72

داد بیداد ..… معدنیات کی دولت .…ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

وطن عزیز پا کستان میں بلو چستان کے ریکو ڈک سے لیکر سند ھ کے تھر کول اور چترال کے فولاد‘ یورینیم یا سونے کے معدنی ذخا ئر تک سوئی اور کرک کے گیس سے لیکر سندھ اور بلو چستان کے تیل تک ہر قسم کی دولت قدرت کی طرف سے موجو د ہے لیکن ہم نے 72سالوں میں ان ذخائر سے اس قدر فائدہ نہیں اٹھایا کہ جن سے درپیش مسائل حل ہوں‘ہماری حکومتوں نے ریکوڈک میں سونے کے ذخا ئر سے اتنا فائدہ نہیں اُٹھا یا جتنا ہم نے کروڑوں ڈالروں میں اسکا جرمانہ اداکیا ہے ایسے میں خیبر پختونخوا کی صو بائی حکومت نے معدنیات سے فائدہ اٹھا نے کیلئے انقلا بی قدم اٹھا تے ہوئے معدنیات سے مالا مال پہاڑوں اور صحراؤں کی لیز(Lease) کا آن لا ئن سسٹم متعارف کرایا ہے خیبر پختونخوا کی سرکاری ویب سائٹ پر معدنیات کی لیز کے قواعد وضوابط کے ساتھ نقشے اور روابط (maps & coordinates) بھی دیئے گئے ہیں کسی دفتر کا چکر لگا نے کی ضرورت نہیں کسی کی مٹھی گرم کرنے کی حا جت نہیں معدنیات کی لیز میں دلچسپی رکھنے والے کاروباری شہری اس ویب سائٹ سے معلو مات حا صل کر کے جگہ پسند کر کے آن لا ئن در خواست جمع کر سکتے ہیں یوں گھر بیٹھ کر کاروباری خواتین اور حضرات سونے‘ فولاد‘ گیس‘ تیل اور یو رینیم کے قیمتی ذخا ئر کے ما لک بن سکتے ہیں گذشتہ ڈیڑھ سال کا تجربہ اور مشا ہدہ یہ ہے کہ امریکی، بر طانوی اور چینی کمپنیاں آن لائن فارم جمع کر کے لا کھوں مر بع کلو میٹر کے رقبوں کا لیز لے لیتی ہیں پا کستانی سرمایہ کار اس میں دلچسپی نہیں لیتے مقا می لو گ شکا یت کر تے ہیں کہ ہمارے پاس سر ما یہ نہیں لیز حا صل کرنے کے بعد ہمیں کیا ملے گا، سرحد چیمبر آف کا مر س اینڈانڈسٹری کے کوارڈینیٹر سرتاج احمد کا کہنا ہے کہ ہماری مثال اُس بڑھیا سے مختلف نہیں جو نوٹوں سے بھرے لفا فوں کو صندوق میں ڈال کر تالا لگا تی تھی اور مر تے دم تک غربت‘ نا داری اور بے چار گی کا رونا روتی تھی دولت اس کے گھر میں مو جود تھی مگر وہ اس دولت سے کا م لینا نہیں جا نتی تھی امریکی کمپنی معدنیات کے 6ہزار مربع کلو میٹر رقبے کیلئے فارم جمع کر تی ہے‘ چینی کمپنی معدنی ذخا ئر کے 5ہزار مر بع کلو میٹر رقبے کیلئے فارم جمع کر تی ہے‘ پا کستانی سر ما یہ کار 300مربع کلو میٹر رقبے پر نظر رکھتا ہے جبکہ مقا می درخواست گذار بڑی مشکل سے کوارڈنیٹ نکال کر 40 مربع کلو میٹر رقبے کیلئے فارم جمع کر تا ہے اس میں وسائل اور دولت کا مسئلہ نہیں درخواست گذار کی سوچ محدود ہے وہ 50مر بع کلو میٹر سے آگے سوچنے کی صلا حیت نہیں رکھتا وہ اس بات سے واقف نہیں کہ لیز لینے کے بعد کسی بڑی کمپنی کے ساتھ شراکت اختیار کر کے جوائنٹ وینچر کے ذریعے وہ اربوں کی سرمایہ کاری میں حصہ دار بن سکتا ہے معدنیات کی لیز کیلئے آن لائن درخواستوں کی سہولت صو بائی حکومت کا بڑا کارنامہ ہے مستقبل میں اس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں