58

قومی خزانے کی حفاظت…تحریر۔خلیق الزمان خطیب شاہی مسجد چترال

حضرت عمر بن عبد العزیز نے جنہیں ان کے تقویٰ اور عدل کی وجہ سے عمر ثانی کہا جاتا ہے،صرف ڈھائ سال کی مختصر حکومت کی تھی،مگر اس مختصر سے مدت میں خلق خدا یہ محسوس کرتی تھی کہ زمیں اور آسمان کے درمیان عدل کا ایک ترازو قائم ہے،اورانسانیت نے ازادی،محبت،امن اور خوشحالی کا تاج پہناہواہے،لوگ ہاتھوںمیں خیرات لئے پھرتے تھے مگر کوئ محتاج نہیں ملتا تھا،ناظم بیت المال کے پاس عطیات کی رقمیں بھیجی جاتی تھیں،مگر وہ عزر کرتے تھے کہ یہاں کوئ حاجت مندباقی نہیں رہا-
اس عدل وانصاف اورامن خوشحالی کے دور میں بھی حضرت عمر بن عبد العزیز کوبیت المال کی پائ پائ کا خیال تھااپ ہی کے دور میں ایک مرتبہ یمیں کے بیت المال سے صرف ایک دینارگم ہوگیا،حضرت عمر بن عبد العزیز کواس کی اطلاع ملی توبے قرار ہو گئے،
اسی وقت قلم ہاتھ میں لیا اور یمن کے افسر خزانہ کو لکھا:
میں تمہیں خائن قرار نہیں دیتا،پھر بھی تمہارےلاپرواہی کواس کا مجرم قرار دیتاہوں،میں مسلمانوں کی طرف سےان کی مال کا مدعی ہوں،تم اس پر شرعی حلف اٹھاو کہ دینار کی گمشدگی میں تمہارا ہاتھ نہیں۔ آہ ہا۔
آج کل لوٹ کھسوٹ کے زمانے میں جس میں بیت المال کو زاتی خزانہ تصور کر لیا گیا ہے،۔اور قوم کے امانتوں کوزاتی حق سمجھلیاجاتاھے،حضرت عمر بن عبد العزیز کا یہ طرزعمل ہمارے ذہنوں کےرخ کو موڑنے کیلئے کافی ہے-کاش!ہمارے حکمران اور حکومتیں اس عہدسازشخصیت کی دورکی تاریخ پڑھیں تو انہیں یہ باورہوجائے کہ ترقی،امن اور خوشحالی،عدل وانصاف اور تقوے سے حاصل ہوتی ہیں غفلت ولاپرواہی سے نہیں-

Print Friendly, PDF & Email