96

دنیا کی قدیم ترین، کالاش تہذیب کی روایت  کو زندہ رکھنے  میں کالاش  عورتوں کا حصہ

تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

کالاش کا مطلب ہے کالے کپڑے پہننے والیاں اور والے۔ یہی وہ رنگ اور لباس ہے جو دنیا کے اس قدیم ترین مذہب اور تہذیب کواب تک   زندہ  رکھا ہوا ہے۔

کالاش مرد عام روایتی قمیض شلوار میں ملبوس ہوتے ہیں مگر ان کے برعکس  کالاش عورتیں  کالے رنگ برنگے کڑھائیوں ، موتیوں کی لڑیوں ، دیدہ زیب اشیاءجیسےسپیوں ، گھونگوں، بٹنوں،  سکوں ، مختلف دھاتوں  سےبنے زیورات سے مزین   لمبے سیاہ ڈھیلے  ڈھالے چغہ نما کپڑے پہنتی ہیں۔ یہ  وہی     چیزیں ہیں جودنیا  کے اس  قدیم ترین مذہب اور تہذیب کو اب تک ہزاروں سال گزرنے کے با وجود زندہ رکھے ہوئے ہیں جس کو آہستہ ٓاہستہ معدومیت کے چیلنج کا سامنا ہے۔

ابھی کچھ دن ہوئے سہ روزہ چلم جوشٹ تہوار اختتام پذیر ہو ا ہے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح کالاش قبیلے کے بہار کو خوش ٓامدید کہنے والے فیسٹیول میں کالاش تہذیب کی ہمہ گیری سے محظوظ ہونے  آئے۔ ایسے تہواروں میں کالاش عورتوں کے یہ دیدہ زیب کالی پوشاک  ہی ہے جو   کالاش عورتوں کو ان کی مذہبی اور ثقافتی  تہواروں میں دیکھنے والوں کے لیے محورو مرکز بنا دیتی ہے۔ ان کے سر پر ایک دیدہ زیب ہاتھ سے بنی ٹوپی بھی ہوتی ہے جو پیچھے  کمر سے سر تک آتی ہے۔  جبکہ کالاش مرد پاکستانی عوامی لباس جو کہ قمیض شلوار  ہے، اس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ مردچترالی ٹوپی اور گلے میں  بیلٹ جیسی دھاری دار مختلف رنگوں اور ڈیزائینز کی مدد سے تیارپٹی کندھوں پر  ڈالتے  ہیں جس میں رنگ برنگے دھاگوں کا باریک خوش نما کام کیا گیا ہوتا ہے مردوں کے لباس درزی تیار کرتے ہیں لیکن خواتین کی ہاتھ سے تیا ر پوشاک کا مختلف طریقہء کار ہے۔ جس میں کم از کم ایک ماہ خرچ ہوتا ہے اور ُاونی اور سوتی کپڑا استعمال ہوتا ہے۔

کالج کی  کلاس کی  طالبہ الوینہ نے  ڈیلی چترال سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ ہماراکلچر دنیا کی قدیم ترین ثقافت ہے اور اس کا اظہار ہم مختلف تہواروں کے مواقع پر اپنے مذہبی و روحانی گیت گا کر اور رقص سے کرتے ہیں مگر یہ تکلیف دہ ہے کہ کچھ سوشل میڈیا کے لوگ  ہمارے تشخص کو بری طرح سے مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہرتے ہیں جو کہ قابل مذمت فعل ہے ۔” جو لوگ یہاں ہمارے مذہبی تہواروں کے مواقع پر آتے ہیں ہم ان کی عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مہمان ہے لیکن باہر سے آنے والے ہماری مذہبی روایات  میں مداخلت کرتے ہیں اور ہمیں اپنے عقائد کا اظہار کھل کے کرنے نہیں دیتے ۔  انہوں نے بتایا کہ ہماری تہواروں کے مواقع پر باہر سے آنے والوں کی وجہ سے ہماری ثقافت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ لاحق ہے،” الوینہ نے بتایا۔

الوینہ نے کالاش خواتین کے لباس و پوشاک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ  کالاش خواتین کے لباس میں قمیض پر کل آٹھ گز کپڑا استعمال ہوتا ہے ۔ زمانہ قدیم میں لوگ بھیڑ کے اون سے یہ روایتی کپڑے تیار کرتے تھے مگر اب دور جدید میں بازار سے کپڑے خرید کر یہاں کی مقامی خواتین اپنے ہاتھوں سے ان میں کشیدہ کاری اور ڈیزائنگ  کرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک قمیض کو تیار ہونے میں کم و بیش دس سے بارہ دن لگتے ہیں۔ ایک لباس پر دس سے تیس ہزار روپے کے اخراجات آتے ہیں۔

شاہی گل نامی کالاش خاتون نے بتایاکہ گزشتہ بیس سالوں سے وہ وادی بمبوریت میں دستکاری کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں ان کا اپنا سنٹر اور کاروباری مرکز موجود ہے۔  ان کا کہنا تھاکہ ” میں گزشتہ بیس سالوں سے کالاش دستکاری کو فروع دینے اور نئی نسل   میں کالاش تہذیب کا ورثہ منتقل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کے سنٹر سے درجنوں خواتین روایتی کالاش دستکاری اور پوشاک  سازی سیکھ   چکی ہیں اور وہ نہ صرف اپنے لئے یہ لباس بناتی ہیں بلکہ وہ کاروبار بھی کر رہی ہیں۔ شاہی گل نے بتایا کہ  ایک مکمل لباس کم از کم ایک  ماہ کی مسلسل محنت سے تیار ہوتا ہے جس میں  قمیض ،ٹوپی ، ناڑہ،  زیورات ،  موتیوں کی مالا ، شوشوت وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔لباس کی آرائیش  پر دس بارہ ہزار  روپے کے میٹریل استعمال ہوتے ہیں”۔

پچیس سالہ کالاش خاتون جمال بی بی نے کالاشہ پوشاک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ثقافتی لباس بہت ہی منفرد ہے جو کہ عام بازاروں میں نہیں ملتی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس روایتی پوشاک کو تیار کرنے میں بہت زیادہ مہارت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے ، ایک مکمل پوشاک کے تیار ہونے میں کم و بیش ایک ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور ان میں ہونے والی ساری گلکاری  ، کڑھائی سجاوٹ، زیبائش اور ڈیزائنگ  وغیرہ یہاں کی مقامی خواتین اپنے ہاتھوں سے خود کرتی ہیں۔

جمال بی بی  نے بتایا کہ کالاش دنیا کی قدیم ترین ثقافت ہے یہی وجہ ہے کہ اس ثقافت میں رنگا رنگی کو خاص اہمیت حاصل ہے ، نہ صرف یہ کہان کی پوشاک رنگا رنگیوں سے بھر پور ہے بلکہ ان کی  زندگی  میں بھی تکثیریت کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ "ہم قدرت کے ہر موسم کے ساتھ روحانی تہوار منا کر اس کا بھر پور اظہار بھی کرتے ہیں ۔ ہمارے ان تہواروں کا مقصد کوئی میلہ یا شعل و مستی ہر گز نہیں بلکہ یہ سارے تہوار ہمارے مذہبی رسوم و رواج ہے ان تہواروں میں ہم اپنے عقیدے  کی مناسبت سے مناتے ہیں۔ جس میں گیت گا کر اوررقص کرکے ہم فطرت کی خوبصورتی اور خدا کی دی گئی نعمتوں کا شکرانہ ادا کرتے ہیں،” انہوں نے بتایا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے چترال کی تین وادیوں ۔ بریر، بمبوریت اور بمبور میں کالاش کمیونٹی تقریباً چار ہزار نفوس پر مشتمل ہےجس کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سر فہرست آبادی کا کم ہونا ہے۔ چودہ مئی سے سولہ مئی تک چترال کی تین وادیوں میں چلم جوشٹ تہوار منایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں