36

شانگلہ کے تمام اہم شاہراہیں چھٹے دن بھی ٹریفک کیلئے بند۔حکومت کی امدادی ٹیمیں ابھی تک متاثرہ علاقے میں نہ پہنچ سکی ،بشام شہر کی تمام واٹر سپلائی اسکیمیں تباہ

بشام( نامہ نگار) حالیہ سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ شانگلہ کے تمام اہم شاہراہیں چھٹے دن بھی ٹریفک کیلئے بند۔حکومت کی امدادی ٹیمیں ابھی تک متاثرہ علاقے میں نہ پہنچ سکی ،بشام شہر کی تمام واٹر سپلائی اسکیمیں تباہ ،بشام میں پینے کی صاف پانی کی قلت ،شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے علاقے میں غذائی قلت کا بھی اندیشہ۔ اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ، شاہراہ قراقرم کی بندش کی وجہ سے شمالی علاقوں کا زمینی رابط ملک کے دیگر حصوں سے منقطع، سینکڑوں مسافر اور گاڑیاں بشام اور کوہستان کے مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئی، بشام سوات روڈ کا کئی کلومیٹر حصہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا ۔وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کا سیلاب اور بارشوں سے متا ثرہ شانگلہ کا فضا ئی دورہ کر نے کے بعد واپس۔تفصیلات کے مطابق3 اپریل کے حالیہ تباہ کن سیلاب اور بارشوں میں شانگلہ بری طرح متا ثرہ ہوا ہے یہاں 20 افراد جاں بحق اورسو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں اور درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں درجنوں واٹر سپلائی اسیکمیں مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں ۔دو اہم شاہراہوں شاہراہیں قراقرم اور بشام سوات روڈ آج چھٹے روز بھی رانیا ل کے مقام پر ٹریفک کیلئے بند رہی ۔ جسکی وجہ سے شمالی علاقوں کا زمینی رابط چھٹے روز بھی ملک کے دیگر حصوں سے منقطع رہا ۔ بشام سوات کا کئی کلومیٹر حصہ سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے جسکی وجہ سے متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بشام شہر اور مضافات کے تمام واٹر سپلائی اسکیمیں مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے جسکی وجہ سے علاقے میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔دوسری طرف چھ دن گزرنے کے باوجود ابھی تک امدادی ٹیمیں علاقے میں نہ پہنچ سکی ہے ۔متاثرین بے سرو سامانی کی حالت میں پڑے حکومتی امداد کے منتظر ہے ۔جبکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ چھ دن گزرنے کے باوجود صوبائی اور مرکزی حکومت نے متاثرین کیلئے کی بحالی اور امداد کیلئے کوئی پالیسی جاری کی ہے علاقے کے متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شانگلہ ضلع کو آفات زدہ قرار دیکر یہاں کے متا ثرین کیلئے ایک جامع بحالی پروگرام تشکیل دیا جائے تاکہ متاثرین دوبارہ اپنے گھر تعمیر کر سکے ۔دوسری طرف کل وزیر اعلی خیبر پختونخواہ نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ شانگلہ ضلع شانگلہ کافضا ئی دورہ کیا اور معائنہ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں