75

پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، عوامی تحریک اور جماعت اسلامی کی جانب سے کمیشن مسترد جبکہ ایم کیوایم نے خوش آئند قراردیا

لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پاکستان عوامی تحریک نے وزیراعظم کے اعلان کردہ کمیشن کو مسترد کردیا ہے جبکہ ایم کیو ایم نے کمیشن کے اعلان کو خوش آئند قراردیا ہے۔ترجمان پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کا پاناما پیپرز سے تعلق نہیں تھا،  وزیراعظم نے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ وزیراعظم نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کمیشن کے سربراہ کا اعلان وہ خود کریں گے یا سپریم کورٹ جبکہ کوئی ٹائم فریم بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا فرض ہے الزامات کی تحقیقات خود کرے.جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے وزیر اعظم کے خطاب پر ردعمل میں کہا ہے کہ وزیر اعظم نے پاناما لیکس کے اصل سوال کہ ان کے خاندان نے آف شور کمپنیاں کیوں بنائیں کا کوئی جواب نہیں دیا ، اگر آف شور کمپنیاں اتنی ہی قانونی تھیں تو پھر ان کی پاکستان میں بھی اجازت دے دی جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم نے کمیشن کو مسترد کردیا ہے۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے کہا کہ ریٹائرڈ جج پر مبنی کمیشن دھوکہ اور ڈرامہ ہے ،وزیر اعظم فوری استعفیٰ دیں۔ جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں قائم سانحہ ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ آج تک منظر عام پر کیوں نہیں آئی ؟ انہوں نے کہا کہ آئس لینڈ کے وزیراعظم نے غیرت کا مظاہرہ کیا ،پاکستانی وزیر اعظم اسکی تقلید کریں اور استعفیٰ دے کر تحقیقات میں شامل ہوں اور چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں قائم کمیٹی ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کرے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما  اعتزاز احسن نے کہا اعتزاز احسن نے نوازشریف کا عدالتی کمیشن مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ پیپرز انکشافات کا فرانزک آڈٹ ہو ناچاہیے۔ جبکہ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ الزام ہم نہیں لگا رہے عالمی میڈیا میں خبریں آئیں ہیں جن کی تحقیقات ضروری ہیں۔ترجمان متحدہ قومی موومنٹ نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کا عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان خوش آیند ہے۔ تحقیقات آزادانہ ،غیرجانبدارانہ اور اس سے عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں