102

گرم چشمہ کے گائنی اسپیشلسٹ کے ناروا اور غیر پیشہ ورانہ روئیے کے خلاف کارروائی کامطالبہ

چترال (نمائندہ ڈٰیلی چترال) گرم چشمہ لوٹکوہ کے نواحی گاؤں اترائے کا باشندہ نورافضل خان نے تحصیل ہسپتال گرم چشمہ کے گائنی اسپیشلسٹ کے ناروا اور غیر پیشہ ورانہ روئیے کے احتجاج کرتے ہوئے ڈی ایچ او چترال اور دیگر حکام سے ان کے خلاف کاروائی کامطالبہ کیاہے۔ اتوار کے روزمیڈیا کو بتایاکہ ان کے بھائی وزیر سلطان کی اہلیہ کو جب ڈلیوری کیس کے لئے ہسپتال میں داخل کیا گیاتو ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹر عائشہ نے کیس کی پیچیدگی کا بہانہ بناکر ان کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ریفر کردیاجہاں داخل ہونے کے بمشکل بیس منٹ بعد نارمل ڈلیوری ہوگئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نے سخت بارش اور برفبار ی میں مریضہ کو سخت خطرے کے باوجود چترال منتقل کردیا جس کے دوران ان کی گاڑی پہاڑی تودے کی زد میں بھی آگئی اور گرم چشمہ ہسپتال نے جھوٹے بہانے مریضوں کو چترال ریفر کرنے کا وطیرہ اپنا رکھا ہے اور غریبوں کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس کیس کی تحقیقات کرائی جائے تاکہ کسی اور کے ساتھ یہ واقعہ پیش نہ آسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں