عوام کی زندگیاں روز بروز ابتری کا شکاررہی ۔ آج جب سردارحسین نے غریب عوام کی تعاون سے ان مافیا کو شکست فاش سے دوچار کرچکے ہیں اب ان کو مستقبل میں اقتدار تک پہنچنے کے سارے راستے مسدود نظر آرہے ہیں۔ تو وہ پروپیگنڈوں کے زور سے اپنی کھولی ہوئی اقتدار دوبارہ بحال کرناچاہتے ہیں ۔ لیکن یاد رکھئے عوام نے انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے ان کا مستقبل تاریک ہے اور عوام ان کے پھیلائے ہوئے افواہوں میں آنے والے نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں