146

چترال سے ساٹھ کلومیٹر دور کریم آباد سوسوم میں سکول کے چھ طالب علم سمیت 9 افراد برف کے تودے کی زد میں آکردب کر لاپتہ

چترال ( محکم الدین) چترال سے ساٹھ کلومیٹر دور کریم آباد سوسوم میں سکول کے چھ طالب علم سمیت 9 افراد برف کے تودے کی زد میں آکردب کر لاپتہ ہو گئے تھے۔ جن میں سے دو کی لاشیں نکال لی گئی ہیں ۔ جبکہ دیگر لاشوں کی تلاش جاری ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پہاڑی علاقہ کریم آباد سو سوم میں امتحانی پرچہ دینے کے بعد چھ طالب علم سکول سے گھروں کو روانہ ہوئے ۔ جن کے ساتھ تین اور راہگیر بھی شامل تھے ۔ لیکن یہ طلباء گھر پہنچنے کی بجائے راستے میں لاپتہ ہو گئے ۔ لا پتہ ہونے والوں میں مبشر ولد نوروز، عمران الدین ولد عظمت ، علی شان، عمران ولد افضل ، محمد الہی اورفیض علی ساکنان کریم آباد اور ارشاد احمد جماعت نہم اوررحمت بائے ولد آدینہ خان کا تعلق پرسان سے ہے ۔ جبکہ ہلاک ہونے والے ایک کی نام معلوم نہ ہو سکی ۔ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل کریم آباد محمد یعقوب خان نے ہمارے نمائندے کو بتایا ، کہ کریم آباد سو سوم میں دو فٹ سے زیادہ برف پڑی ہے ،اور تمام پہاڑی راستے سفر کرنے کیلئے انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں ،اور ہر وقت برف کے تودوں کے گرنے کا خطرہ رہتا ہے ۔ ہفتے کے روز مذکورہ طالب علم امتحانی پرچے کیلئے سکول گئے ، اور پرچہ دینے کے بعد گھروں کو روانہ ہوئے ،لیکن شام تک گھروں کو نہیں پہنچے جس پر اُن کی تلاش شروع ہوئی ، اور مقامی لوگوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ۔کہ وہ دن کے وقت گرنے والے برف کے تودے کی زد میں آکر جان بحق ہوئے ہیں ۔اس پر مقامی لوگوں نے برف کے تودے میں اُن کی تلاش شروع کی ۔ لیکن رات ہونے پر مزید تلاش جاری نہ رکھا جا سکا ۔ اتوار کے روز لاپتہ افراد کی مقامی لوگوں ،چترال سکاؤٹس ، چترال پولیس ،چترال لیویز اور فوکس کے رضاکاروں نے لاپتہ افراد کی تلاش دوبارہ شروع کی ۔ اور دو افراد طالب علم مبشر ولد نوروز اور رحمت بائے ولد آدینہ خانکی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے ۔لیکن شدید برفباری اور اوپر سے مزید برف کے تودے گرنے کے خطے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مسلسل رکاوٹ آرہی ہے ۔ نو افراد کی ہلاکت پر علاقے میں انتہائی صدمے اور غم کا ماحول ہے ۔جبکہ موسم کی مسلسل خرابی کی وجہ سے اس پہاڑی علاقے کے لوگوں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں