55

گورنر خیبر پختونخوا عنقریب چترال یونیورسٹی کی منظوری دینگے/قائدین مسلم لیگ

چترل(بشیرحسین آزاد)مسلم لیگ(ن)کے ایک وفدنے ضلعی صدر سیدا حمد خان کی قیادت میں عبدالولی خان یونیورسٹی چترال کیمپس چترال کا دورہ کیا۔ وفد میں جنرل سیکرٹری صفت زرین،پارٹی ترجمان نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ اور تحصیل چترال کے صدر محمد کوثر ایڈوکیٹ شامل تھے۔کیمپس کے کوآرڈنیٹر ضیاء الرحمن اور ایڈمن آفیسر محمد حسن شامیر نے کیمپس کے مختلف شعبہ جات اور طلباء کیلئے کیمپس میں موجود تعلیمی سہولیات کے بارے میں وفد کو بریفنگ دی۔بعد ازاں کیمپس کے آڈیٹوریم میں بڑی تعداد میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر سیدا حمد خان،جنرل سیکرٹری صفت زرین،پارٹی ترجمان نیازاے نیازی ایڈوکیٹ اور تحصیل صدر محمد کوثر ایڈوکیٹ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت چترال یونیورسٹی کے قیام کے لئے سنجیدہ ہے اور بہت جلد گورنر خیبر پختونخواہ چترال آکر یونیورسٹی کی منظوری دینگے۔اس سلسلے میں چترال سے پارٹی کا عنقریب گورنر خیبر پختونخواہ سے ملاقات کر یگی۔مقررین نے کہا چترال میں 42ڈگری کالجز،70سے زیادہ کالجز اور ہرسال 20ہزار سے زیادہ یونیورسٹی طلباء وطالبات کی موجودگی میں چترال یونیورسٹی کا قیام چترال کے طلباء و طالبات کا بنیادی آئینی حق ہے۔اْنہوں نے کہا کہ چترال کے منتخب نمائندوں کو یہ کام بہت پہلے کرنا چاہیئے تھا مگر اْن کی سستی کی وجہ سے چترال کے نوجوان اس بنیادی حق سے محروم ہیں۔اْنہوں نے کہا کہ ہرسال 10سے15کروڑ روپے اعلیٰ تعلیم کی مد میں ضلع سے باہر منتقل ہورہا ہے۔مقررین نے عبدالولی خان کیمپس میں طلباء کودی جانے والی تعلیمی سہولیات،لائبریری،لیبارٹری،کمپیوٹر لیب،ہاسٹل اورٹرانسپورٹ جیسی سہولیات کی فراہمی پرخوشی اور اطمنان کا اظہار کیا۔پارٹی صدر سید احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف چترال کی تعمیر وترقی اور خصوصاً اعلیٰ تعلیم کی سہولیات کی فراہمی میں بہت دلچسپی رکھتے ہے۔اْنہوں نے کہا وزیراعظم فیس معافی اسکیم میں چترال کے طلباء سے فیس نہیں لئے جارہے ہیں۔اس سے قبل کیمپس کے کوآرڈنیٹر ضیاء الرحمن اور ایڈمن آفیسر محمد حسن شامیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس میں طلباء سے ایک پائی فیس بھی وصول نہیں کی جاتی ہے جبکہ سالانہ طلباء پر یونیورسٹی کی طرف سے کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔اْنہوں نے کہا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان علی چترالی طلباء کو سہولیات فراہم کرنے اور چترال کیمپس کو ترقی دینے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔آڈیٹوریم میں موجود طلباء اور طالبات نے اس موقع پر’’ ہمیں یونیورسٹی چاہئیے‘‘ کے فلاک شگاف نعرے لگائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں