113

بلاول بھٹو کی بغاوت مگر۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

ذوالفقارعلی بھٹو اس سسٹم کے خلاف تھے جوغریبوں کاحق مارتاتھا،انہوں نے ایک مخصوص طبقے کے خلاف بغاوت کی تھی اور روٹی ،کپڑااور مکان کانعرہ لگایاتھا،غریبوں کے لئے جاں دینا صرف بھٹوجانتاہے،میری والدہ بے نظیربھٹو شہید نے اپنے والد کے مشن کی تکمیل کے لئے عوام کے حقوق کی جنگ جاری رکھی ، بے نظیر بھٹونے مردوں کے سماج میں خواتین کے حقوق کی بات اور عوام کی خاطر ہر ظالم سے ٹکرائیں، ایک بارپھر تاریخ دہرائی گئی اور بے نظیر بھٹوکوشہید کیاگیا،انہوں نے جاں دے دی مگر غریب عوام کاساتھ نہیں چھوڑا۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کے ایساکہنے سے کوئی اختلاف نہیں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے ناناذوالفقارعلی بھٹو ایک انقلاب اورفلسفے کانام تھا وہ واقعی ایک مخصوص طبقے سے باغی تھے اور اس سسٹم کے خلاف لڑتے رہے جس میں ملک کاغریب طبقہ احساس محرومی کا شکارتھا بلکہ یہ کہاجائے کہ مخصوص طبقے کے باغی بھٹونے اپنے حقوق سے محروم عوام کو بغاوت پر اُکسایااور اگرچہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ان کا روٹی ،کپڑااورمکان کانعرہ پس پردہ کیوں رہاتاہم اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بھٹو نے عوام کواپنے حقوق کے لئے کھڑاہونے کاحوصلہ اور منہ میں زبان دے کرانقلاب برپاکیا جس پرملک کے اکثریتی عوام نے انہیں قائدعوام کے خطاب سے نوازا۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کی وجودرکھتی تاریخ کی روشنی میں کہنااورماننایہ بھی غلط نہیں ہوگاکہ ذوالفقارعلی بھٹوکی بیٹی بے نظیر بھٹونے والد کے مشن کوجاری رکھاوہ بھی والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کے حقوق اور جمہوریت کے فروغ کے لئے لڑتی اور والد کے لگائے اس نعرے کو بڑی حد تک زندہ رکھنے میں ہمہ وقت مصروف رہیں کہ طاقت کاسرچشمہ عوام ہے اور پیپلزپارٹی کی جڑیں عوام میں ہیں۔ بے نظیر بھٹوشہید نے آخری وقت تک پارٹی پر اپنی گرفت خاصی مضبوط رکھی اور سیاسی جدوجہدمیں ان کی سحرانگیزشخصیت کاجادوتواس قدر چلاکہ چاروں صوبوں کی زنجیربے نظیر بے نظیرکانعرہ ملک کے طول عرض میں گونجتارہا۔ انہوں نے واقعی مردوں کے سماج میں خواتین کے حقوق کی بات کی اور دخترمشرق کہلائی اور جب تک وہ حیات تھیں ان کی پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مانی اورتسلیم کی جاتی رہی سواگرچہ بلاول بھٹوکی اس قسم کی لب کشائی سے کسی کو کو ئی اختلاف ہے نہ ہی بھٹوخاندان کی سیاسی جدوجہداورقربانیوں سے کو ئی انکار۔ بلاشبہ سیاسی استحکام ،جمہوری فروغ اور آئین وقانون کی بالاستی کے لئے ذوالفقارعلی بھٹواور ان کی دختر بے نظیربھٹوشہید نے جو گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ان کاایک زمانہ معترف ہے اور اپنے تو اپنے ان کے سیاسی مخالفین بھی اس کااعتراف کرنے پر مجبورہیں لیکن والدہ کے نقش قدم پر چلنے اوراپنے ناناکے مشن کوجاری رکھنے کی غرض سے علم بغاوت بلند کرنے کاعزم کرتے دکھائی اور سنائی دیتے بلاول بھٹوآج پارٹی کے اندرون خانہ بھی اور ملک کے سیاسی میدان میں بھی یقینی طورپر ایک مشکل صورتحال کاسامناکررہے ہیں ان کوعوامی سطح پر پارٹی کی انتہائی گری ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے مشکل چیلنج کاسامناہے ۔پشتوکامشہورمقولہ ہے کہ ’ میخہ د لکئی نہ نہ راٹینگیگی‘ یعنی بھینس کودم سے قابو نہیں کیاجاسکتا۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اگر آج یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنے نانااور ماں کاپرچم اٹھاکر ملک کے وسائل پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بغاوت کررہاہوں اور ہمار ی لڑائی مفادپرستوں کے خلاف ہے تواچھی بات ہے لیکن کیاضروری نہیں کہ وہ شروعات اپنی پارٹی ہی سے کریں اوریہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ اس مخصوص مفادپرست ٹولے کے لوگ ان کے اندرونی صفوں میں توموجودنہیں کیونکہ آنکھوں میں دھول جھونک کر اور پیٹھ میں چھراگھونپ کر کوئی اپناجونقصان دے سکتاہے وہ شائد پرایانہیں دے سکتا۔اٹھتا سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہواکہ ملک کے طول وعرض پرحکمرانی کرتی بھٹوکی پیپلزپارٹی آج محض ایک صوبے (صوبہ سندھ) تک محدود ہوکررہ گئی ہے اوروہاں بھی اس کے کردار پرمختلف سوالات اٹھائے جارہے ہیں،ایساکیوں ہواکہ جس صوبے (پنجاب)میں اس پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی وہاں اس کا صفایاہوچکاہے اور ایساکیوں ہواکہ سوائے سندھ کے دیگرصوبوں میں ملک گیر جماعت کہلاتی پیپلزپارٹی آج قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست تو کجایونین کونسل کاانتخابی معرکہ جیتنے سے بھی رہی۔کیایہ سچ نہیں کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ غریبوں کے نام پر سیاست کی ،عوام کوروزگاردیا،اسمبلیوں میں محروم طبقات کی نمائندگی کی،ترقیاتی کاموں کاجال بچھاکرپسماندہ علاقوں کی پسماندگی دور کرنے میں کرداراداکیا،آئین وقانون کی بالادستی کانعرہ لگاتی اور غریب ومتوسط طبقے کی حالت سدھارنے میں مصروف دکھائی دی ایسے میں اٹھتاسوال یہ ہے کہ پھر اس کایہ حشرکیوں ہوا۔کیا ضروری نہیں کہ مفادپرستوں کے خلاف اعلان بغاوت کرتے بلاول بھٹوپہلے وہ عوامل ڈھونڈیں جو پارٹی کی تباہی کاباعث بنے ہیں۔کیابلاول بھٹوان حقائق کوتسلیم نہیں کرتے کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت اور حکومتی وزراء پر مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات لگے ،عزیربلوچ اور شرجیل میمن کن الزامات کی زد میں ہیں ،پیپلزپارٹی ڈاکٹرعاصم کادفاع کیوں کررہی ہے،پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری آج ملک سے باہر کیوں ہیں اور وہ کیاخوف ہے جو انہیں وطن واپس آنے سے روک رہاہے،پانچ سال وفاقی حکمراں جماعت رہنے کے باوجود پیپلزپارٹی عام انتخابات میں بری شکست سے دوچار کیوں ہوئی،سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ناکام کیوں دکھائی دے رہی ہے ۔ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنے اور ازالہ کرنے تک اگر بلاول بھٹو سمجھتے ہیں کہ وہ پارٹی کی گری ہوئی ساکھ کوبحال کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے تواس سے بڑی غلط فہمی اور خوش فہمی کوئی نہیں ہوسکتی۔بلاول بھٹو پہلے تو یہ تعین کریں کہ وہ اپنے فیصلوں میں کتنے بااختیارہیں کہیں چیئرمین اور شریک چیئرمین کے فیصلے آپس میں متصادم تونہیں ہوتے کیونکہ جب تک پارٹی قیادت فیصلہ سازی میں یکسو نظر نہیں آتی کوئی فیصلہ بارآور ثابت نہیں ہوتا۔اپنے اختیارات کاتعین کرنے پر ہوامیں تیر چلانے کی بجائے بلاول بھٹوکو عوام اور پارٹی ورکرزسے رجوع کرلیناچاہئے جو ماضی میں پارٹی کاخاصہ رہاہے۔ ضروری ہے کہ بلاول بھٹو زرداری پہلے اپنے اندرونی صفوں کاقبلہ درست کرکے ٹوٹ پھوٹ کی شکار پارٹی کوازسرنوتوانابنائیں تب علم بغاوت بلند کرکے غاصب اور مفادپرست قوتوں کوللکاریں بصورت دیگر بلاول بھٹواوران کی جماعت سیاسی طورپر مزید نقصان سے دوچار ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں