114

داد بیداد..…مردم شماری رپورٹ…..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

مشترکہ مفا دات کی کونسل کے حا لیہ اجلا س میں حکومت نے آنے والے عام انتخا بات سے پہلے مر دم شما ری کرنے کا عندیہ دیا ہے عنقریب مردم شما ری کی تاریخوں کا اعلا ن ہو گا مر دم شما ری کی رپورٹ کیسی ہو گی 1951سے اب تک مر دم شما ری کی جتنی رپورٹیں آئی ہیں ان میں سے کسی بھی رپورٹ کو اقوام متحدہ کے ادارے یو نیسکو (UNESCO) نے تسلیم نہیں کیا، کسی بھی مر دم شما ری رپورٹ کو کسی بین الاقوامی یو نیور سٹی نے حوالے کی دستا ویز کا در جہ نہیں دیا کیونکہ ہماری مر دم شما ری رپور ٹوں میں پا کستان کی زبا نوں، نسلی قو میتوں یا قبیلوں اور اقلیتی مذا ہب کا ذکر نہیں ہے جب کسی ثقا فتی اکا ئی کو عا لمی ورثہ قرار دینے کی تجویز اقوام متحدہ میں جا تی ہے تو جنرل اسمبلی کی ثقا فتی و معا شی کمیٹی (ECOSOC) اور ثقا فتی تحفظ کی تنظیم یو نیسکو (UNESCO) مر دم شما ری رپور ٹ کا حوالہ ما نگتے ہیں حوالہ نہ ملنے کی صورت میں تجویز کو مستر د کر دیا جا تا ہے کسی بھی بین الاقوامی یو نیورسٹی کا محقق جب پا کستان کی معاشرتی زند گی اور سما جی حا لا ت پر تحقیق کر تا ہے تو سب سے پہلے مر دم شما ری رپوٹ منگوا تا ہے اور یہ دیکھ کر ما یوس ہو جا تا ہے کہ اس رپورٹ میں پا کستان کی نسلی اقلیتوں کا ذکر نہیں، اقلیتی زبا نوں کا ذکر نہیں، اقلیتی مذا ہب کا ذکر نہیں اقلیتی مذہب کا لا ش کا نا م نہیں گذشتہ مردم شما ری سے پہلے 2017ء میں کا لا ش اقلیت کی طرف سے پشاور ہا ئی کورٹ میں رٹ داخل کی گئی کہ ہماری مذہب کا نا م مر دم شما ری رپورٹ میں شامل کیا جا ئے اس طرح خیبر پختونخوا کی نسلی اقلیت کھو آبا دی کی طرف سے اس نو عیت کی رٹ دائر کی گئی حکومت پا کستان کے مر دم شما ری ڈویژن کے حکام نے عدالت میں اقرار کیا کہ غلطی ہو رہی ہے اگلی مر دم شما ری میں غلطی نہیں ہو گی عدالت نے اس بنا ء پر ان کی معذرت قبول کر کے اگلی مر دم شما ری میں حکم کی تعمیل کا فیصلہ سنا یا 2017کی مر دم شما ری کے لئے جو قا نون بنا تھا اس میں ایک اور نقص تھا جسکی وجہ سے کر اچی سے چترال تک پورے ملک میں احتجا ج ہو ا نقص یہ تھا کہ کنبے میں کوئی فرد اگر پا ک فو ج میں ہے، پو لیس میں ہے ڈیو ٹی پرہے تو وہ شما ر نہیں ہو گا، کنبے کا کوئی فرد اگر تعلیم حا صل کرنے کے مر حلے میں ہے کا لج یا یو نیورسٹی کی سطح پر پڑھنے میں مصروف ہے تو اس کو بھی شمار نہیں کیا جا ئے گا اگر کنبے کا کوئی فرد ڈاکٹر یا نرس ہے، ٹیچر یا پرو فیسر ہے گھر سے با ہر ڈیو ٹی پر ہے اس کو کنبے میں شمار نہیں کیا جا ئے گا اس قانون کے تحت ہر کنبے، ہر گاوں، ہر قصبے اور ہر شہر کی ایک تہا ئی آبا دی مر دم شما ری سے خا رج ہو گئی قومی اسمبلی اور صو با ئی اسمبلی کی نشستوں میں کمی کی گئی ویلج کونسلوں کی تعداد کم ہوئی لو گوں کی نما ئندگی بھی متاثر ہو ئی مر دم شما ری میں کنبے کے تما م افراد کو شما رکرنا، ان کے مذہب اور ان کی زبا ن کو ریکارڈ پر لا نا اور ان کی نسلی شناخت کو دستا ویز کا حصہ بنا نا انسا نی حقوق میں شا مل ہیں یہ بنیا دی حقوق کا معا ملہ ہے اس پر عدا لتیں از خود نوٹس کے تحت بھی کار وائی کر سکتی ہیں 2022کی مر دم شما ری رپورٹ آنے سے پہلے سابقہ رپورٹوں کے نقا ئص کو دور کر نے پر تو جہ دینا بہت ضروری ہے ور نہ آ نے والی رپورٹ بھی قابل قبول نہیں ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں