52

شہزادہ خالد پرویز نیب کے مقدمے میں سات مہینے قید جھیلنے کے بعد رہا ہوکر چترال پہنچے ،پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے پرتپاک استقبال کیا

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) آل پاکستان مسلم لیگ کے ضلعی صدر شہزادہ خالد پرویز نیب کے ایک مقدمے میں سات مہینے قید جھیلنے کے بعد گذشتہ روز جب رہا ہوکر چترال پہنچے تو پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے پرتپاک استقبال کیا جوکہ ضلع کے طول وعرض سے کثیر تعداد میں جمع ہوئے تھے ، انہیں جلوس کی شکل میں تریچمیر ویو ہوٹل لایا گیا جہاں جلسہ منعقد ہوا جس سے شہزادہ خالد پرویز اور ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے خطاب کیا ۔ اپنے خطاب میں شہزادہ خالد پرویز نے کہاکہ سیاست میں آنے کا واحد مقصد چترالی عوام کی خدمت کے سو ا اور کچھ نہیں ہے لیکن عوام دشمن عناصر انہیں اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے گھناونے سازش کرکے انہیں پھنسانے کی کوشش کی ۔ لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے ، انہوں نے کہاکہ یہ وقت ہی ثابت کردے گا اور بمبوریت کے عوام خود میڈیا کے سامنے حقیقت حال بیان کردیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے انہیں سیاست کی راہ سے ہٹایا نہیں جاسکتا ۔ انہوں نے پارٹی کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ہی کے دعاؤں اور کوششو ں کے نتیجے میں ہی وہ اس میں کامیاب اور سرخرو ہو کر نکل آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ،کہ میرے والد شہزادہ محی الدین نے اپنے چالیس سالہ سیاست اور چترال کی نمایندگی کے دوران چترالی عوام کو کبھی دھوکا نہیں دیا ۔ او ر نہ ہم اُن کے فرزند ہونے کی حیثیت سے کسی کو دھوکا دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں چوک چوک گھر گھر گھوم کر اپنی بے گناہی کا اعلان کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔ میرے لئے میرے پارٹی کے کارکنان کے سامنے حقیقت کو بیان کرنا ہی کافی ہے ۔ ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین نے کہاکہ صدر آل پاکستان مسلم لیگ چترال شہزادہ خالد پرویز کی رہائی کیلئے ہم نے کسی کی منت سماجت نہیں کی ، وہ قانونی طور پر تمام مراحل سے گزر کر خود رہا ہوئے ہیں ،پاکستان کے شہری کی حیثیت سے کاروبار کرنا سب کا حق ہے ، اور چترال کے تمام پارٹیوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو جنگلات کی قانونی کٹائی کا کاروبار کرتے ہیں ،انہوں نے پارٹی ورکروں سے کہا ۔ کہ میں نے ایم این اے منتخب ہونے کے بعد اے پی ایم ایل کے قائد جنرل پرویز مشرف سے مشورہ کرکے نواز شریف کو ووٹ دیا ۔ اور سپیکر کے ووٹ بھی میں نے ان کے حق میں ڈالے ، اور وزیر اعظم نے میری اس حمایت کا آج تک مثبت جواب دیا ۔ جن میں لواری ٹنل کیلئے سالانہ چھ ارب روپے فنڈ کی فراہمی اور گولین گول ہائیڈل پراجیکٹس سے تیس میگاواٹ بجلی چترال کو دینے کے اہم منصوبے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف بڑے اور کھلے دل کے مالک ہیں ، انہوں نے ہمیشہ میرے مطالبات پر توجہ دی ،چترال شندور روڈ ،چترال گرم چشمہ روڈ ، اور چترال بمبوریت روڈ کے اعلانات اور کلکٹک سے چترال روڈ کیلئے دس ارب روپے کی منظوری میرے مطالبے کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ، کہ وزیر اعظم نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ،ہم اُن کے شکرگذار ہیں ، انہی کے اعلانات سے چترال کے ہزاروں متاثرین کو امدادی چیک موصول ہوئے ۔ اور لوگوں کو حوصلہ ملا ۔ ایم این اے نے کہا ۔ کہ وزیر اعظم نے زرعی قرضوں کی معافی کا کوراغ میں اعلان کیا تھا ۔ لیکن بدقسمی سے ڈائریکٹیوز میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے اُس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا ہے ۔ شہزادہ افتخارالدین نے کہا ۔ کہ سیلاب کے دوران ایف ڈبلیو او نے چترال میں غیر تسلی بخش کام کیا ۔ میں نے اُس وقت ہی کہا تھا ۔ کہ پیمائش کی بنیاد پر آدائیگیاں کی جائیں ،لیکن افسوس ایسا نہیں کیا گیا ۔ ایم این اے نے ضلعی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ۔ کہ سی ڈی ایل ڈی کے فنڈ من پسند افراد اور یوسیز میں تقسیم کئے گئے ہیں ۔ جنہیں اس طرح بندر بانٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس موقع پر پارٹی کے دیگر رہنماؤں فضل الرحمن ، سید سردار حسین شاہ ، منیر احمد چارویلو ،زاہد عالم ، محمد ولی شاہ اور سیف وغیرہ نے بھی خطاب کیا ۔ اور پارٹی کے صدر کی راہائی پر اُن کو مبارکباد دی ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں