84

صوبائی حکومت زکواۃ و عشر کے نظام کو نادار طبقوں کیلئے مفید و مستحکم بنانا چاہتی ہے۔ مظفر سیدایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ہماری صوبائی حکومت دیگر تمام محکموں کی طرح زکواۃ و عشر کے نظام کو بھی ہر قسم کی بدعنوانیوں اور آلائشوں سے پاک کرکے عوام بالخصوص نادار اور ضرورتمند طبقوں کیلئے مفید و مستحکم بنانا چاہتی ہے اور اس مقصد کیلئے دور رس نتائج کے حامل ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ محکمہ خزانہ سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں محکمہ زکواۃ کی فعالیت اور درپیش مسائل کے حل سے متعلق ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں زکواۃ و عشرکے نظام کو غریب و غیر آسودہ طبقوں کیلئے زیادہ مفید اور جامع بنانے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف تجاویز و سفارشات مرتب کرنے کے علاوہ بعض ناگزیر فیصلے بھی کئے گئے ان سفارشات میں صوبے بھر میں ضلعی زکواۃ کمیٹیوں کے چئیرمینوں کیلئے ماہانہ اعزازیہ تین ہزار روپے سے بڑھا کر موجودہ حالات کے مطابق پندرہ ہزار روپے کرنا، گاڑیوں کے پی او ایل کی شرح میں تین لیٹر ماہانہ سے حقیقت پسندانہ بنیادوں پر اضافہ، ضلعی زکواۃ دفاتر کیلئے درکار نئی گاڑیوں کی خریداری، زکواۃ وصولی کا عمل زیادہ شفاف اور موثر بنانے کیلئے کم از کم دس دس بڑے اضلاع میں نائب تحصیلداروں اور گرداوروں کی نئی اسامیوں کی تخلیق اور ناگزیر صورت میں کانٹی جنٹ عملے کی تقرری کیلئے محض پانچ سو روپے کی حد میں اضافہ قابل ذکر ہیں اجلاس میں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور حاجی حبیب الرحمان، رکن صوبائی اسمبلی سعید گل، ورکنگ گروپ کے ممبر، سابق سیکرٹری و ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور صوبائی صدر الخدمت فاؤنڈیشن نورالحق اور محکمہ ہائے خزانہ، اوقاف و مذہبی امور کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں میں ہونے والی کرپشن اور بے قاعدگیوں کے نتیجے میں سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بری طرح متزلزل ہوا اور اگر ہم اپنے سخت گیر اقدامات کی بدولت حکومتی اداروں پر عوامی اعتماد بحال بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دیگر محکموں کی طرح کی طرح زکواۃ و عشر کی کارکردگی میں بھی انقلابی تبدیلیاں رونما ہونگی اس کی بدولت ایک طرف لوگ زکواۃ کٹوتی سے پہلے ہی بینکوں سے اپنی رقوم نکلوانے اور دولت چھپانے کی بجائے زکواۃ کی حکومت کو رضاکارانہ اور بروقت ادائیگی پر مائل ہونگے تو دوسری طرف عوام ہی کے مطالبے پر عشر کا نظام بھی جلد بحال و لاگو کرکے دور بنویﷺ اور خلفائے راشدینؓ کی ریت زندہ ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو پھر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے احیاء میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم زکواۃ کمیٹیوں کے چئیرمینوں کو عوام کا ایماندار ترین طبقہ سمجھتے ہیں اور حکومتی سطح پر انکی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرکے اس نظام کی کامیابی اور اسلامی فلاحی معاشرے کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے محدود مالی وسائل کے پیش نظر محکموں کی تمام ضروریات کی تکمیل اور نئی اسامیاں پیدا کرنا ممکن نہیں تاہم صوبائی حکومت عوامی مفاد کے تحت محکموں کے جائز مسائل و مشکلات کے حل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی انہوں نے محکمہ زکواۃ و عشر کے مسائل کے حل کیلئے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اور چیف سیکرٹری کی زیر صدارت اجلاسوں میں پیش کردہ سفارشات پر مناسب عمل درآمد کا یقین دلایا اور متعلقہ حکام کو اس ضمن میں واضح پیشرفت دکھانے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں