34

عوامی نیشنل پارٹی چترال کے زیر اہتمام جشن خیبر پختونخوا عبدالولی منایا گیا۔

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال ) عوامی نیشنل پارٹی چترال کے زیر اہتمام جشن خیبر پختونخوا عبدالولی خان بائی پاس میں منایا گیا ۔جس میں پارٹی قائدین و کارکناں کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین رہنما سید مظفر علی شاہ جان ، صدر اے این پی مولانا عبد اللطیف ، جنرل سیکرٹری محی الدین ، ایم اٗی خان سرحدی ایڈوکیٹ ، عابد حسین جان ، عیدالحسین ، محمد ولی شاہ اور ظاہر شاہ نے سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی اور عوامی نیشنل پارٹی کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے اُنہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا ، کہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں چترال میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا ،اوروزیر اعلی نے آٹھ مرتبہ چترال کا دورہ کرکے چترال کے مسائل کے حل میں اپنی دلچسپی اور چترال کے عوام کے ساتھ اپنی دلی عقیدت و محبت کا اظہار کیا ۔ جس کی مثال چترال کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گولین گول واٹر سپلائی سکیم ، دروش واٹر سپلائی ، دروش کالج ،ایون ہائر سکینڈری سکول ، عبدالولی خان بائی پاس ، شیشی ہائیڈل پاور سٹیشن سمیت لا تعداد منصوبے چترال بھر میں بچھا دیے گئے ،جن کی مالیت بیس ارب روپے سے زیادہ تھی ۔ جن میں سے بعض مکمل ہو چکے ہیں لیکن بعض منصوبے موجودہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی کے سبب اب ادھورے پڑے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ۔ کہ اے این پی دور میں شروع کئے گئے منصوبے بلا تا خیر مکمل کئے جائیں ۔ سید مظفر علی شاہ جان نے کہا کہ صوبے کا خیبر پختونخوا نام رکھنے کے بعد اس کو ایک شناخت مل گئی ہے ۔ جبکہ انگریزوں نے این ڈبلیو ایف پی کے نام سے صوبے اور عوام کی شناخت ختم کردی تھی ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ۔ کہ چاہے اے این پی اقتدار میں ہو یا نہ ہو ۔عوام کی خدمت اُن کے قائدین اور کارکناں کا مشن ہے ۔ جو ہمیشہ جاری رہے گا ۔

کالاش ویلی اچھولگا میں آگ لگنے سے مکانات اور مویشی خانے سمیت ڈیڑھ سو مال مویشی جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے
چترال ( بشیر حسین آزاد) کالاش ویلی کے جنگلاتی علاقہ اچھولگا میں رات کے وقت نامعلوم وجوہات کی بناپر آگ لگنے سے شیر اعظم ولد بڈن کالاش کے مکانات اور مویشی خانے سمیت ڈیڑھ سو مال مویشی جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ۔ شیر اعظم نے میڈیا کو بتایا ۔ کہ اُن کے بھائی اور دیگر گھر والے اچھولگا میں رہائشی مکانات میں رات کو سو رہے تھے ۔ کہ اچانک آگ کے شعلوں نے رہائشی مکانات اور مویشی خانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ آگ کے شعلے اتنی شدت سے بھڑک اُٹھے ۔ کہ وہ مشکل سے اپنی جان بچاسکے ۔ جبکہ ڈیڑھ سو سے زیادہ مال مویشی آگ کی شعلوں کی نذر ہو گئے ۔ اور جل کر کوئلہ بن گئے۔ انہوں نے کہا ۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہ ہو سکی ہے ۔ شیر اعظم نے کہا ۔ کہ تمام خاندان کی زندگی کا دارومدار ان ہی مال مویشیوں پر تھا ۔ جنہیں ضرورت کے وقت فروخت کرکے اپنے اخراجات پورے کرتے تھے ۔ اور گھر میں رہائش رکھتے تھے ۔ لیکن اب وہ مکانات اورمال مویشیوں دونوں سے محروم ہو گئے ہیں ۔ اور کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ گھرکے اخراجات کیلئے اُن کے پاس کوئی وسائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ،کہ دس افراد پر مشتمل کنبہ انتہائی مشکل میں ہے ۔ اور ذہنی کرب کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آگ لگنے سے اُن کے لاکھوں کا نقصان ہو چکا ہے ۔ اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے صوبائی حکومت ، ضلعی حکومت ، ڈپٹی کمشنر چترال اور مخیر حضرات سے پُر زور اپیل کی ہے ۔ کہ اُن کی مالی مدد کی جائے ۔ تاکہ وہ ان مشکل حالات سے نکل سکیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں