132

رمنی سے تعلق رکھنے والا جوڑا ڈیڑھ سال کے عرصے میں 29ممالک کا سائیکل میں سفر کرتے ہوئے چترال پہنچے جہاں سے وہ شندور پاس سے ہوتے ہوئے گلگت بلتستان جائیں گے

چترال (نمائندہ )جرمنی سے تعلق رکھنے والا جوڑا ڈیڑھ سال کے عرصے میں 29ممالک کا سائیکل میں سفر کرتے ہوئے چترال پہنچے جہاں سے وہ شندور پاس سے ہوتے ہوئے گلگت بلتستان جائیں گے۔ چترال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 39سالہ پیٹی (Patte) اور ان کی ہم عمر بیوی ڈیانا (Diana)نے کہاکہ انہوں نے جرمنی سے بیس ماہ قبل روانہ ہونے کے بعد چیک ری پبلک، اٹلی، یونان، جارجیا، ارمیینا، کرغزستان، ازبکستان اور ترکی سے ہوئے ایران اور پھر پاکستان میں داخل ہوئے اور کوئٹہ سے کراچی اور وہاں سے لاہور، آزاد کشمیر اور اسلام آباد اور سوات سے ہوئے لواری پاس سے چترال پہنچ گئے۔ انہوں نے چترال کی بالخصوص اور پاکستان کی بالعموم قدرتی حسن اور یہاں سیاحوں کے لئے دستیاب سہولیات کے ساتھ ساتھ پرامن ماحول کا ذکر کیا اور دوسرے سیاحوں پر زور دیاکہ چترال کا ضرور وزٹ کرے جہاں لوگ انتہائی مہمان نواز، شائستہ عادات کے مالک ہیں اور ان کی اکثریت انگریزی زبان جانتی ہے جس کی وجہ سے ان کوکوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ ڈیانا نے کہاکہ وہ گھروں میں خواتین سے بھی ملے جوکہ الگ تھلک رہتی ہیں لیکن وہ بھی انتہائی نفیس ہیں اور ان کی اکثریت بھی انگریزی بول سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کالاش وادی بمبوریت جاکر انہوں نے وہاں قدیم رہن سہن کے طور طریقے رکھنے والے کالاش لوگوں کا کلچر بھی دیکھ لیا جوکہ نہایت دلچسپ ہے۔ سیاحوں نے پولیس کی روئیے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ایک پرامن جگہ ہونے کے باوجود پولیس کے نفری سائے کی طرح ان کا پیچھا کرتے رہے بمبوریت کے مقام پر دروازہ کھٹکھٹائے بغیر ان کے کمرے میں گھس آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں