305

چترال میں پندرہ سے تیس سال کی عمر کے نوجوانوں میں خودکشی کا بڑھتا  رجھان اور ذہنی امراض کے علاج اور اس حوالے سے آگہی کا فقدان

 ۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ

آج سے دو ماہ قبل، مارچ کے شروع میں اپر چترال کے علاقے پرواک میں چودہ سالہ  صہیب  عالم نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ ابتدائی رپورٹ میں خود کشی کی وجہ ڈپریشن درج ہوئی۔ خودکشی کے مجموعی واقعات میں بیاسی فیصد افراد کی عمر پندرہ سے  تیس سال کے درمیان ہے۔

والدین ابھی تک نہیں سمجھ سکے کہ ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے  صہیب عالم نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا لیا۔   صہیب کے والد کرم علی نے ڈیلی چترال نیوزنیٹ ورک سے خصوصی گفتگومیں بتایاکہ وہ چترال بجلی گھرمیں  بطور سکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صہیب  اپنےآبائی گاوں پرواک ،  اپرچترال کے ایک پرائیویٹ سکول میں نویں جماعت کے طالب علم تھے۔ بہن بھائیوں میں ان  کا نمبر  تیسرا تھا ۔ فٹ بال کھیلنے کا شوق رکھنے کے ساتھ وہ دوسری کھیلوں میں بھی دلچسبی  رکھتے تھے۔وہ انتہائی تیزمزاج کے مالک تھے۔ فٹ بال اوردوسرے کھیلوں میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے۔ گھرمیں بچے انتہائی دوستانہ ماحول  میں زندگی گزار رہے ہیں۔گھر والے نہیں سمجھ سکے کہ ایسی کیابات اُس کے اندر  ہوئی جس نے ان کو خودکشی جیسے سخت  اور تکلیف دہ اقدام پرمجبورکردیا۔

صہیب کے والد نے بتایا  کہ جس  دن  خودکشی کا حادثہ ہوا حسب عادت انہوں نے اپنی ماں سے حلوے کی فرمائش کی۔ ان کی طبیعت کا خیال رکھتے ہوئے ماں فوراً حلوے کی تیاری میں لگ گئی۔ جب حلوہ کھانے کے لیے تیار ہو گیا تو ماں نے آوازیں دیں مگر صہیب نے کوئی جواب نہ دیا۔ ان کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ گھروالوں نے دروازہ توڑا تو   دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کر دی تھی۔

کرم علی نے  بتایا کہ ان کے آبائی گاوں پرواک پائین میں گذشتہ چندسالوں کے اندریہ خودکشی کا یہ چھٹا واقعہ پیش آیا اور ان  میں کئی ایک کوبچایا  جا سکتا تھا کیونکہ ان کی سانسیں چل رہی ہوتی  تھیں۔ گاؤں کے نزدیک  ہسپتال اورڈاکٹرنہ  ہونے کی وجہ سے وہ کسی کو نہ بچاسکے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے بچے کوبھی نہ بچا سکے۔

ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چترال کےدیہی علاقوں میں ڈپریشن جیسی  بیماریوں کی وجہ سے کئی واقعات رونماہوچکے ہیں ۔ لوگوں کی اس حوالے سے سمجھ بوجھ نہ ہونے کے برابر ہے۔  جبکہ ان کو اس حوالے سے آگہی اور شعور کی اشد ضرورت ہے۔ جیسے کہ صہیب کے والدین جو نہیں جان سکے کہ صہیب کو کیسے بچایا جا سکتا تھا۔ ڈپریشن کی بیماری  ان کے خاندان میں موجود تھی کیونکہ ماضی میں صہیب کے ماموں بھی دو مرتبہ خودکشی کی کو شش کر چکے تھے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افیسرلوئر چترال محترمہ سونیہ شمروز خان نے بتایاکہ خود کشی ایک ایسا المیہ ہے کہ   اس کی روک تھام اور تدارک کے لیے معاشرے کے تمام طبقوں کا اپنا کردار ادا کر نا چاہیے۔  بطور پولیس آفیسر یہ ان کا  قانونی اور اخلاقی فر ض ہے کہ ا س طرح کے واقعات کے پس منظرکو اور دیگرمحرکات کو ضرور سمجھا  جائے اور حالات و واقعات کی مکمل جانچ پڑتال ہو تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔انہوں نے کہاکہ چترال   میں خودکشی کے روک تھام کے لئے مختلف سکول،کالجزاورچترال یورنیورسٹی میں “زندگی ایک نعمت ہے ” کے موضوع پرپروگرام کا  انعقادکیاگیا  جس میں خاص کربچیوں کو خوشحال زندگی گزارنے،مشکل وقت میں حالات کامقابلہ کرنے ، صبروبرداشت کامظاہرہ کرنے اورخودکشی  کی روک تھام کے لئے آگاہی دی گئی  اور آئند ہ بھی اس پروگرامات کے تحت  نوجوانوں میں زندگی جیسی نعمت کے حوالے سے شعور و آگہی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

آغا خان ہیلتھ سروس خیبرپختونخوا اورپنجاب کے ریجنل ہیڈمعراج الدین نے کہا  کہ چترال میں خودکشی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی  اشدضرورت ہے۔اورنئی نسل کو مشکلات سے نمٹنے، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے طریقے، تکلیف دہ تجربات سے باہر نکالنے اور معاشی و معاشرتی دباؤ کو کنٹرول کرنے کے گر سیکھانابہت ضروری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چترال میں 20سے 40  سال کے شادی شدہ خواتین میں خودکشی کے رحجانات زیادہ  ہیں  اس کی اصل  وجہ غربت ،بے روزگاری ،ذہنی ونفسیاتی امراض ہے جن کے مردحضرات محنت مزدوری کے خاطرتین چارسال کے قریب   گھرسے باہرہوتے ہیں جس کی وجہ سے گھرمیں ان خواتین پردباوء ہوتا ہے اوریہ خواتین  گھریلو پریشانیوں اور معاشرے  کے رسم رواج کی بندشوں  کی وجہ  سے ذہنی کھنچاو کا شکار ہو جاتی ہیں  جو ان کو  اس انتہائی اقدام کی طرف لے جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ  والدین اور بچوں کے درمیان موجودہ جنرنیشن گیپ کو کم کرنے کے لے آگاہی سیشنز کا انعقاد کرنے، عبادت گاہوں میں مذہبی علماء کے ذریعے اور سکول کالجوں میں ماہرین کے ذریعے آگاہی پروگرام اورمہم چلانے کی ضرورت ہے۔ معراج الدین نے کہا کہ حصول تعلیم کے دور ان صحت مند مقا بلے کی فضا تیا ر کرنا  چاہیے۔  کم عمر بچوں پر نا روا دباو نہیں ہونا چاہیےکسی کے کم نمبرآئیں   تواُن کی حوصلہ افزائی کرکے دوستانہ ماحول میں تربیت دیکر بچوں میں اعتماد کو بڑھانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ کونسلنگ ہونی چاہیے  تا کہ طلباء کے رویے مثبت اور تعمیری رہیں۔

انہوں نے بتایاکہ  بدقسمتی سے چترال میں منیٹل ہیلتھ کوسنجیدگی سے نہیں لیاجاتا جس کی وجہ سے چترال میں خودکشی کرنے والوں میں اضافہ ہورہاہے ۔آغاخان ہیلتھ سروس  چترال نے 2010سے دو سائیکاٹرسٹ کی مدد سے چترال کے دوردرازعلاقوں میں  مینٹل ہیلتھ ،ڈپریشن اورکیئرکونسلینگ کے موصوعات پردرجنوں  ورکشاپس،سمیناراوردیگر پروگرامات  کاانعقاد کیا۔ چترال میں  سائیکالوجسٹ ،سائیکاٹرسٹ  اوردوسرے ڈاکٹرزکی کمی کومدنظررکھتے ہوئے اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے  2017سے  بنیادی ہیلتھ سنٹر سوسوم ،بریپ ،مدک لشٹ ،ٹی ایچ کیوہسپتال گرم چشمہ اوربونی میڈیکل سنٹرمیں ٹیلی ہیلتھ سروس  شروع ہو چکی ہےیہ سروس ،گلگت میڈیکل سنٹر یاآغاخان یونیورسٹی کراچی میں بیٹھے ڈاکٹرز کو چترال کے دورافتادہ علاقے میں تعینات نرسزکی مددسے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے علاج معالجے کی سہولت فراہم  کرنے میں اپنا کردار اد کر رہی ہے  متعددامراض میں مبتلامریضوں کاعلاج ، معالج ان کی آن لائن رپورٹس دیکھ کررہے ہیں ۔اب تک 475ذہنی امراض میں مبتلا مریض اس سے فائدہ اٹھاکرنارمل زندگی بسرکررہے ہیں۔ ٹیلی ہیلتھ سروس سے چترال  کے دورآفتادہ اورپسماندہ علاقے کے عوام کوان کے گھر کی دہلیزپرصحت کی بہترین اورجدیدسہولیات میسرہیں اورمریضوں کودشوارگزارراستوں کے سفر سے نجات ملی ہے  اورساتھ وقت کی بچت کے ساتھ سفری اوردوسرے اضافی اخراجات  سے بھی  بچے ہیں۔ منیٹل ہیلتھ کے مریض ٹیلی ہیلتھ سروس  سے آغاخان میڈیکل سنٹرگلگت کے ماہرین طب سے  اپنی بیماری کے بارے میں براہ راست بات چیت کرتے ہوئے طبی مشورہ لے رہے ہیں۔اورحالیہ دنوں چترال ٹاون میں بھی ٹیلی ہیلتھ سروس  شروع کیاگیاہے جس میں لوگوں کوتمام جدیدطبی سہولیات دے رہے ہیں۔  انہوں نے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس ضلع چترال کے  انتہائی دورافتادہ اورپسماندہ علاقوں میں ٹیلی ہیلتھ سروسیز اور آگاہی پروگرامات،سمینارکرکے خودکشی کے رجحانات کوکم کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔

معروف قانو ن دان وانسانی حقوق چترال کے چیئرمین نیازاے نیازی ایڈوکیٹ نے چترال میں بڑھتی ہوئی خودکشی  کے  وجوہات  پر گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ اتنی بڑی تعداد میں خودکشیاں ضلع چترال جیسے کم آبادی کے علاقے میں تشویش ناک بات ہے۔ چترال کی کل آبادی 4لاکھ 47ہزار ہے۔اتنی کم آبادی میں اتنی بڑی تعداد میں خودکشیاں کسی انسانی المیہ سے کم نہیں ہے۔معاشرے کے ہرفردکو اس مسئلے کا ادراک کرناچاہیے۔بحیثیت باپ، ماں،ساس،بہن،بھائی اورشوہر کسی بھی انسان کواپنی زندگی کا چراغ گل کرنے سے روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اُنہوں نے کہاکہ اُن کے سروے کے مطابق خواتین میں اکثریت شادی شدہ خواتین کی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ اُن کے سسرالیوں کا رویہ ایسے انتہائی اقدام کا باعث بنتا ہے۔جب بھی بچی یا بچہ غصے میں آکر خودکشی کی دھمکی دیتا ہے تو ایسی حالت میں اُس دھمکی کو دھمکی برائے دھمکی کے طورپر نہیں لینا چاہیئے بلکہ معمولی دھمکی کو بھی سنجیدہ لینا چاہیے۔ اورامتحان کے دنوں میں خصوصاً والدین کو اپنے حساس مزاج کے بچوں اور بچیوں کی طرف زیادہ سے زیادہ فکرمند رہنا چاہیے۔   انہوں نے کہاکہ چترال کے روایتی دستور،خاندانی اُونچ نیچ، مہنگائی، بے روزگاری اور بے بسی کا احساس بڑھنے کی وجہ سے لوگوں میں جینے کی اْمنگ کم ہوتی جارہی ہے۔گزشتہ چند برسوں سے چترال میں خودکشی کے بڑھتے رحجان نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔  خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمریں 30 برس سے کم ہوتی ہیں۔  نوجوانوں میں خودکشی کی طرف جانے کے عمل کو روکنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

درالامان چترال کی منیجرآسیہ بی بی   نے  بتایاکہ چترال میں زیادہ تر افراد غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی جان لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ اکثر عورتیں گھریلو تشدد سے تنگ کر اپنی جان لے لیتی  ہیں ۔ اپرچترال میں سرکاری سطح پر  دارالامان یعنی محفوظ پناہ گاہ بھی ہونی چاہئے تاکہ جو خواتین گھر سے بددل ہوں یا بے گھر ہو ں  وہ مایوسی کا شکار ہو کر خودکشی کرنے کے بجائے ان محفوظ پناہ گاہوں کی طرف ائیں۔

اپرچترال سے تعلق رکھنے والاظفراحمدجوجہانزیب کالج میں سوشیالوجی کے لیکچررہیں نے اپنی اندرگریجویشن ریسرج خودکشیوں اورایم فیل ریسرچ  ذہنی بیماریوں جسے مقامی طورپرجن پریوں سے منسوب کیاجاتاہے کےمطابق اپراورلوئر چترال نشاندہی کر تی ہے کہ گذشتہ دو عشروں سے نوجوان بالخصوص بچیاں خود کشی کر رہی ہیں۔ 2007 اور 2011 کے درمیان 300 افراد نے خود کو ہلاک کیا جب کہ 2013 اور 2019 کے بیچ  خودکشی کے 176 کیس رپورٹ ہوئے جو ساڑھے چار لاکھ کی آبادی میں  ایک بڑی تعداد ہے۔انہوں نے بتایا کہ  ابھی بھی خودکشی کے واقعات اتنے رپورٹ نہیں ہوتے جتنی تعداد میں یہ چترال میں ہو رہے ہیں۔ سماجی وجوہات اور ناقص رپورٹنگ کی بدولت رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد کم ہے، انہوں نے مزید بتایا۔

ظفراحمدکاکہناہے کہ خودکشی کرنے والے افراد میں سے اکثریت  یعنی 82 فیصد کی عمریں 15 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔ 58 فیصد خواتین نے اپنی جان لی جن میں 55 فی صد شادی شدہ تھیں۔ مجموعی طور پر 36 فیصد متاثرہ افراد نے دریائے چترال میں ڈوب کر اپنی جانیں لے لیں جن میں اکثریت یعنی 77 فیصد خواتین شامل ہیں۔ 28 فیصد متاثرہ افراد نے خود کو گولی سے اڑا دیا جن میں 85 فیصد شرح لڑکوں کی ہے۔ مرنے والوں میں سے باقی نے زہر کھا کر یا پھر گلے میں پھندا ڈال کر خود کو ہلاک کیا۔

تازعالم دین شاہی خطیب چترال مولاناخلق الزمان کاکاخیل  نے کہاکہ خودکشی حرام ہےلیکن خود کو موت کے حوالے کرنے والے زندگی کو نہ ہی نعمت تصور کرتے ہیں، نہ ہی انہیں حلال و حرام سے کوئی غرض ہوتی ہے۔ اپنے سماجی و نفسیاتی مسائل سے چھٹکارے کے لئے خواتین و مرد اور نو عمر اس تکلیف دہ راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے ختم کرلینا ایک بھیانک اور تکلیف دہ احساس ہے۔ لیکن انسان جینے کے ہاتھوں تنگ آکر کب ایسا کرتاہے اور کون سے محرکات اْسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا خودکشی سے متعلقہ حقائق پرغورکرنے کی ضرورت ہے۔

یونیسف کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 15-19 سال کی عمروں  میں ، خودکشی  موت کی چوتھی بڑی وجہ ہے۔  لہذا اس حوالے سے چترال میں  آگہی کی مہم کو مستقل بنیادوں پر چلانے کی ضرورت ہے۔

سماجی کارکن علی نفس نے بتایاکہ کسی بھی شخص کے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوسکتی۔ مالی مسائل، تعلیمی مشکلات، خاندانی الجھنیں یا دیگر وجوہات کسی بھی مرد یا خاتون کو ڈپریشن میں مبتلا کر سکتی ہیں جو کہ  آگے جا کر انہیں خودکشی کرنے تک مجبور کردیتی ہیں۔ اکثر لوگ پہلے تو ذہنی بیماری کو ایک بیماری نہیں سمجھتے اور اگر سمجھتے بھی ہیں تو وہ کسی سائیکاٹرسٹ کے کلینک میں جانے سے کتراتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے رویے درست ہونے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں