34

ایون گاؤں میں دریا چترال پر بننے والی ڈیم کو ہٹانے کے لئے کام کی مقدار میں اضافہ کرنے کی منظوری دی جائے۔وجیہ الدین

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) ایون گاؤں کے مغززیں حاجی خیر الاعظم ، وجیہ الدین، حاجی بہادر علی اور دوسروں نے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ سال تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ایون گاؤں میں دریا چترال پر بننے والی ڈیم کو ہٹانے کے لئے کام کی مقدار میں اضافہ کرنے کی منظوری دی جائے کیونکہ انجینئر کے تخمینے کے مطابق کام سے ڈیم کے کھولنے کا کام ادھورا رہ جائے گا۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال بننے والی ڈیم سے ایون کا چوتھائی رقبہ پانی میں عر ق آب ہوکے رہ گئی تھی، جس کو آزاد کرنے کے لئے محکمہ ایریگیشن نے ایک کروڑ 25لاکھ روپے کا تخمینہ لگاکر کام شروع کیا تھا لیکن بعد میں دریا کے پانی کے اندر چھپی ہوئی بڑے بڑے سائزکے پتھروں کو ہٹانے کی وجہ سے کام کی مقدار بڑھ گئی اور کام کے نامکمل ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔انہوں نے ٹھیکہ دار کے کام پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے انتہائی جانفشانی سے کام کرکے بہت ہی مختصر مدت میں ڈیم بننے کا باعث بننے والے دیوقامت پتھروں کو بلاسٹنگ کے ذریعے ہٹانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ مغززین ایون نے کہاکہ ایون گول کا کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے لیکن ڈیم کو ختم کرکے دریا کی روانی کو یقینی بنائے بغیر گاؤں کو اگلے موسم میں تباہ کاریوں سے بچانا ممکن نہیں ہے جس کے لئے مزید فنڈز کی فوری اور ایمرجنسی بنیادوں پر ضرورت ہے جسے وقت ضائع کئے بغیر مہیا کیا جائے۔ انہوں نے ڈی۔ سی چترال اسامہ احمد وڑائچ سے اپیل کی ہے کہ وہ بار بار سائٹ کا وزٹ کرکے صورت حال سے مکمل واقف ہیں، اور صوبائی حکومت سے مزید فنڈز منظورکرانے میں اپنا کردا ر ادا کریں۔ انہوں نے ٹھیکہ داروں بادشاہ رزاق، حاجی فضل ا مین شاہ اور اختر ایوب خٹک کی انتھک کوششوں کی بھی تعریف کی۔

DSC00319

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں