35

ضلع ناظم کا یہ اقدام چترال کے عوام کے ساتھ کھلی دشمنی ہے 9ماہ گزرنے باوجود مذکورہ رقم متعلقہ محکموں کو ریلیز نہیں کیا جارہا ہے چترال کے عوام پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔ایم پی اے سلیم خان

پشاور(نادرخواجہ) چترال سے رکن صوبائی اسمبلی و سابق صوبائی وزیر سلیم خان نے چترال میں سیلاب سے تباہ کاریوں کا ازالہ اور دیگر مسائل حل نہ کرنے کی صورت میں ہزاروں افراد کے ہمراہ چترال سے پشاور اور پشاور سے اسلام آباد تک احتجاجی مارچ کرنے کی دھمکی دیدی ۔ گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں ضلع پشاور کے سابق انفارمیشن سیکرٹری طاہر داؤدزئی ‘ ریاض یوسفزئی ‘ مدرار اللہ اور سرتاج عزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چترال میں گزشتہ سال سیلاب سے متاثرہ ویلی روڈز ‘ پل ‘ ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن اور ایریگیشن چینلز ایک سال گزرنے کے باوجود بھی بحال نہیں ہوئے جو مرکزی ‘ صوبائی اور ضلعی حکومتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ماہ اگست میں صوبائی حکومت نے 16کروڑ روپے سڑکوں کی بحالی کے لئے ضلعی حکومت کو دئیے تھے جو ابھی تک ضلع ناظم کی من مانیوں کے باعث سڑکوں کی بحالی کے لئے خرچ نہیں ہوسکے مزکورہ رقم جن سڑکوں کی بحالی کے لئے دئے گئے ہیں اس حوالے سے چیف منسٹر کے واضح ہدایات موجود ہیں مگر ابھی تک ضلع ناظم کی مداخلت کی وجہ سے مزکورہ رقم اکاونٹ نمبر 4میں پڑے ہوئے ہیں جس کی میں پرزور مذمت کرتا ہوں ضلع ناظم کا یہ اقدام چترال کے عوام کے ساتھ کھلی دشمنی ہے 9ماہ گزرنے باوجود مزکورہ رقم متعلقہ محکموں کو ریلیز نہیں کیا جارہا ہے چترال کے عوام پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کا کچھ حصہ گزشتہ سال سیلاب میں بہہ گیا تھا ایک سال سے بالائی چترال عوام اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن صوبائی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے اس اہم نوعیت کے منصوبے کی بحالی کے لئے ابھی تک شیڈو کے محکمے نے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائی ۔کلاش ویلی میں جشن بہاران شروع ہے لیکن سڑک اور پل نہیں ہیں سیاہ پیدل چل کر وہاں پہنچ رہے ہیں گرم چشمہ روڈ کی بندش کی وجہ سے آلو کا کاشت بیج میسر نہ ہونے کی وجہ سے رکا ہوا ہے اس طرح چترال کے مختلف علاقوں میں رابط سڑکوں اور پلوں کی خراب صورت حال کے باعث لوگ محصور ہو کر رہ گئے انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف ‘ چےئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چترال کا دورہ کیا اور متاثرین کو یقین دہانی کرائی کہ ایک سال کے اندر اندر تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کی بحالی کی جائیگی جبکہ ابھی تک اس ضمن میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک بالائی چترالی تورکہو روڈ موڑکہو روڈ ‘ تریچ روڈ ‘ شندور روڈ ‘ بروغل روڈ ‘ اور لوئر چترال کا گرم چشمہ روڈ ‘ بمبوریت روڈ سمیت دیگر رابطہ سڑکیں اور درجنوں پل دریا برد ہو چکے ہیں اور سیلاب سے متاثرہ زمینوں کے مالکان ابھی تک کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں حالات سے تنگ آکر چترال کے عوام نے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل سڑکوں پر دھرنے دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے بات یہاں تک آگئی ہے کہ متاثرین افغانستان بارڈر کراس کر کے افغانستان میں رہائش اختیار کرنے کو تیار ہو گئے ہیں تاہم سیکورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ کی یقین دہانی پر انہوں نے اپنا احتجاج مؤخر کیا ہے لیکن ان وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ہے انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے مطالبہ کیا کہ جو رقم ضلعی اکاونٹ فور میں پڑے ہیں ان کو فوری طور پر متاثرہ روڈون اور پلوں کی بحالی پر خرچ کرنے کے واضح ہدایات جاری کریں چترال کی سڑکوں اور پلوں اور دیگر انفراسٹریکچر کی مستقل بحالی کیلئے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں تفصیلی اسٹیمیٹ کے مطابق 10ارب روپے مختص کئے جائیں تاکہ سڑکوں اور پلوں سمیت زرعی قرضوں کی معافی کے اعلان پر بھی عملدآمد کیا جائے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر صورتحال یہی رہا تو چترال کے زلزلہ اور سیلاب کے متاثرین ہزاروں کی تعداد میں صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے جس کی قیادت میں خود کرونگا

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں