38

ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑ ے ہوں گے، امیر جماعت اسلامی ضلع چترال مولانا جمشید احمد

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال) امیر جماعت اسلامی ضلع چترال مولانا جمشید احمدنے مرکزی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن کی ٹیکس فری حیثیت کو ختم کرنے اور یہاں کسٹم ایکٹ لاگو کرنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑ ے ہوں گے جن کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اس ٹیکس کے نفاذ سے ان کی معاشی حالت اور بھی ابتر ہوجائے گی۔ اتوار کے روزچترال پریس کلب میں ناظم شعبہ تربیت مولانا سلامت اللہ اور اسسٹنٹ سیکرٹری قاری فدا محمد کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ سالوں کے دوران ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع دہشت گردی اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوگئے تھے جبکہ گزشتہ سال کی زلزلے نے رہی کسر بھی پوری کردی تھی لیکن مرکزی حکومت نے کسٹم کا بم گراکر ان کے منہ سے نوالا چھیننے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1969ء میں ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع کا صوبہ سرحد میں ادغام کے وقت ان اضلاع کو مرکز کے تحت قبائلی علاقہ جات (پاٹا) کا درجہ دیتے ہوئے اسے ہرقسم کی مرکزی ٹیکس کے نفاذ کو پاٹا کو ترقی یافتہ اضلاع کے برابر لانے اور لوگوں کی معاشی استحکام کے ساتھ مشروط کیا گیا تھا لیکن اس علاقے میں ترقی تو درکنا ر، سیلاب اور دہشت گردی کے ساتھ گزشتہ سال کے زلزلے نے تباہی وبربادی مچادی۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہاکہ ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع میں چترال سب سے پسماندہ اور دورافتادہ ضلع ہے جو کہ سال چھ ماہ ملک سے کٹا رہتا ہے اور یہاں غربت اپنی انتہا پر ہے کیونکہ روزگار کے ذرائع نہیں ہیں اورقیامت خیز سیلاب اور زلزلے سے غربت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے تو ان حالات میں کسٹم ایکٹ کا نفاذان کے منہ سے نوالہ چھیننے کی مذموم کوشش ہے جبکہ سیلاب اور زلزلے کے متاثرین حکومتی امداد کے منتظر تھے ۔ انہوں نے کہاکہ چترال جیسے پسماندہ ، دورافتادہ ، آفت زدہ علاقے میں کسٹم ایکٹ کا نفاذ نواز شریف حکومت کا سیاہ کارنامہ تصور کیا جائے گا جبکہ غربت کے مارے عوام بہت جلد اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

DSC00020

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں