86

کسٹم ایکٹ کانفاذ اور عوامی نیشنل پارٹی۔۔۔۔۔۔’اندازِ بیاں ساغرؔ ‘‘

ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذکویکسرمسترد کرتے ہیں اسے فوری طورپر واپس لیاجائے،اگرفیصلہ واپس نہ لیاگیاتوملاکنڈڈویژن سے تعلق رکھنے والے منتخب ممبران قومی وصوبائی اسمبلی مستعفی ہوں گے اوریہاں سول نافرمانی کااعلان کیاجائے گا ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسے مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹیوکی حیثیت سے وہ اس ایکٹ کے نفاذکوغیر فعال بنانے کے لئے ایگزیکٹیوآرڈرجاری کریں۔ یہ وہ متفقہ اعلامیہ ہے جوملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذکے معاملے پر10اپریل کوچکدرہ میں فشنگ ہٹ کے مقام پر عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام منعقدہ کل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر جاری کیاگیا ۔اگرچہ مختلف اوقات میں درپیش قومی اور علاقائی معاملات پر حکومت اور حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے کل جماعتی کانفرنسزکاانعقاد کیاجاتارہتاہے تاہم ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذکے معاملے پر عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کاانعقادبلاشبہ ایک کامیاب اور قابل تعریف کوشش تھی جس میں نہ صرف ڈویژن بھرکی تمام سیاسی جماعتوں،منتخب ممبران اسمبلی اوردیگر طبقات جن میں تاجر برادری، سول سوسائٹی، ڈاکٹرز اوروکلاء تنظیمیں شامل تھیں کی بھرپور نمائندگی نظرآئی بلکہ ان کایکساں مؤقف بھی سنائی دیا۔کانفرنس میں کسٹم ایکٹ کے معاملے پر لب کشائی کرتے ہوئے حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق سینیٹرزاہد خان دیرلوئرسے سابق صوبائی وزیرحاجی ہدایت اللہ ، پارٹی کے ضلعی صدر حسین شاہ یوسفزئی اورظاہرشاہ خان آف اوچ،سوات سے سابق صوبائی وزراء واجد علی خان ،ایوب اشاڑے ، ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنماء الطاف حسین،جنرل سیکرٹری ضلع بونیر شجاعت علی خان۔جماعت اسلامی کی جانب سے دیرلوئرسے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر خزانہ مظفرسید، ۔ممبرقومی اسمبلی صاحبزادہ یعقوب خان ،ممبر صوبائی اسمبلی اعزاز الملک افکاری اور ضلعی ناظم دیرلوئر ملک محمدرسول خان،ملاکنڈایجنسی سے سابق صوبائی وزیرشاہ رازخان، دیر بالا سے ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ ،قومی وطن پارٹی کی جانب سے دیرلوئرسے منتخب ایم پی بخت بیدارخان،پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے دیربالاسے سابق وفاقی وزیر نجم الدین خان،منتخب ایم پی اے صاحبزادہ ثناء اللہ ، دیرلوئر سے سابق وفاقی وزیرمملکت ملک عظمت خان اورپارٹی کے ضلعی صدر خورشید علی خان ،ملاکنڈ ایجنسی سے مسلم لیگ نون کے سینیٹرنثارملاکنڈاورپارٹی کے ضلعی صدرایصال خان،جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مولاناجاوید، پاکستان تحریک انصاف کے ملاکنڈایجنسی سے ممبرقومی اسمبلی جنیداکبرخان،ممبرصوبائی اسمبلی شکیل خان اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امورسردار سورن سنگھ،عوامی ورکرزپارٹی کے رہنماء فانوس گجر، پختونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر مختیارخان یوسفزئی، ٹریڈیونین ملاکنڈ ڈویژن کے صدر حاجی شاکراللہ خان،ملگری ڈاکٹران کے مرکزی صدر ڈاکٹرسعیدالرحمان،ضلعی نائب ناظم ملاکنڈ کرنل (ر)ابرار،قائم مقام ضلعی ناظم سوات عبدالجبارخان،ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن سوات بنچ کے صدررضی الدین ایڈووکیٹ اورچکدرہ بار ایسوسی ایشن کے صدر صاحبزادہ مشتاق احمد ایڈووکیٹ شامل تھے۔جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے ایم پی اے جعفرشاہ،سابق سینیٹر امرجیت ملہوترا،سابق ایم پی اے شعیب خان ،جے یو آئی ف کے رہنماء مولاناگل رحیم اور کئی دیگراہم سیاسی اورغیرسیاسی شخصیات بھی اس موقع پر موجودتھیں۔مقررین نے کہاکہ کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کے اشیاء پرہم سے ٹیکس لیاجاتا ہے لیکن ڈائریکٹ ٹیکس دیناگواراکریں گے نہ حکومت کوایساکرنے دیں گے۔کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے خلاف احتجاج کامعاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔چترال،دیربالا، دیرپائین، سوات،شانگلہ،بونیراور مالاکنڈ ایجنسی کے اضلاع پر مشتمل ملاکنڈ ڈویژن غریب اور پسماندہ علاقہ ہے جہاں عوام کی اوسطاََ یومیہ آمدن محض 22روپے ہے جبکہ طالبانائزیشن کے دوران اور بعدمیں دہشت گردوں کے خلاف فوجی اَپریشن راہ راست،سیلاب ،زلزلہ اور دیگر حوالوں سے یہاں کے عوام نے بڑی تکالیف اور مشکلات کاسامناکیاہے لہٰذا صوبائی حکومت ہویاوفاقی یہاں کے عوام کے صبر اور برداشت کامزید امتحان نہ لیں۔یہ علاقہ صوبائی حکومت کے زیرانتظام (پاٹا) کہلاتا ہے جس کی منفرد آئینی حیثیت ہونے سے یہاں ٹیکسوں کانفاذاوراطلاق نہیں ہوتا۔ٹیکس ہم سے کوئی نہیں لے سکتاتاہم اگر حکومتیں حالات خراب کرنے اور ریاستی جبر کے تحت قوانین نافذکرنے کی درپے ہیں تویہ ظلم وزیادتی پر مبنی ماورائے آئین اقدام ہوگاجس کاقوم ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ کسٹم ایکٹ کے خلاف منتخب عوامی نمائندے پارلیمنٹ میں آوازاٹھائیں گے دھرنابھی دیں گے بھوک ہڑتال بھی کریں گے اورضرورت پڑی تواسمبلی رکنیت سے استعفیٰ بھی دیں گے۔حکومت ہوش کے ناخن لیں ریاست سوات اور ریاست دیرکے پاکستان میں ضم ہونے کے وقت حکومت پاکستان اور ریاستی حکمرانوں کے مابین جو معاہدے ہوئے تھے ان کے مطابق ملاکنڈڈویژن کو کسی بھی قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ قراردیاگیاتھاان معاہدوں پر عملدرآمدیقینی بنایاجائے۔ کانفرنس میں موجود شرکاء کی ہرزہ سرائی اپنی جگہ مگرکسٹم ایکٹ کے نفاذ کے بعدگورنرہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہاگیاکہ یہ اقدام خیبر پختونخوا حکومت کی سفارش پراٹھایاگیاہے اس تناظرمیں اٹھتے سوال یہ ہیں کہ صوبائی وزیرخزانہ مظفرسیدکا یہ مؤقف مان درست لیاجائے کہ صوبائی وزیرخزانہ ہونے کے باوجودان کااوران کی جماعت کااس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ کہایہ جارہاہے کہ ایکٹ کی سمری انہوں نے ہی بھجوائی تھی۔کیابڑی حد تک صوبائی حکومت کادفاع کرتے اورساراملبہ وفاقی حکومت پر ڈالتے تحریک انصاف کے ایم پی اے شکیل خان کی بات سے اتفاق کیاجائے کہ صوبائی حکومت تو سفارشات دیگرمعاملات میں بھجواتی ہے لیکن اس مخصوص معاملے میں اپنی مفادات کی خاطر وفاق نے بڑی عجلت سے کام لیاہے یاپھروزن رکھتاہے تحریک انصاف ہی کے ممبرقومی اسمبلی جنیداکبرخان کایہ کہناکہ ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذجیسے ظالمانہ اقدام اٹھانے میں وزیراعلیٰ پرویزخٹک بھی اتنے ہی قصورواراور ذمہ دارہیں جتناکہ وفاقی حکومت اور گورنر۔بہرحال اب جبکہ ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ لاگوہوچکاہے اور اس کے خلاف ڈویژن بھرکے عوام سراپااحتجاج ہیں تودیکھنایہ ہے حکومت اس ایکٹ کے نفاذکوبرقراررکھنے میں کامیاب رہتی ہے یاعوام سرخرورہتے ہیں اپنے حقوق کادفاع کرنے میں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں