172

منظم سیاحت کے لئے کالاش ٹورازم مینجمنٹ اتھارٹی بنائی جائے تاکہ مقامی آبادی  مذہبی آزادی سے  سیاحوں کی بے جامداخلت سے محفوظ اپنے تہوار منا سکے : لوک رحمت

  تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

دنیا کی نایاب  کالاش کمیونٹی کا  سہ روزہ چلم جوشٹ تہوار گزشتہ روز اپنی روایتی انداز میں دنیا میں امن و آشتی  اور خوشحالی کے لئے اجتماعی دعا پر بمبوریت وادی  کے بتریک  گاؤں میں واقع چھارسو (رقص گاہ )میں اختتام پذیر ہو گیا۔کالاش تہذیب و ثقافت کا شمار  دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں  میں ہوتا ہے جبکہ مذہب کا بقول ان کے شمار  دنیا کے ان لکھے مذاہب میں ہوتا ہے جو قدرت کےاور فطرت کے ہم آہنگ ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے چترال کی تین وادیوں  بریر، رمبوراوربمبوریت میں کالاش کمیونٹی تقریباً چار ہزار نفوس پر مشتمل ہےجس کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سر فہرست آبادی کا کم ہونا ہے جبکہ پاکستان کی یہ چھوٹی سی مذہبی اور لسانی کمیونٹی  حکومت و ریاست سے سرپرستی کا تقا ضا کرتی ہے تا کہ ہزاروں سال پرانی تہذیب کو  خاموش معدومیت سے بچایا جا سکے۔

کالاش کمیونٹی کے بااثر  سماجی شخصیت  لوک رحمت نے ڈیلی چترال سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت  سے مطا لبہ کیا کہ اس علاقے کے باسیوں کے مذہبی تہواروں پر ہزاروں کی تعداد میں آئے ہوئے سیاحوں کے حوالے سے گائیڈ لائنز بنائی جائیں جس کی مدد سے ہم اپنے مذہبی فرائض سکون کے ساتھ سر انجام دے سکیں جو کہ ہمارا  آئین کی رو سے بنیادی حق ہے کہ ہم آزادی سے جیسے چاہتے ہیں ویسے  ہی اپنی عبادات کریں اور کوئی باہر سے  ہماری عبادات میں مخل نہ ہو۔ انہوں نے حکومت سے مزید مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ کالاش ویلیزکے لئے ٹورازم مینجمنٹ اتھارٹی بنائی   جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے کالاشہ زبان،لباس اوردیگرثقافتی اقدار  کوزندہ رکھنے کےلئے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ صدیوں سے چترال میں  آبادکالاش قبیلے کے لوگ  اپنے ثقافت کوزندہ رکھیں ۔

"سیاحت بے ہنگم ہے۔ یوٹیوبرز بے لگام ہیں جو زبردستی ہمارے گھروں میں گس کر ہماری پرائیویسی    کو تہس نہس  کر کے منفی انداز میں ہماری  منفی تصویر کشی کر کے ہمارے بارے میں معاشرے میں ابہام پیدا کرتے ہیں۔  حکومت کو چاہیئے کہ کسی پلاننگ کے تحت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد ورفت کی نگرانی کرے۔ ان کے لئے مخصوص علاقے ہوں جہاں سے وہ ہمارے کلچر سے انٹریکٹ کر سکیں،” لوک رحمت نے کہا۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کے دوسرے حصوں سے آئے سیاح ہمارے بارے میں عجیب و غریب رویے رکھتے ہیں ۔جوتہوارہم مناتے ہیں وہ دل بہلانے کے لئے نہیں بلکہ یہ  ہماری مذہبی تہوارہیں ان میں  ہماری عبادات اوردعائیں شامل ہیں ۔اس لئے باہرسے آنے والے لوگوں سے گذارش ہے کہ   مثبت سوچ  کے ساتھ یہاں آئیں۔لوگوں کے گھروں میں جاکربغیراجازت  تصویرکشی نہ کریں اورہماری ماں بہنوں کی عزت کا خیال رکھیں ۔باہرسے آئے ہوئے حضرات ڈیجیٹل کیمرےاورموبائل سے تصویریں اورویڈیوزبنانے  سے اجتناب کریں ۔”باہر سے آئے سیاح تصویروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری خواتین کو اتنا تنگ کرتے ہیں کہ ہم لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے ہیں۔

لوک رحمت نے بتایاکہ کالاش کمیونٹی کے مذہبی تہوارچلم جوشٹ قدیم زمانے سے سردیوں کی طویل اورتکلیف دہ دنوں کے گزرجانے اورموسم بہارکی خوشی میں منایاجاتاہے جس کے بعدمال مویشیوں کو گرمائی چراگاہوں کی طرف لے جایاجاتاہے ۔ جہاں چار مہینے اُنہیں پہاڑوں پر رکھنے کے دوران دودھ سے پنیر دیسی گھی وغیرہ تیار کرکے اُنہیں سردیوں کیلئے سٹور کیا جاتا ہے۔مال مویشیوں کی کالاش کمیونٹی میں بہت اہمیت ہے۔

کالاش برادری سے تعلق رکھنے والامعروف قانون دان پبلک پراسیکیوٹرضلع لوئرچترال مائکیل  کاکہناہے کہ چترال کی کالاش کمیونٹی کواقلیتی برادری میں شمارکیاجاتاہے ۔اوراپنی رسم ورواج کے اعتبارسے نہایت قدیم  تہذیب وتمدن کی یاددلاتے ہیں اورموجودہ زمانے میں منفردحیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اس وقت کالاش میں اکثریت کواپنی ثقافت ،زبان اورقبیلے کے مستقبل کی فکرلاحق ہے کہ کالاش قبیلے میں آج کل تعلیم کارحجان بہت زیادہ ہے اورجوپڑھ لکھ جاتے ہیں وہ اپنے قبیلے کی قدیم رسومات کوفرسودہ قراردے کررہن سہن تبدیل کرلیتے ہیں ۔کالاش ویلیزکے مکین اپنی مخصوص ثقافت اور طرز زندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور اور اپنی نرالی اور انوکھی رسومات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ انہوں نے حکومت اورمحکمہ تعلیم سے مطالبہ کیاہے کہ کالاش لوگوں کے لئے سکولوں میں کالاش روایات سیکھائے جائیں  جس سے  کالاش روایات بھی محفوظ رہیں گی اورہمارے بچے اپنے مذہبی فرائض سے  بھی واقف ہوں گے۔

80سالہ کالاش خاتون گل نارنے بتایاکہ کالاش کمیونٹی جوبھی تہوارمناتی ہےاس میں ہم اللہ کے بارگاہ میں اپنے ملک میں خیروعافیت   ،ملک کی بقا ء،قدرتی آفتوں اورہرقسم کے تکلیف سے محفوظ رہنے  کے  لئے دعاکرتے ہیں اورہرقسم کی نعمتوں  کابھی شکریہ اداکرتے ہیں ۔انہوں نے  کہاکہ فطرت سے لطف اندوزہونے کاواحدراستہ امن کے ساتھ رہناہے اس لئے امن کے ساتھ رہنے کی ہرممکن کوشش کرتے رہنا  چاہیئے۔

ایک نجی سیاحتی کمپنی کے سی ای وعمیر خلیل اللہ نے بتایاکہ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے چترال  میں مقیم یہ نایاب قوم آہستہ آہستہ اپنی پہچان کھو رہی ہے۔ چترال کی ان تین وادیوں میں رہنے والی کالاش قوم کو سڑکوں سمیت دیگر بنیادی سہولیات تاحال میسر نہیں۔ہر سال مئی میں چلم جوشٹ میں آنے والے تمام سیاحوں کو کالاش قوم کھلے دل سے خوش آمدید کہتی  ہے   اوراس سال بھی ہزاروں سیاحوں نے کالاشیوں سے اظہار یکجہتی اور اس میلے کو کامیاب بنانے کے لئے چترال کا رخ کیا اور انکے ساتھ انکی خوشیوں میں شریک ہوئے۔

نوجوان صحافی کریم اللہ نے بتایا کہ  کالاش دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے ،جوبیک وقت ایک مذہب بھی ہے اورثقافت بھی ۔  اس کے ماننے والے کالاش کہلاتے ہیں۔ کالاش قبیلے کے نسلی تعلق اور ان کی ابتداء سے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں البتہ دورِ حاضرمیں کالاش تہذیب سے متعلق دونظریات مشہور ہیں  ایک تصور یہ ہے کہ ان کا تعلق قدیم آریا ئی نسل سے ہے جو کہ اب چترال کے  جنو ب میں واقع تین دیہات بمبوریت ،بریر اور رمبور میں صرف چار سے پانچ ہزار نفوس پر مشتمل آبادی تک محدود ہوکررہ گئی ہے ۔دوسری زیادہ مقبول روایت یہ ہے کہ یہ یونانی النسل قوم ہے جب سکندر اعظم کی فوجیں موجودہ افعانستان سے گرزرہی تھی تو اس کے لشکر ی اس خطے میں رہ گئے اور وہ یہاں آکر آبادہوگئے ۔ اس طرح ان کی جڑیں یونانیوں تک جاتی ہیں۔

معاون خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برائے اقلیتی اموروزیرزادہ نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے اور ان کی ثقافت کے فروغ میں  گہری دلچسپی لے رہے ہیں ۔کالاش ویلیزروڈ اوردیگر منصوبوں پرعنقریب کام شروع کیاجائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے  کہاکہ چلم جوشٹ مذہبی تہوار ہے جس کا احترام سب پر ہے ۔ یہ   تفر یحی تقریبات  یاتفر یحی پروگرام نہیں ہیں لہذاعوا م کوان کااحترام کرناچاہیے ۔

"ہندوکُش کی قدیم ترین تہذیب و ثقافت اور مذہب کے حامل کالاش قبیلے کا مذہبی تہوار چلم جوشٹ ڈھول کی تاپ پررقص کے ساتھ اختتام پذیرہوگیا۔بین الاقوامی اہمیت کے حامل کالاش قبیلے کے لوگ سالانہ تہوارچلم جوشٹ(جوشی) 14 مئی سے 16مئی تک مناتے ہیں ۔اس تہوارمیں خواتین نئے کپڑے پہن کررقص کرتی ہیں اورمذہبی گیت گاتی ہیں ۔یہ خواتین ایک دوسرے کے کندھے پرہاتھ ڈال کرگول دائرے میں رقص کرتی ہیں جوان کی مذہبی رسومات کاحصہ ہے۔ روایتی رقص کے دوران لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ تقریب کے اختتام سے قبل جوڑے اپنے من پسند ساتھی سے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ ”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں