248

چترال کے پسماندہ علاقوں میں خواتین کوغربت وافلاس ،سخت جسمانی مشقت ،غذائی قلت اورصحت کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا ہے……..تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

چترال کے دیہی علاقوں میں خواتین کوصحت  کےحوالے سے درپیش مسائل

جتنی ابھی برف پڑی  ہے اس سے کچھ زیادہ ہی تھی تب دوسال پہلے ، کوئی چارپانچ فٹ تک۔ راستے رابطے بند ہو گئے تھے۔ میں جانوروں کے باڑے میں انکو چارہ ڈالنے گئی تھی کہ سب بدل گیا۔ یہ کہنا تھا تیس سالہ زار بی بی کا  جسکو ، خاوند کی غیرموجودگی میں اپنے  سسرال میں اپنے پہلے حمل کے دوران  ایک غیر معمولی  صورتحال کا سامنا تھا۔  اچانک انکو پیٹ میں  شدید درد محسوس ہوئی جس نے انھیں بے سدھ کر دیا ۔ جب انھیں ہوش آیا تو انکا اسقاط حمل  علاقے کی ایک  دائی کے ہاتھوں  گھر میں ہو چکا تھا۔ زار بی بی کو حمل کے دوران  بہتر خوراک نہ ملی اور  نہ ہی خاوند کی غیر موجودگی  میں سسرال سے وہ توجہ جو ایک نو بیاہتا دلہن کو ملتی ہے۔   ایک کمزور ماں ، ایک صحت مند بچی کو جنم دینے سے محروم ہو گئی جس کا درد انہیں اب بھی اسی طر ح محسوس ہوتا ہے۔

گھر کے کام کاج کے ساتھ انہیں مویشیوں کی دیکھ بھال کرنا  اور انکو چارہ وغیرہ ڈالنابھی زار بی بی کی ذمہ داری تھی۔ انکی والدہ نے انہیں کچھ روایتی خشک میوہ جات بھیجے جو انکے نصیب میں نہیں تھے۔  چاہنے کے باوجود وہ کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس بھی وسائل  اور توجہ کی کمی کے باعث نہ جا سکیں۔

گبور وادی چترال کا پسماندہ علاقہ ہے جو ایک طرف سے چترال سے تقریبا ً  پانچ سے چھ گھنٹے کے فاصلے پہ ہے۔یہ وہ  علاقہ ہے جہاں غربت اور پسماندگی کا اثر زچہ بچہ کی صحت پر واضح نظر آتا  ہے۔

زار بی بی کے شوہرشادی کے چار ماہ کے بعد  محنت مزدوری کے لئے پنجاب چلے گئے تھے ۔   جہاں وہ ایک تعمیراتی کام میں لیبر کے طور پر گزشتہ گیارہ سالوں سے کام کررہے تھے۔ جبکہ  وہ گھر میں اپنی ساس اور ایک نند کے ساتھ رہ رہی تھیں۔  جبکہ گھر کا دارومدار اور خاندان   بھر کی گذر بسر شیر خان کے بھیجے ہوئے پیسوں پر تھی۔

زار بی بی کا کہنا تھاکہ پہلی بار حاملہ ہونے والی خواتین کو خصوصی غذا اور طاقت کی ادویات لینی ہوتی ہیں لیکن وہ صرف اس بارے میں  سوچ سکتی تھیں۔ گاؤں میں موبائل فون کے سگنل نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہ تو اپنے شوہر کو کچھ بتاسکتی تھیں اور نہ گاؤں میں اپنی ماں کو۔ ایک دومرتبہ ان کی ماں نے گاؤں سے ان کے لئے دیسی گھی  اور میوے بھیج دی لیکن ساس اور نند نے ان پر بھی ہاتھ صاف کیا۔ ایک دوپہر وہ جانوروں کوچارہ ڈالنے  کے لئے باڑ ےمیں داخل ہونے والی تھی تو پیٹ میں اٹھنے والے درد کیوجہ سے وہ بے ہوش ہو گئیں جب ہوش آیا تو اپنے بیڈ پر تھیں اور ان کی ساس چند ہمسائیوں کے ساتھ ان کے پاس بیٹھی تھیں۔  وہ یہ وقت کبھی نہ بھلا سکیں جب درد کے مارے  انکی چیخیں آسمان  تک پہنچتیں۔انہیں قریبی ہیلتھ سنٹر پہنچانا ممکن نہ تھا کیونکہ موسم کی پہلی برفباری کے ساتھ ہی گاؤں کی سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند ہو گئی۔ مناسب متوازن غذاء کی قلت سے اور گھر کے کام کاج کے بوجھ سے ، وقتاً فوقتاً  چیک اپ نہ کروانے اور ٹرینڈ برتھ اٹینڈنٹ یا دائی کی خدمات نہ ملنے کی وجہ سے ان کی پہلی بچی ضائع ہوگئی ۔

زار بی بی کا کہنا تھا کہ وہ برف جو علاقے میں پڑی وہ انکے ماں بننے کے ارمانوں پہ بھی پڑ گئی۔ کیونکہ انکی نومولود بچی مر ی ہوئی پیدا ہوئی۔

معروف گائناکالوجسٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرہسپتال بونی  اپرچترال    ڈاکٹر زہرہ   ولی خان نے دیہاتی علاقوں میں   خواتین کوصحت کے حوالے سے درپیش مسائل پر  ڈیلی چترال نیوز نیٹ ورک سے خصوصی گفتگوکرتےہوئے بتایاکہ یہاں زچہ بچہ کی صحت کے حوالے سے حالات بہت توجہ طلب ہیں۔  تحصیل مستوج کے بالائی دیہات ،تحصیل موڑکہوکےعلاقہ  لوٹ اویر،گہکیر،کشم   اوردوسرے دیہا تو ں میں اکثر زچگی گا ؤ ں کی غیر تر بیت یا فتہ دا ئیو ں کے ہا تھو ں انجا م پاتی ہیں۔ دورا ن زچگی ما ؤ ں کی ا موا ت کی ایک بڑ ی و جہ غیر تر بیت یا فتہ دا ئیا ں بھی ہیں ۔ دیہی علاقوں  میں خواتین کی جسمانی مشقت زیادہ اورصحت کی دیگر سہولیات  میسرنہ ہونے کی وجہ سے ماوں اوربچوں کی اموات دوسرے علاقوں سے زیادہ ہوتی ہیں ۔

ڈاکٹرزہرہ ولی خان کاکہناہے کہ دیہی علاقوں میں حا ملہ خوا تین کو کئی  مسا ئل کا سامنا کر نا پڑ تا ہے،روایتی گھر یلو یا خا ندا نی رسم رواج کی وجہ سے حا ملہ خا تو ن کو ڈا کٹرکے پا س لیکر جا نے یا اس کے مختلف ٹیسٹ / چیک اپ کروانے کو معیو ب سمجھتے ہیں۔دوسرابڑامسئلہ نزدیکی مقامات پرایسے سنٹرزکی عدم موجودگی ہے جہاں پران کومیڈیکل کی سہولتیں میسرہوں ۔ مقامی لوگ تحصیل ہیڈکواٹرہسپتال  مستوج ،ضلعی ہیڈکواٹربونی ،لوئرچترال یادوسرے مقامات چیک اپ کے لئے جانا بوجھ سمجھتے ہیں ۔ غریب  لوگ غربت کی وجہ سے، وسائل نہ ہونے کیوجہ سے ہسپتال نہیں  جاسکتے ہیں ۔سرکاری ہسپتالوں میں تمام سہولیات مفت ہونے کے باوجودبھی دیہی اورپہاڑی علاقوں کے لوگ  سفر ی اخرا جا ت بر دا شت نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہاکہ حاملہ خواتین کے لئے متوازن اورصحت مندخوراک کی فراہمی کویقینی بناناچاہیے لیکن دیہی علاقوں میں اس پرکوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی  جس کی وجہ سے خواتین خوراک کی شدیدکمی کاشکارہوجاتی ہیں جسم میں خون کی کمی انیمیاکی شکل میں ظاہرہوتی ہے جس کاآنے والے بچے کی صحت  پربہت نقصان دہ اثرپڑتاہے انہوں نے  کہا کہ آگاہی کی جامع مہم کو علاقے کی اولین ترجیع سمجھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر چلانے کی ضرورت ہے۔

انکا کہنا تھا کہ دشوار گذار جغرافیائی صورتحال ،  صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان، وسائل کی کمی، حکومتی سطح پر ترجیحات میں شامل نہ ہونا، عورتوں کا بے اختیار ہونا ، غربت و افلاس  اور دیگر وجوہات کی بنا پر زچگی کا عمل ما وٗں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتا  ہے۔

 مختلف رپورٹس بتاتی ہیں کہ جنوبی ایشائی ممالک میں پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورتوں کی بڑی تعداد زچگی کے دوران  وفات پا جاتی ہے۔

ایک تحقیق  یہ بھی بتاتی ہے کہ عورتوں کی صحت معاشرے کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ وہ ایک گھر کو چلانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔  لیکن پاکستان جیسے ممالک میں انہیں مردوں کے مقابلے میں معیاری صحت کی سہولتوں کے حصول میں انکو بے پناہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ زچگی کے عمل کو اگر بہتر  طبی سہولتوں کی مدد سے محفوظ کیا جائے تو عورتوں کی ایک بڑی تعداد اپنے نو زائیدہ  بچے کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہیں

سنٹرل ایشیاء ہیلتھ سسٹم اسٹرنتھیننگ انی شیٹو(CASI)  پراجیکٹ ،آغاخان ہیلتھ سروس چترال کا  ذیلی ادارہ  ہےجو چترال کے پسماندہ اوردیہی علاقوں میں غذائی قلت کے خاتمے و   ماں اوربچے کی صحت کے حوالے سے  کام کررہا ہے  ۔اس  پراجیکٹ کے منیجرنگارعلی  نےڈیلی چترال سے گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ چترال کے پسماندہ دیہی علاقوں میں  غذائی قلت کے خاتمے اورغذائی قلت کے شکاربچوں کی شرح اموات میں کمی لانے  کیلئے آغاخان ہیلتھ سروس چترال  میں کئی سالوں سے کام کررہاہے اور  گذشتہ ایک سال سے نیوٹریشن پروگرام کا باقاعدہ آغازکردیاگیاہے۔جولوئرچترال کے یوسی کریم آباد،یوسی شغور ،یوسی لٹکوہ ،یوسی  شیشی کوہ کے مدک لشٹ ویلی،یوسی ایون کے کالاش وادیوں  اورشیخاندہ ،اپرچترال  کے یوسی یارخون،یوسی کھوت  اوریوسی لاسپور اوردیگر دیہی علاقوں میں کام کررہا ہے ۔پراجیکٹ مینجر کا کہنا تھا کہ  ان علاقوں میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت ، آئیو ڈین اور آئرن کی کمی کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ متوازن غذا کا نہ ملنا ہے۔ ماں اور بچے کے لئے بھی متو ازن اور صحت مند خورا ک کی فرا ہمی کو یقینی بنا نا ایک انتہائی ضروری عمل ہے لیکن دیہی علاقوں میں اس پر کو ئی خا ص تو جہ نہیں دی جا تی ہے  جس کی و جہ سے خوا تین خورا ک کی شد ید کمی کا شکا ر ہو جا تی ہیں۔ ما ں کے سا تھ سا تھ نوزائید ہ بچے کو بھی کئی مسا ئل کا سا منا کر نا پڑ تا ہے۔

نگارعلی کاکہناہے کہ ابھی کاسی پراجیکٹ کی تعاون سے اپراورلوئرچترال میں پانچ ہزارخواتین اورچارہزاربچوں کوغذائی قلت کے خاتمے کے لئے خوراک اورادویات کی مکمل کورس دے ہیں اب وہ نارمل زندگی بسرکررہی ہیں۔ بچوں میں غذائی کمزوری اور کمی  کی بنیادی وجہ غربت کے ساتھ شعوراورآگاہی کا فقدان ہے۔جس میں ہرمکتبہ فکر کے لوگوں کو اپناکلیدی کرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ  یہاں علاقے دشوارگزار ہیں، اس کے ساتھ برفباری کی وجہ سے راستے بند ہو جاتے ہیں اور کئی کئی دن  دیہی علاقوں  کا رابطہ کٹ جاتا ہے۔ برف  پڑنے کی وجہ سے رابطہ سٹرکیں عام ٹریفک کےلئے بندہو جاتی ہیں  اوران علاقوں میں صحت کے مراکزنہیں ہوتے ہیں ۔  حاملہ عورتیں ، زچگی کی حالت میں سفر کے قابل نہیں ہوتیں تو مجبورا انکو گھروں میں زچگی کے عمل سے غیر تربیت یافتہ دائیوں کی مدد سے گزرنا پڑتا ہے۔

نگارعلی نے بتایاکہ کاسی پراجیکٹ کی مالی معاونت سے200کے قریب  تربیت یافتہ ایل ایچ وی، ایل ایچ ڈبلیو،سی این ڈبلیواوردیگراسٹاف مختلف علاقوں میں جاکربچوں کووزن کرکے ماں کے دودھ پلانے اورمعیاری خوراک دینے کے حوالے سے آگاہی دےرہی ہیں ،جسمانی کمزور،چھوٹے قدوالے بچوں  اورکمزورماوں میں قوت مدافعت بڑھانے کی خوراک اورمیڈیسن تقسیم کررہی ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ قوت مدافعت بڑھانے میں غذاوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ کچھ اہم غذائیں ایسی ہیں جن کے استعمال سے فوراً قوت مدافعت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر جسم میں قوت مدافعت ہوتو کوئی بھی بیماری اور انفیکشن آسانی سے آپ پر حملہ آور نہیں ہو سکتاہے۔

معروف سماجی شخصیت سابق یوسی ناظم عبدالمجیدقریشی  نے چترال کے انتہائی پسماندہ اورپہاڑی علاقوں میں  1894ءسے  آبادنورستانی قبیلے کی نمائندگی  کی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہاکہ بمبوریت ،رمبور،بریرشیخاندہ اورگبورمیں  نورستانی قبیلے کی تقریبا  پندرہ ہزارآبادی حکومتی عدم توجہی  کے باعث انتہائی مشکل حالات میں زندگی بسرکررہی ہے۔ان علاقوں میں مردانہ بالادستی صدیوں سے چل رہی  ہے   صد یوں سے اس مردانہ بالا دستی کے اس سماج  میں  عورتوں کا وسائل پر کوئی احتیار نہیں  اور بات اگر انکی صحت سے متعلق ہو تو وہ گھریلو امور کی ترجیحات میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ مردوں سے زیادہ خواتین گھریلوکام سرانجام دیتی ہیں یہاں کے خواتین صحت کے سہولیات سے ناواقف ہیں۔پسماندگی اورآگاہی  نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کے خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ جنگل اورپہاڑوں سے لکڑی کاٹ کرلاتی ہیں اب بھی خواتین کی اکثریت  کوفرسودہ      رسوم و رواج کے باعث بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ پسماندہ علاقوں کے خواتین بیمارہوجانے کی صورت میں علاج سے بھی محروم رہتی ہیں جس کی وجہ دیہات میں ہسپتال ،خاتون ڈاکٹرکانہ ہونا اورمعاشی تنگی کے سبب بھی اکثردیہی خواتین اپنی صحت پر توجہ نہیں دے پاتیں ۔انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں    فیملی پلاننگ کوغیراسلامی قراردیتے ہیں یہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات مشہورہے کہ یہ اسلام کے اصولوں کے بالکل مخالف مغربی  سوچ و فکرہے اس  حوالے سے سرکار نے بھی  کبھی سنجیدگی سے شعورو آگاہی پھیلانے کی کوشش  نہیں کی ہے ۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں شیخاندہ بمبوریت ،رمبور،بریراورگبورکے دیہی علاقوں کی خواتین میں انتہائی کم شرح خواندگی کوختم کرکے  دیگرتمام سہولیات فراہم کیاجائے تاکہ یہ لوگ یہاں فردسوہ رسم رواج سے آزادہوسکیں۔

آغا خان ہیلتھ سروس  چترال کا ایک پراجیکٹ صحت مند خاندان  ہے جوخاندانی منصوبہ بندی اورتولیدی صحت کے حوالے سے کام کررہاہے ۔ڈیلی چترال سے گفتگوکرتے ہوئے صحت مندخاندان پراجیکٹ کے منیجرافسرجان نےبتایاکہ  صحت مندخاندان پراجیکٹ چترال کے شہری اوردیہاتی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی اوتولیدی صحت کے حوالے سے گذشتہ ایک سال سے کام  کررہے ہیں ۔اورآغاخان ہیلتھ سروس چترال مختلف پراجیکٹ اور ڈونرز کی مالی معاونت سے    1960ء کی دہائی سے چترال میں صحت کے شعبے میں نمایاں خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں لوگ خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اکثرشرم محسوس کرتے ہیں  ۔جنسی اورتولیدی صحت سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کے لئے تمام نوجوان  خواتین اورمردوں کواپنے قریبی تریبت یافتہ صحت کارکن ،نرس یاڈاکٹرسے رابطہ کرناچاہیے۔ صحت مندخاندان پراجیکٹ دیہاتی علاقوں میں تولیدی صحت کے حوالے آگاہی پروگرام کررہے ہیں تاکہ ماوں  اوربچوں کی نگہداشت اورصحت کی دیکھ بھال کوبہتربنایاجائے۔انہوں نے بتایاکہاپنے خاندان کوصحت منداورتندرست رکھنے کے لئے بچوں کی پیدائش میں مناسب وفقہ کرناضروری  ہے۔دیہی علاقوں  میں فیملی پلاننگ کے حوالے سے شعوروآگاہی پھیلانے کی اشدضرورت ہے ۔

دو ہزار اکیس کی گلوبل نیوٹریشن رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے دنیا میں ایک سو پچپن میلین لوگ مذید غربت میں دھکیل دئے گئے ہیں۔ جسکی وجہ سے غذا سے متعلقہ دائمی بیماریوں سے متاثرہ لوگوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اس کے ساتھ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں نیوٹریشن (متوازن خوراک یا غذاء) سے متعلقہ پائیدار ترقیاتی کے مقرر کردہ اہداف کے حوالے سے شازونادر ہی کوئی ملک ترقی کی طرف گامزن ہے۔ گنے چنے کچھ ممالک ہیں جو اپنی کارکردگی کیوجہ سے نمایاں ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے لیئے حکومتی سطح پر سنجیدگی کا اظہار پارلیمنٹ کی ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ کیا اور  نہ صرف پائیدار ترقیاتی اہداف کا ایجنڈا اپنایا  بلکہ نیشنل انیشیٹو سکیشن بھی قائم کیا۔

یونیسف کی دوہزار اٹھارہ کی رپورٹ پاکستان میں متوازن غذا کے حوالے سے جو حقائق سامنے لاتی ہے وہ خوش آئین نہیں ہیں۔ بلکہ بدترین خاکہ پیش کرتے ہیں۔ اس میں کرونا کی وبا کی وجہ سے مزید اضافے کا ہی امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں