57

تالاش کا برساتی نالہ اوربے حسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

آج میں ضلع دیرلوئرکے علاقہ زیارت تالاش اور شمشی خان کی برساتی ندی باالفاظ دیگر(قاتل ندی) کوموضوع کالم بنارہاہوں جو یہاں کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔عام طورپرتوندی اور برساتی نالے پر پل بنایاجاتاہے اورپانی پل کے نیچے سے گزرتاہے مگریہاں الٹی گنگابہتی ہے پشاور/چترال مین شاہراہ پر واقع زیارت بازار اورشمشی خان میں ند ی کاپانی سڑک کے اوپرسے گزرتا ہے بلکہ یہ کہناشائد زیادہ مناسب ہوکہ ندی پر محض سیمنٹ کے فرش پرروڈگزاراگیاہے اوربارشوں کی صورت میں جب سیلابی پانی آتاہے تو گاڑیاں پانی میں سے گزرتی ہیں اور بعض اوقات توعالم یہ ہوتاہے کہ گھنٹوں گھنٹوں تک گاڑیاں ندی پارنہیں کرسکتیں ایسے میں انتظارکی زحمت سے بچنے اور جلدی پہنچنے کی لالچ میں ندی پارکرنے کی ناکام کوشش کی دوڑمیں اب تک کئی گاڑیاں فرش سے نیچے گری ہیں جس کے نتیجے میں یہ قاتل ندی درجنوں قیمتی انسانی جانوں کونگل چکی ہے مگریہاں کے منتخب عوامی نمائندوں کی بے حسی ،حکومت وقت کی چشم پوشی اورمتعلقہ اداروں کی نااہلی اور غفلت ولاپرواہی کے باعث یہ مسئلہ حل ہونے کانام نہیں لے رہاہے ۔گزشتہ دنوں جب بارشوں کاسلسلہ شروع ہوااورہرسوآب رحمت برس رہی تھی توایک مقامی صحافی نے زیارت تالاش میں بازارکے عین وسط میں بہتی برساتی ندی کی تصویرسوشل میڈیاپر شیئرکی تھی جس میں دکھانایہ مقصود تھاکہ پانی سڑک پر اورگاڑیاں پانی میں سے گزرررہی ہیں اور نہ صرف گاڑیاں بلکہ مقامی پیدل لوگ بھی۔لیکن کہتے ہیں کہ ایک جگہ تین بندے بیٹھے ہوئے تھے جن میں ایک نابینادوسرابہرااورتیسرا ٹانگوں سے معذورتھا۔نابینانے کہاوہ دور راہ چلتے لوگ تمہیں نظرآرہے ہیں بہرے نے کہاہاں مجھے ان کی باتیں سنائی دے رہی ہیں ساتھیوں کی باتیں سن کر اپاہج نے کہاچلودوڑلگاتے ہیں اور پوچھتے ہیں وہ کہاں جارہے ہیں،ہم اگر سوشل میڈیاپرتصویریں اپ لوڈکرتے ہیں یاپرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکے ذریعے کچھ دکھاناچاہتے ہیں توکسے ؟جب تک کسی شخص کو اپنے گھر میں عزت نہیں دی جاتی گاؤں اور آس پاس کے ماحول میں اس کی کوئی عزت نہیں بنتی ٹھیک اسی طرح سیاسی اکھاڑے کاکوئی کھلاڑی تب تک فاتح قراردیاجاسکتاہے نہ اسے اختیارواقتدارمل سکتاہے اور نہ ہی وہ عزت کامقام پاسکتاہے جب تک اس کے اپنے آبائی علاقہ اور انتخابی حلقہ کے عوام اسے عزت واحترام اور اعتمادسے نہیں نوازتے۔ دیکھاجائے تووطن عزیزکے وجود میں آنے کے بعد جب سے تشکیل اقتدار کے لئے انتخابی نظام نے جنم لیاہے تب سے لے کر اب تک عوام ہمیشہ سیاستدانوں پر اعتماد کرتے چلے آرہے ہیں ۔عوام نے ہر انتخابی عمل میں اپنے ووٹ کے ذریعے ہم خیال سیاسی جماعتوں اور من پسند سیاستدانوں کو منتخب کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایاہے لیکن وجود رکھتی اس حقیقت کو نظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ سبزباغ دکھاکر،روشن مستقبل کی امید دے کراور طرح طرح کے جھوٹے وعدوں اوردعوں کے ذریعے یاپھر وطن اور مذہب کے نام پر سیاستدان سادہ لوح عوام کوبہلاپھسلاکراوران کے قیمتی ووٹ کی طاقت کوزینہ بناکر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرتے رہے ہیں لیکن اس کے بعد عوام سے کئے گئے وعدے بھول جاتے ہیں ،عوام کی ضروریات اور علاقہ کے مسائل کیاہیںیہ کبھی سیاستدانوں کویاد ہی نہیں رہتا،وہ پلٹ کر نہیں دیکھتے کہ وہ کہاں سے آئے اور کس طرح آئے، انہیں احساس تک نہیں ہوتاکہ ان کے حلقے کے عوام کس حال میں ہیں ۔ذکرہوضلع دیر لوئر کاتویہاں کے عوام نے سیاسی جماعتوں اور ان سے جڑے لوگوں پر ہمیشہ غیر متذلزل اعتماد کیاہے اور اسی عوامی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ سراج الحق دودفعہ سینئر صوبائی وزیرکے عہدے پر فائز رہے ہیں اور اس وقت سینیٹر کی حیثیت سے ایوان بالاکے رکن ہیں۔عوامی اعتماد ہی کانتیجہ ہے کہ جماعت اسلامی ہی سے وابستہ مظفرسید اور عنایت ا للہ آج صوبائی وزیرکے عہدوں پر فائزہیں جن میں مظفرسید کے پاس وزارت خزانہ اورعنایت اللہ کے پاس وزارت بلدیات کاقلمدان ہے۔ عوامی اعتماد ہی کی بدولت پیپلزپارٹی کے احمد حسن خان اس وقت سینیٹ کے ممبرہیں اورماضی میں کئی بارقومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبررہنے کے ساتھ ایک دفعہ صوبائی وزیربھی رہے ہیں اورذکر ہوماضی کے دریچوں کاتو2008سے 2013 تک پیپلزپارٹی کی حکومت میں نجم الدین خان اور ملک عظمت خان وفاقی وزیر کے عہدوں پر فائزرہ چکے ہیں۔قومی وطن پارٹی کے موجودہ ایم پی اے بخت بیدارخان بھی دوبارصوبائی وزیررہ چکے ہیں جبکہ90کی دہائی میں ملک جہانزیب خان بھی یہاں سے مسلم لیگ نون کے صوبائی وزیر تھے ۔عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان اورزاہدہ بی بی جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے مولاناگل نصیب خان بھی سینیٹرزرہ چکے ہیں اوراس کے علاوہ بھی اگر عزت افزائی کی بات ہوتوکئی دفعہ ممبراسمبلی اورایک بار ضلع ناظم منتخب ہونے والے مرحوم ڈاکٹر محمد یعقوب خان جماعت اسلامی جیسی منظم اور ملک گیرمذہبی سیاسی جماعت کے صوبائی نائب امیربھی تھے جبکہ سراج الحق مرکزی امیر کی حیثیت سے اس جماعت کی قیادت کرتے نظرآرہے ہیں۔سابق سینیٹر زاہد خان پچھلے کئی سالوں سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے منصب پر براجماں ہیں جبکہ ضلعی صدر حسین شاہ یوسفزئی اسی جماعت کے صوبائی جوائینٹ سیکرٹری رہ چکے ہیں۔سینیٹر احمد حسن خان ماضی میں پیپلزپارٹی شیرپاؤ کے صوبائی صدر رہے اوراس وقت پیپلزپارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر ہیں جبکہ سابق وفاقی وزیر نجم الدین خان پیپلزپارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام کے سابق سینیٹر مولاناگل نصیب خان اپنی جماعت کے صوبائی امیر ہیں اور اس منصب پر وہ ماضی میں بھی فائز رہ چکے ہیں اگرچہ مذکورہ بالا معززین کاحکومتی اور جماعتی عہدوں پر فائز رہنا ان کا اعزازہے مگراس کے اصل حقداربہرحال دیرکے عوام ہیں جن کے اظہار اعتماد اور سپورٹ کی مرہون منت یہ لوگ اس مقام پر پہنچے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ذمہ دار جماعتی اور بااختیارحکومتی عہدوں پر فائز رہتے ہوئے یہاں کے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا جس کی واضح دلیل زیارت تالاش اور شمشی خان کا برساتی نالہ ہے جس سے روزوہ گزرتے ہیں مگر انہیں یہ نالہ نظر نہیں آتا۔ تاہم اب بھی وقت ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اوراپنے ضمیر کوجگائیں اس سے قبل کہ قوم کاضمیرجاگ جائے اوروہ ان سے ان کے تمام اعزازات واپس لینے کافیصلہ کریں پھر نہ رہے بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں