58

شکاری پیر۔۔۔۔۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں پچھلی دو دہا ئیوں سے ہزاروں لوگوں سے مل چکا ہوں بعض اوقات ایک دن میں سینکڑوں لوگوں سے ملا قات ہو تی ہے لیکن اِن ہزاروں لوگوں میں آج تک ایک بھی بندہ ایسا میری زندگی میں نہیں آیا جیسا میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا میرے سامنے ایک معصوم، سادہ اور شریف کم پڑھا لکھا دیہاتی شخص بیٹھا تھا وہ اپنا حیرت انگیز سوال کر نے کے بعد خا موش گہری اور سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا وہ اپنے چہرے اور آنکھوں میں امید کے دیپ جلا ئے میرے پاس اِس امید سے آیا تھا کہ میں شاید اُس کے عجیب و غریب سوال کا جواب دے سکوں ۔ مُجھ سے ملنے والے بہت سارے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو تی ہے کہ میں اللہ کاایک نیک بندہ ہوں جبکہ حقیقت سے میں اچھی طرح واقف ہوں مجھے اپنی کو تا ہیوں حما قتوں غلطیوں ، بشری کمزوریوں اور گنا ہوں کا شدت سے احساس ہے مُجھ جیسے عاجز مشت غبار، گنا ہوں اور حما قتوں کی پوٹلی کو لوگ نیک سمجھ کر آتے ہیں اور بعض اوقات روحانیت اور تصوف کے مشکل اور دقیق سوال اِس بھروسے کے ساتھ کرتے ہیں کہ میں سیر حاصل جواب دوں گا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں تو پہلے دن سے آج تک ایک طالب علم اور اولیا ء اللہ کی جو تیاں اٹھانے والا ہی ہوں اور اُس شاہراہ پر کھڑا ہو نے کی کو شش کر رہا ہوں جو قرب الہی اور عشق حقیقی کی طرف جا تی ہے پتہ نہیں اِس کا ئنات کے اکلوتے مالک و خا لق ربِ بے نیاز اللہ الصمد کی نظر کب اِس سوالی پر پڑ جا ئے کب اِس کشکول کا دامن اُس کی نظر سے بھر جا ئے کا ش ایسا ہو جا ئے کا ش ایسا ہو جا ئے ۔ میں تو پتہ نہیں کتنے سالوں سے دامن مراد پھیلا ئے کشکول بنا دربدر بھٹک رہا ہوں، پتہ نہیں کب مجھ جیسے کھو ٹے سکے کے بھا گ جا گ جا ئیں پتہ نہیں کب اِس خو شہ چین کا کشکول بھی بھر جا ئے پتہ نہیں کب ۔۔۔باقی بہت سارے لوگوں کی طرح یہ دیہاتی بھی اِسی امید پر میرے پاس آیا تھا اور آکر عجیب و غریب سوال داغ دیا تھا کہ دیکھیں مجھے جنت مل چکی ہے جنت میرے مقدر میں لکھی جا چکی ہے ۔میں حیرت سے اُس کا معصوم بھولا چہرہ دیکھ رہا تھا کہ پتہ نہیں اِس نے کو نسی عظیم نیکی کی ہے کہ جس کی بنا پر یہ شخص اِس خوش فہمی میں مبتلا ہو کر میرے پاس آیا کہ دیکھیں واقعی ہی میں جنتی ہو چکا ہوں اور میں اپنی اوقات دیکھ رہا تھا کہ مجھ گنا ہ گار کے پاس تو ایسی کو ئی نظر یا پیما نہ نہیں تھا جس کی بنا پر میں بتا سکوں کہ واقعی وہ جنتی ہو چکا ہے کہ نہیں ۔ اُس کے سوال اور اعتما د سے میری تجسس کی تما م حِسّیات پو ری طرح بیدار ہو چکی تھیں ۔ میں اُس راز کو جا ننا چاہتا تھا جس کی بنا پر یہ شخص اپنے جنتی ہو نے کا دعوی کر رہا تھا ۔ میں دنیا و مافیا سے بے خبر ہو کرمتجسس نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا میری کھو جی نظریں اُس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں میں حقیقت جا ننے کے لیے مضطرب اور بے چین ہو چکا تھا ۔ جہنم سے آزادی اور جنت کا حصول کر ہ ارض پر بسنے والے تمام مسلمانوں کی اولین اور آخری خوا ہش ہو تی ہے اِس لیے تمام مسلمان ساری عمر تن من کی با زی لگا تے ہیں ساری عمر کی عبا دات کڑے مجاہدے صدقہ خیرات کے بعد بھی کسی مسلمان کو کو ئی گا رنٹی نہیں ہو تی کہ اُس کی عبا دتوں کا ثمر ملے گا یا نہیں ۔ کیونکہ یہ سچ ہے کہ لمبی چوڑی عبا دات مجا ہدوں ، رت جگوں اور صدقہ خیرات کے بعد بھی جنت کا حصول اُس ما لک بے نیاز کے کرم اور فضل سے ہی ممکن ہے ۔ اُس اول و آخر رحمن رحیم کے پیمانہ رحمت کے چھلکنے سے ہی معافی کا پروانہ مل سکتا ہے ۔ ہما ری ساری عمر کی عبادتیں اُس کے ایک کرم کے بدلے میں ختم ہو جائیں گی ۔ چھٹکا رہ اور جنت تو صرف اُس کے کرم سے ہی ممکن ہے جبکہ یہ شخص کتنے وثوق اور اعتماد سے کہہ رہا تھا کہ اُس نے کو ئی ایسا عمل کیا ہے کہ وہ دنیا میں ہی جنتی ہو گیا ہے اب میرے صبر اور تجسس کا پیما نہ چھلکنے لگا تھا ۔ اب مزید انتظار مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ میں نے شفقت بھری نظروں سے اپنے سامنے بیٹھے ہو ئے دیہا تی کو دیکھا اور کہا جناب آپ پہلے یہ بتا ئیں کہ آپ نے ایسا کو نسا اچھا عمل یا مذہبی فریضہ ادا کیا ہے کہ آپ کو دنیا میں ہی جنتی ہو نے کا پروانہ مل گیا ہے تا کہ مجھ جیسے گنا ہ گا ر بھی اُس عبا دت کے ذریعے یہ عظیم نعمت اور سعادت حاصل کر سکیں تو اُس معصوم سادہ دیہا تی نے جو داستان سنا ئی جس میں ایک پیر نے بلکہ ڈاکو پیر نے اِس معصوم دیہا تی کو لوٹا اور بے وقوف بنا یا اُس کی داستان اُسی کی زبانی محترم قارئین کی نظر ہے ۔ سر مجھے بچپن سے ہی روحانیت تصوف اور اولیا ء اللہ کی لا ئن پر چلنے کا شوق تھا ہما رے گھر کا ماحول بھی اولیا ء اللہ سے محبت پر مبنی تھا گھر کا ما حول اور فطری رحجان مجھے اس طرف لے گیا راہ حق قرب الٰہی اور عشق الٰہی کے لیے میں پا کستان کے دور دراز کے سچے جھوٹے پیروں کے در پر گیا اِس سلسلے میں میں نے نہ کو ئی آستانہ چھوڑا اور نہ ہی کو ئی مزار جہاں پتہ چلتا وہاں روحا نیت اور قرب الہی کے مو تی سمیٹنے چلا جا تا ۔ لیکن وقت اور پیسہ برباد کر نے کے بعد جلد ہی مجھے احساس ہو جا تا کہ جس نور حق کی تلاش میں میں بچپن سے ما را مارا پھر رہا ہوں وہ یہا ں نہیں ہے ہر جگہ پر جھو ٹ فراڈ اور عزتیں نیلام ہو تیں دیکھتا تو وہ چوکھٹ چھوڑ کر اگلی منزل کی تلاش میں چل پڑتاوقت کی کروٹیں اور گردش لیل و نہا ر میرے ارادے اور جنوں کو کم نہ کر سکیں ہر گزرتے دن نا کامی اور فراڈ کے بعد میرے جنوں اور پیاس میں اور بھی اضا فہ ہو جا تا اور آگے چل پڑتا اِس تلاش میں میں نے جگہ جگہ شکا ری پیروں کو دیکھا جو اپنے اپنے پھندے لگا کر معصوم لوگوں کو پھانس رہے ہیں اِن شکا ری جا لوں میں معصوم مرید سالوں سے پھنسے ہو ئے کسی کرامت کے انتظا ر میں اپنا وقت اور پیسہ برباد کر رہے ہیں میں بھی ایسے شکا ری پیروں کے پھندوں میں پھنسا ہوا ایک سے دوسرے در ٹھوکریں کھا تا ہوا ایک ایسے پیر صاحب کے پاس پہنچا جنہوں نے اپنے اوپر بے نیازی کا لبا دہ اوڑھا ہو اتھا ۔ یہ مجھے بہت سمجھ دار لگے میں روحا نی پیاس اور تصوف کے اسرار و رموز جا ننے کے لیے اِن کے سامنے سوالی بن گیا ۔ اس پیر صاحب نے مجھے ہاتھوں ہا تھ لیا جعلی پیروں کے بارے میں بہت بولا کہ آستانوں اور گدیوں پر جعلی پیروں کا قبضہ ہے اِس پیرصاحب نے باتوں باتوں میں مجھے اپنے شیشے میں اتار لیا یہ ایک سمجھ دا ر اور باتونی پیر تھا اِس کو انسانی نفسیات سے کھیلنے کا پورا آرٹ آتا تھا اِس نے مجھے بتا یا کہ ہما رے خاندان کے پاس اِیسی عظیم مقدس چیز ہے جو نسل در نسل صرف ہما رے پا س ہی آرہی ہے اس کی زیا رت سالوں کی عبادت سے افضل ہے اُس کی زیا رت سے روحانیت اور تصوف کے وہ تمام راز کھل جا تے ہیں جن کی راہ حق کے مسافروں کو تلاش ہو تی ہیں پیر صاحب نے میری آتش شوق کو بھڑکا دیا میں پیر صاحب کی غلامی اور مریدی میں آگیا اب پیر صاحب نے حکم کیا کہ اُن کے والد صاحب کے مزار کوبنا نا ہے اب میں نے پیر صاحب کی خوشنودی کے لیے اپنی زمین جا ئیداد بیچنی شروع کر دی اور سارا روپیہ پیر صاحب کے والد کے مزار پر لگا نا شروع کر دیا ۔ میں جو ش و خروش سے اپنی زندگی کی جمع پو نجی اُس مزار پر لگا رہا تھا اِس امید پر کہ میں اُن خو ش قسمت انسانوں میں شامل ہو جا ؤں گا جن کا دامن قرب الٰہی کی روشنی سے بھرا ہوتا ہے پیر صاحب میرے اشتیاق اور شوق کو اور بڑھاتے کہ یہ عظیم خو شی بختی صرف تمہارے ہی مقدر میں آنے والی ہے تم بہت خوش نصیب ہو جو یہ سعادت اور نور حاصل کر و گے ۔ میں دنیا و ما فیا سے بے خبر اپنی ساری دولت پیر صاحب کے مزار پر لٹا تا رہا اور پھر لاکھوں روپے دن رات کا وقت اور زندگی کے بہت سارے قیمتی لمحات گزارنے کے بعد پیر صاحب کے والد کا مزار مکمل ہو گیا اب میں نے تقاضہ کیا کہ مجھے اُس مقدس چیز کی زیارت کرا ئی جا ئے پہلے تو کافی دن پیر صاحب مجھے ٹر خاتے رہے اور پیسے لوٹتے رہے اور پھر ایک دن مجھے خا ص کمرے میں لے جا کر قیمتی صندوق کھو ل کر ایک سنہری سکہ دکھا یا اور کہا کہ یہ خلفائے راشدین کے دور کا ہے اِس سکے کی یہ کرامت اور خو بی ہے کہ جو بھی اِس کو دیکھ لے اُس کے من کا اندھیرا دور اور جنت اُس پر واجب ہو جا تی ہے یہ با ت میں نے کئی علما ئے دین سے پو چھی لیکن انہوں نے اِس با ت سے انکار کیا تو اب میں تصدیق کے لیے آپ کے پاس آیا ہو ں ۔میں حیرت اور دکھ سے شریف بندے کو دیکھ رہا تھا جس کو شکا ری پیر نے چالا کی سے لوٹ لیا تھا ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں