72

گذشتہ تین دنوں سےجھلسا دینے والی گرمی نے چترال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اور سورج مسلسل آگ برسا رہا ہے

چترال ( محکم الدین ) گذشتہ تین دنوں سےجھلسا دینے والی گرمی نے چترال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اور سورج مسلسل آگ برسا رہا ہے ۔ دروش ، ایون اور چترال شہر سمیت لوئر چترال کے تمام علاقے شدید گرم کی لپیٹ میں ہیں ۔ گرمی کی شدت سے دریائے چترال کے بہاو میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ اور دریا کی طغیانی میں شدت آرہی ہے ۔ سیانے لوگوں کا کہنا ہے ۔ کہ دریائے چترال شدید گرمی کی وجہ سے اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے ۔ بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے لوئر چترال کے مڈکلشٹ ، کالاش ویلیز ، آرکاری کے بالائی پہاڑوں اور اپر چترال کے وادی بروغل میں چیانتر گلیشیرسمیت درجنوں گلشیرز مسلسل پگھلاو کی زد میں ہیں ۔ اور ان گلشیرز اے نکلنے والے پانی کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے ۔ دریائے چترال کے پانی میں طغیانی کے سبب اپر چترال میں کھوژسے چوئنچ تک آراضی اور روڈ کو زبردست نقصان پہنچا ہے ۔سارغوز ، جنالی کوچ ، ریشن اور لوئر چترال میں جوٹی لشٹ ، ایون میں کھڑی فصلیں دریا کے پانی میں ڈوب گئی ہیں ۔ گرمی سے گولین ازغور گلشیر جو کہ پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہو چکا ہے ۔ کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔ جس کی گولین ہائیڈل پاور اسٹیشن کے اسٹاف مسلسل نگرانی کر رہے ہیں ۔ تاکہ اچانک گلشیر کے پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے ممکنہ سیلاب سے پاور ہاوس کے ڈیم کو محفوظ بنایا جا سکے ۔ گرمی سے بچنے کیلئے بجلی کے استعمال میں اضافہ سے بجلی گھروں پر دباو بڑھ گیا ہے ۔ وہاں بچے اور جوان دریاوں ، ندی نالوں اور نہروں کے پانی میں نہا کر گرمی کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ تو کچھ لوگوں نے بچوں کو دریاوں سے دور رکھنے کیلئے گھروں کے اندر ہی ہوا سے بھرے مصنوعی ٹب میں پانی بھر کر تیراکی سیکھنے اور گرمی کا مقابلہ کرنے کی سہولت مہیا کر دی ہے ۔ جس کا بچے لطف اٹھا رہےہیں ۔ موسمیاتی تجربہ رکھنے والے مقامی بزرگوں کا کہنا ہے ۔ کہ گرمیوں کے موسم میں شدید گرمی اور سردیوں کے موسم میں شدت کی سردی ہی چترال کا اصل موسم ہے ۔ جو کہ گذشہ کئی سالوں سے بگڑا ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے انسانی صحت اور میوہ جات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں