106

سات سو سال بعد۔۔۔۔۔۔ تحریر: تقدیرہ خان

“سات سو سال بعدعمران خان نیازی تاریخ کے آئنیے میں “لیفٹینٹ کرنل(ر) محمد ایوب کی تصنیف ہے۔یہ کتاب سات ابواب اور 176صفحات پر مشتمل ہے۔ سال اشاعت 2020ہے جسے النور پبلی کیشنز میرپور آذاد کشمیرنے شائع کیاہے۔یہ کتاب ایک تحقیقی مقالہ ہے جو نہ تو عمران خان کی سوانح حیات ہے اور نہ ہی قصیدہ گوئی یا چاپلوسی کاکوئی عنصر اس میں موجود ہے۔ کتاب کا پہلا باب “نیازی “نیازی قبیلے کی تاریخ پر مشتمل ہے جس میں چار نام بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ملک حبیب اللہ خان نیازی جسے امیر تیمور نے موجودہ پنجاب، افغانستان کے کچھ حصوں کے علاوہ بلوچستان، ملتان اور سندھ کے بالائی علاقوں سمیت ایک وسعی صوبے کا گورنر مقرر کیا۔ملک حبیب اللہ خان نیازی حکمرانی کے اعلیٰ اوصاف کے باوجوداندرونی سازشوں کا شکار ہوا اور آخر کار اپنی زندگی اور اقتدار سے محروم ہو گیا۔لکھا ہے کہ ملک حبیب اللہ خان نیازی موجودہ پاکستان کے بیشتر حصوں پر مشتمل صوبے کا گورنر تھامگر بھرپور صلاحیتوں کے باوجود محلاتی سازشوں کا شکار ہو گیا۔ملک حبیب اللہ خان نیازی کے بعد دو بھائیوں ہیبت خان نیازی اور عیسٰی خان نیازی کا نام آ تا ہے جو اپنی خونخواری کی وجہ سے مشہور تھے۔ہیبت خان نیازی پنجاب اور عیسٰی خان نیازی جون پور کا حاکم تھا۔دونوں بھائی انتہائی شاطر اور ظالم حکمران تھے۔نیازی برادران کو شیرشاہ سوری نے دو اہم صوبوں کا حاکم مقرر کیا جو ظلم وجبر کے لحاظ سے ضر ب المثل تھے۔ہیبت خان نیازی نے حاکم ملتان فتح شیر جٹ اور رائے سین کے حاکم پورن مل سے امن کا معائدہ کرنے کے بعد جس بے دردی سے قتل کیا افغان مصنفین نعمت اللہ عباس اور احمد یادگار نے اسے دین اسلام کی خدمت لکھا۔ملتان اور بالائی سندھ کی فتح کے بعد شیرشاہ سوری نے ہیبت خان نیازی کوا عظم ہمایوں کا خطاب دیا اور اسے چالیس ہزار لشکر بھرتی کرنے کے وسائل بھی مہیا کئے۔شیرشاہ سوری کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں عادل شاہ اور جلال شاہ (سلام شاہ) کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہوئی تو نیازی برادران نے عادل شاہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔جلال شاہ(سلام شاہ) ہیبت خان نیازی اور عیسیٰ خان نیازی سے بھی بڑھ کر خونخوار اور بد عہد تھا۔ابتداء میں نیازیوں نے شیرشاہ کے سپہ سالارخواص خان اور دیگر افغان جرنیلوں کو ساتھ ملا کر سلام شاہ کے گرد گھیرا تنگ کیالیکن جلد ہی انہیں پتہ چل گیا کہ نیازی برادران عادل شاہ کے خاتمے کے بعد اپنی حکمرانی کا اعلان کرنے والے ہیں۔اس سازش کی خبر ملتے ہی افغان جرنیلوں نے نیازیوں کا ساتھ چھوڑ دیا۔نیازیوں اور افغانوں کے درمیان آخری معرکہ ڈومیلی ضلع جہلم کے مقام پر ہوا۔نیازی لشکر شکست کھا گیا اور دونوں بھائی میدان جنگ میں کام آئے۔
تاریخ میں خان زمان خان نیازی کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جس نے احمد شاہ ابدالی کی مدد کے لئے پانی پت کی تیسری لڑائی میں نیازی لشکر اتارا۔حکمرانی کے لحاظ سے عمران خان نیازی چوتھا نیازی حکمران ہے جسے انہی علاقوں پر مشتمل حکومت کرنے کا موقع ملا جہاں اس کے آباؤاجداد نے حکمرانی کے دو دور دیکھے۔عمران خان نیازی کو اس لحاظ سے ایک منفرد مقام حاصل ہے جو کسی پاکستانی حکمران کے حصے میں نہیں آیا۔
کرنل ایوب لکھتے ہیں کہ عمران خان نیازی محب وطن، بے لوث اور عوام دوست حکمران تو ہے مگر بعض معاملات میں وہ بے حس اور قوت فیصلہ سے عاری ہے۔بدقسمتی سے عمران خان کے اردگرد جو لوگ بیٹھے ہیں ویسے ہی اس سے پہلے نیازی حکمرانوں کے ساتھ بھی رہے اور ان کی شکست و ندامت کا باعث بنے۔دیکھا جائے تو “سات سو سال بعد”کے مصنف نے اڑھائی سال پہلے جو لکھا وحرف بحرف سچ ثابت ہوا اور عمران خان نہ صرف عالمی سازشوں بلکہ اپنوں کی بے وفائی اور ہوس وحرص پرست سیاسی گھرانوں کی چانکیائی سیاست کا شکار ہو ا اور جبراً اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔کتاب کا دوسرا باب “ہنڈ اور سندھ سے ارض پاک تک،طویل سفر، مشکل مراحل اور مقصد کا حصول ” تاریخ کے طالب علموں اور سیاستدانوں کے لئے ایسا مواد مہیا کر تا ہے جو قدیم و جدید تواریخ کا نچوڑ اور انتہائی اہم اسباق پر مشتمل ہے۔قدیم ہندو دور سے لے کر اڑھائی ہزار سال قبل مسح میں آریاؤں کے ہندوستان میں ورود اور مختلف ادوار سے لے کر قیام پاکستان تک کی تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔
کتاب کا تیسرا باب “قیادت کا فقدان اور قوم کا احساس ذمہ داری ہے”لکھتے ہیں کہ قائد اعظم کے بعد جناب حسین شہید سہروردی واحد قومی لیڈرتھے جو نہ صرف پاکستان کو متحد، مضبوط اور خوشحال بنانے کا ہنر جانتے تھے بلکہ کشمیر کو بھی بھارت کے پنجہ ظلم سے چھڑانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔مگر پاکستانی قوم کی بد قسمتی کہ جاگیر دارانہ، تاجرانہ اور آمرانہ سیاست کے علاوہ ملک دشمن اور خود غرض بیوروکریسی نے ہمیشہ منفی اور مجرمانہ کردار ادا کیااور عوام اس غلامی کو آذادی تصور کئے کبھی ایک اور کبھی دوسرے مفاد پرست ٹولے کے ہاتھوں کا کھلونہ بنے رہے۔جس قوم میں احساس ذمہ داری نہ ہو وہ کبھی بھی اپنی منزل کا تعین نہیں کر سکتی اور نہ ہی عزت و آذادی سے جینے کا حق رکھتی ہے۔کتاب کا چوتھا اور پانچواں باب عمران خان کی ابتدائی زندگی اور صلاحیتوں کے علاوہ زندگی کے مشاغل، سیاست،وطن اور دین سے لگاؤ اور خواہشات و عادات پر مشتمل ہے۔آج عمران خان خود کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف، زرداری اور دیگر اتحادی اپنے ہم خیال صحافیوں اور بیرونی طاقتوں سے مل کر میرے خلاف سکینڈل بنائیں گے۔حیرت کی بات ہے کہ زیر نظر تحریر میں اڑھائی سال پہلے لکھ دیا گیا تھا کہ عمران خان کے خلاف کوئی سکینڈل کامیاب نہیں ہو گا۔اس کی زندگی کھلی کتاب ہے۔ اس کی زندگی کے ہر پہلو پردرجنوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ماضی میں جن خواتین کے ساتھ اس کا تعلق رہا ان سب کا کہنا ہے کہ وہ ایک محب وطن،قوم پرست اور دین پسند پاکستانی ہے۔ وہ اپنے دین کی طرف لوٹنا چاہتا ہے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہے۔لکھا ہے کہ عمران خان کو سات سو سال بعد اسی سر زمین پر حکمرانی کا حق ملا ہے جہاں اس کے آباؤ اجداد حکومت کر چکے ہیں۔مگروہ اپنی ضد،ہٹ درہمی،انانیت،اپنی ٹیم کے غلط چناؤ اور منصوبہ سازی میں لچک نہ ہونے کے علاوہ پارٹی قائدین کی بے وفائی، ہوس و حرص اور بد عہدی کا شکار ہو جائے گا۔ پارٹی کے اندر باغیوں کا ایک ٹولہ موجود ہے جو کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ جائے گا۔ سول بیوروکریسی عملاً باغی ہو چکی ہے اور زرداری اور شریف خاندان کی تنخواہ دار ہے۔لکھتے ہیں کہ ملک میں نو صحافی اور ہر محکمے میں چالیس افراد ایسے ہیں جو ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔جن صحافیوں کا اس کتاب میں ذکر ہے چند روز پہلے مریم نواز نے بھی انہی کا نام لیاجو اس کی جماعت کے لئے کام کر رہے ہیں۔قرآن کریم اور تاریخ اسلام سے حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ حضرت شعیب ؑ کے واقع میں لکھا ہے کہ نو لوگوں نے عہد کیا تھا کہ وہ ملک میں امن نہیں ہونے دیں گے۔اسی طرح بنی ﷺ کے خلاف مکہ کے نو سرداروں کا اتحاد تھاجو دین دشمنی میں سب سے آگے تھے۔مریم نواز کے اس بیان کے بعد ISPRکو سخت جواب دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آج بھی یہی صحافتی ٹولہ افواج پاکستان پر حملہ آور ہے اور نظریہ پاکستان کے خلاف ساری دنیا میں اپنا منفی پراپیگنڈا پھیلا رہا ہے۔مصنف نے سابق چینی صدر ڈنگ ژیاؤ پنگ اور بھوٹان کے کمسن بادشاہ کی مثالیں دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عدلیہ اور سول بیوروکریسی میں فوری اصلاحات کے بغیر ملک کا نظام درست نہیں ہو سکتااور نہ ہی کوئی حکمران اپنی ذاتی خوبیوں کے باوجود عوام کی فلاح و بہبود کا کام سرانجام دیے سکتا ہے۔
“ریاست مدینہ اور عہد حاضر”اس کتاب کا آخری باب ہے۔لکھا ہے کہ ریاست مدینہ کے امور چلانے والے ریاست مکہ کے امیر،وزیراور مشیر تھے جو ساری دنیا کی ریاستوں او رحکومتوں کے ساتھ معاملات طے کرتے اور لین دین کرتے تھے۔ ان کے پاس حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت عیسٰیؑ کے ادوار تک کا تاریخی اور دینی علم تھا۔وہ سات تہذیبوں اور مذاہب سے بھی واقف تھے۔ یونانی، ہندی،چینی،ایرانی،مصری اور رومی تاریخ، تہذیب اور علوم تک ان کی دسترس تھی۔حضورﷺ کی آمد کے بعد اصحاب رسولﷺکے دل روشن ہوئے تو ریاست مدینہ کے اوّلین کارکنوں نے کائناتی علوم کی روشنی میں قرآن و حدیث کا راستہ اپنا لیا۔ریاست مدینہ کا نظام اللہ کی حکمرانی کا سچانمونہ تھی جس کے قائد اللہ کے آخری نبی ﷺاور رحمت العالمینﷺ تھے۔جب تک انسان اللہ کی حاکمیت کا سچے دل سے اقرار نہ کرے وہ ریاست مدینہ کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔عمران خان کی ایمانداری حکومتی اداروں اور اس کی پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کی ایماندار ی کی ضمانت نہیں۔ہم نے آئین میں تو اللہ کی حاکمیت تو تسلیم کر لی مگر عملاًاسے تسلیم نہیں کیا۔ریاست مدینہ اللہ کی حاکمیت کا نمونہ تھی اور جو قوم اور اس کے لیڈر اللہ سے دھوکہ کرتے ہیں انہیں ریاست مدینہ کی کیا سمجھ ہو سکتی ہے؟اللہ اور اس کے رسولﷺکے نام پر میکا ولین اور چانکیائی سیاست سراسر دھوکہ،فراڈ اور جھوٹ ہے۔اگر قوم اس دھوکے میں مگن رہی تو اسے عذاب الہی کا سامنا کرنا ہو گا۔ریاست مدینہ کا تصور عمران خان کی خواہشات اور نیک نیتی پر مبنی یوٹوپیا ہے جس کے تصور کا مذاق اڑانا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں بلکہ ہر مسلمان اور اسلامی ریاست کے حکمران کا یہی تصور ہونا چاہئے ورنہ وہ نظریہ اسلام پر قائم ہونے والی ریاست کی حکمرانی کا اہل ہی نہیں ہو سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں