131

ایف پی ایس سی اور کے پی پی ایس سی کے سنٹر ضلع چترال میں قائم کئے جائیں رضیت بااللہ

چترال/معروف سماجی شخصیت رضیت باللہ نے ایک اخباری بیان میں صوبائی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے کہ فوری طور پر FPSC اور KPPSC کے ٹیسٹ سنٹر چترال میں قائم کۓ جائیں کیونکہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ضلع چترال جیسے پاکستان کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ کہلانے والے نوجوان طبقہ محروم رہ جاتا ہے چترال دو اضلاع ھونے کیساتھ ساتھ جعرافیائی حد بندی کی وجہ سے بھی ایک الگ مقام رکھتا ہے جبکہ علاقے کے لوگ امن پسند اور محب وطن ھیں۔تعلیم کا تناسب مرد اور خواتین میں یکساں ھیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایک اچھا خاصا ٹیلنٹ اور پڑھا لکھا چترال کا نوجوان وسائل کی کمی چترال اور اپر چترال سے پشاور کا دور دراز فاصلہ ٹیسٹ سے کم از کم تین چار دن پہلے شروع کرنا پڑھتا ھے اور ہوٹلوں میں قیام خاص کر خواتین طالبات کیلۓ ایک ڈراونا خواب سے کم نہی خواتین کے اخراجات بھی تین گنا بڑھ جاتے ھیں کیونکہ خواتین کو اپنے والد یا بھائی میں کسی ایک کو شریک سفر کرنا پڑھتا ھے ۔کی وجہ سے اھم ٹیسٹوں میں شریک نہی ہو پاتا اس وجہ پڑھے لکھے نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رھی ھے کیونکہ والدین نے اپنے بچوں کو سخت مالی مشکلات کے باوجود تعلیم کے زیور سے اراستہ کیا جبکہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ایک اچھے مستقبل کا خواب انکھوں میں سجاۓ سخت محنت کرکے کوی مقام پانا چاھتے ھیں مگر حکومتی عدم تعاون اور وسائل کی کمی کی وجہ سے بہت ساری چیزوں سے محروم رہ جاتے ھیں لہزا صوبائی اور مرکزی حکومت فوری طور FPSC اور KPPSC کے سنٹر ضلع چترال میں قائم کرے تاکہ طلباء وطالبات ٹیسٹ مالی مسائل کا شکار نہ ھوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں