57

تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

چترال میں سیاسی خواتین کے سیاسی عمل میں موثر کردار کے لیے ہمیشہ آوازاٹھاوں گی، اگر خواتین سیاسی طور پر خود مختار ہوں گی تومعاشرے میں ان کی عزت بھی ہو گی۔خدیجہ بی بی

تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

عوامی نیشل پارٹی خیبرپختونخوا کے نائب صدرتحصیل دروش سے تعلق رکھنے والی   حالیہ بلدیاتی انتخاب میں تحصیل کونسل کے نامزداُمیدوار باہمت خاتون خدیجہ بی بی نے ڈیلی چترال سے گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ چترال جیسے اضلاع میں خواتین کوسماجی ،معاشی ،گھریلو،ریاستی اورسیاسی عمل میں گوں ناگوں مسائل کاسامناہے ۔اس وقت ملک خدادادمیں خواتین کی تعداد52فی صدہے یعنی نصف سے زیادہ آبادی ہونے کے باوجودسیاسی عمل میں ان کی شراکت نہ ہونے کے برابرہیں ۔خواتین بحیثیت ووٹر،پارٹی ورکر،انتخابی عملہ اوربحیثیت ایجنٹ  کئی مشکلات کامقابلہ کرتے ہوئے حصہ لے رہی ہیں ،اسمبلیوں میں نمائندگی بہت کم ہے ۔اس جدیددورمیں بھی پاکستان میں 12ملین خواتین کاووٹرلسٹ میں نام اورقومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ جیسے بنیادی حق سے بھی محروم ہیں ۔اورسیاسی جماعتوں کے مرکزی  کابینوں   میں  خاص عہدوں پربھی خواتین کی تعداد نہ ہونے کےبرابرہے ۔مگرسیاسی قائدین  صرف ووٹ لینے کے لئے خواتین کے حقوق کی بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اقتدارمیں آنےکے بعد سب بھول جاتے ہیں ۔اگرخواتین ہمت کرکے  کئی چیلنجزکامقابلہ کرکے سیاسی میدان میں آتی ہیں توان پرطرح طرح کے الزامات لگاکران کی کردارکشی کی جاتی ہے۔اوران کی راہ میں کئی روکاٹیں کھڑی کرتے ہوئے الیکشن کمپین  روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اورساتھ دینے والوں پربھی الزامات لگاکران کی حمایت کوبددل کیاجاتاہے اس طرح   قدم قدم پر اذیت کاسامناکرناپڑتاہے ۔اس وجہ سے خواتین معاشی طورپرکمزوراورپسماندہ ہیں۔انہوں نےبتایاکہ اسمبلیوں میں خواتین کا معقول تعداد میں ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ فیصلے تو انہی ایوانوں میں ہوتے ہیں اس لئے تشدد سے پاک معاشرے کے لئے خواتین کا سیاست میں آنا وقت کی ضرورت ہے۔

خدیجہ بی بی نے بتایاکہ چترال کے  اکثرعلاقوں میں الیکشن کمپین  کے دوران خواتین کویہاں کے فرسودہ رسم رواج سے    کئی  پیچیدہ گیوں کاسامناکرناپڑتاہے ۔ان علاقوں میں مردوں کے شانہ بشانہ گلی کوچوں میں ووٹ مانگتے وقت کئی مشکلات کاسامناہوتاہے لوگ منفی سوچ کی عکاسی کرتے  ہیں  جوخواتین کے لئے نہ صرف تکلیف کاباعث ہوتے ہیں بلکہ ان کے کام پربھی منفی اثرڈالتے ہیں ۔ایسے اقدامات کوروکنے کے لئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں میں تبدیلی لانابھی انتہائی اہم ہے۔جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ سیاسی میدان میں خواتین کی بھرپورنمائندگی کوتسلیم کیاجائے۔جس سے خواتین کواپنائیت اورتحفظ کااحساس  ہوگا۔

خدیجہ بی بی نے بتایاکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں  بہت کم خواتین اپنی جماعت کے اندر انتخابی نشستوں پر براہ راست انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ۔عوامی نیشنل پارٹی اس صوبے میں واحدجماعت ہیں کہ انہوں نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں چترال سے تحصیل کونسل کی ٹکٹ پرالیکشن لڑنے کے لئے میرے نام  ٹکٹ جاری کردی ۔تحصیل دروش کے گھرگھرالیکشن کمپین کرتے ہوئے کئی حالات کامقابلہ کیا۔ خواتین کے سیاسی وانتخابی عمل میں شرکت کی رکاوٹوں کوختم کرکے قانون سازاسمبلی میں بھرپورنمائندگی دینے کی ضرورت ہے خواتین کی نمائندگی صرف خواتین ہی بہتر طور پر کرسکتی ہیں۔بدقسمتی سے صوبہ خیبرپختونخوا کے بہت سارے علاقوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنی رائے نہیں دے پاتی ۔تاہم عوامی نیشنل پارٹی خواتین کے حق رائےدہی کویقینی بنانے کےلئے پرعزم ہیں ۔

خدیجہ بی بی نے کہاکہ میرے الیکشن لڑنے کامقصدچترال کےسیاسی شعوررکھنے والی خواتین  کی حوصلہ افزائی کرناتھا۔یہاں کے کچھ لوگ سیاست کواپناجاگیرسمجھتے ہوئے دولت کے بل بوتے ووٹرزکوخریدنے کی کوشش کی جاتی ہے  ہم نے پیسوں کے سیاست کوختم کرنے کی کوشش کی ہے۔تحصیل دروش کے خواتین اورنوجوان کوخراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے کئی بندیشوں کے باوجودمیرے الیکشن کمپین بھرپورتعاون کی ۔انہوں نے کہاکہ تحصیل درو ش کے اکثرعلاقوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابرہے  اورخواتین گھرکو دہلیز پررکھنے کی پابندہے پھربھی ہم نے علاقائی اقدارکاخیال رکھتے ہوئے خواتین کوالیکشن کمپین کے لئے نکالنے میں کامیاب ہوئے ۔سیاست میں حصہ لینے والے خواتین کومیدان میں آنے کاموقع فراہم کیااورکئی روایتی ،دوقیانوسی تصورات،سوچ،ذہنیت ،وہم اوررویوں  کوختم کرکے مثبت سیاسی آگاہی پھیلانے کی ہرممکن کوشش کی ہے

چترا ل پریس کلب کے صدرسینئرصحافی ظہیرالدین عاجز نے اس حوالے سے گفتگومیں بتایاکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ضلع لوئرچترال کے تحصیل دروش سے تحصیل چیئرمین شپ کے عوامی نیشل  پارٹی کے نامزاد اُمیدوارخدیجہ بی  بی قابل  ذکرہے جوکہ چترال میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون اُمیدوارکی حیثیت سے تحصیل یاضلع لیول پرعہدےکے لئے الیکشن لڑرہی تھی۔اورصوبہ خیبرپختونخوا کے اٹھارہ اضلاع میں دوسرے مرحلے  لوکل باڈیزپول میں بھی واحدخاتون اُمیدوارتھی۔انہوں نے چترال میں پہلی مرتبہ عوامی نیشل پارٹی کی ووٹ بنک میں حیرت انگیزاضافہ کیایعنی پول شدہ ووٹوں کا 17فیصد تک لے گئی جبکہ اس حلقے میں کامیاب امیدوار نے25فیصد ووٹ حاصل کی ہے۔ اگر شیشی کوہ اور دمیل ارندو میں ذیادہ محنت کی ہوتی تو ان کی کامیابی کی راہیں ہموار ہوسکتی تھیں جبکہ دروش خاص میں انہوں نے حکمران جماعت پی ٹی آئی سے بھی آگے نکل گئی اور علاقے کی بااثر ترین سیاسی خاندان کے چشم چراغ اور میدان سیاست کے داو پیچ کے ماہر کھلاڑی شہزادہ پرویز کو  tough timeدے دی۔ اپنی محنت کے بل بوتے پر قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کرکے انہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا منوالیا اور سیاست میں قدم رکھنے والے دوسری بہنوں اور بیٹیوں کے لئے میدان ہموار کرلی۔

” دروش کو تحصیل کا درجہ ملنے کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی الیکشن میں چیئرمین تحصیل لوکل گورنمنٹ کے لئے پی پی پی اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا جس میں  پی پی پی میں نئی شمولیت اختیار کرنے والے شہزادہ خالد پرویز کو صرف 110ووٹوں سے پی ٹی آئی کے حاجی سلطان پر برتری حاصل ہوئی۔ تحصیل دروش کے حدود میں  علاقہ کیسو اور اس سے نیچےیوسی  ارندو تک تمام علاقے شامل ہیں جہاں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 63ہزار 864ہے جن میں سے 36ہزار389نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ فارم XXکے مطابق امیر نوراب خان (آزاد) نے 1053، خدیجہ بی بی (اے این پی) 6930، سلطان محمد (پی ٹی آئی) 8438، شہزادہ خالد پرویز (پی پی پی) 8548، شہزادہ شوکت الملک (مسلم لیگ۔ن اور جے یو آئی کا مشترکہ امیدوار) 1662، شیر محمد (جے یو آئی کے ناراض گروپ اور جماعت اسلامی کا مشترکہ امیدوار)  7574اور عباد الرحمن (آزاد) نے 423ووٹ حاصل کی۔ ”

خدیجہ بی بی  نے بتایاکہ پسماندہ علاقوں میں خواتین الیکشن کمپین میں حصہ لیتی ہے  تواس کومعاشرے کی قائم کردہ حدودسے تجاوز قراردی جاتی ہے۔قانون سازی  میں ہماری خواتین پارلیمان میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔صاف اورشفاف نظام بنے گاتوبرابری کی بنیادپرمردخواتین کام کریں گے۔ہمار ے معاشر ے میں خواتین کوقوم پرستی اورحب الوطنی سے نابلت قراردیکرخواتین جسے جذباتی مخلوق پربھروسہ نہیں کیاجاتاہے۔جس کی وجہ سے خواتین کومعاشرتی سطح پرامتیازی سلوک کاسامناکرناپڑتاہے ۔ پاکستانی معاشرے میں تقریباًہرشعبہ زندگی میں خواتین اپنا لوہا منوا رہی ہیں ،یہاں تک کہ سیاسی میدان میں بھی پیچھے نہیں۔مگربدقسمتی سے خواتین کواہم فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں کیاجاتاہے ۔جماعتوں کے اندرتما م فیصلوں میں بھی خواتین کودوررکھاجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم ایک ایسی سوسائٹی میں رہ رہے ہیں جہاں مردوں کی حاکمیت ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مردوں میں یہ شعور اور آگاہی بڑھ رہی ہے کہ خواتین کو معاشرے کا مفید رکن بنائے بغیر حقیقی تبدیلی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں