44

وفاق نے ہمیں بجٹ کیلئے فنڈز دئیے اور نہ ہی مطمئن کر سکا ہے۔وزیر خزانہ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے صوبے کو حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں مرکز کے روئیے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وفاق صوبوں کے عوام میں احساس محرومی اور نفرت کے جذبات ابھارنے کی پالیسی پر گامزن ہے جس کے نتائج بھیانک نکل سکتے ہیں اتوار کو تالاش اور تیمرگرہ سے ملحقہ اپنے حلقہ نیابت کے مختلف علاقوں کے دورے اور روابطہ عوام کے دوران مقامی زعماء اور میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بجٹ سازی کیلئے اپنے وسائل پر اکتفا کرنا طے ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ہماری آمدن اور محصولات کے تمام بڑے ذرائع بدستور مرکز کے دست قدرت پر چھوڑ دئیے گئے ہیں اور مرکز کا انصاف یہ ہے کہ بجٹ سر پر ہے مگر 72ارب روپے کی ادائیگی ہنوز باقی ہے وفاق نے ہمیں نہ تو یہ فنڈز منتقل کئے اور نہ ہی صوبائی حکومت کو مطمئن کر سکا ہے لگتا ہے اس بار بھی ہمیں خیالی پلاؤ پر بجٹ تیار کرنا ہو گا مگر ہم ایسا نہیں ہونے دینگے مرکز ہماری کشتی ڈبونا چاہتا ہے مگر مشیت ایزدی سے ایسا بھی ہرگز نہیں ہو گا تشویشناک بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت اًس صوبے کے عوام سے مسلسل زیادتی کر رہا ہے جنہوں نے قومی سلامتی اور استحکام کیلئے شروع دن سے جان و مال کی بے پناہ قربانیوں دی ہیں دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہوئے اور مختلف شکلوں میں یہاں خون کی ندیاں بہنے کے باوجود عوام کے پائے استقامت میں معمولی لغزش تک نہیں آئی اور قومی یکجہتی کی خاطر نہ صرف ہر سطح پر وفاق کی پالیسیوں کی توثیق کی بلکہ اس کیلئے عملی طور پر اپنے تن، من اور دھن کو قربان کیا مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ وفاق نے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی صوبے کو بجٹ کے وسائل نہ دئیے تو پھر ہمارا احتجاج بھی مختلف ہو گا اور ہم کوئی نیا لائحہ عمل اپنانے پر مجبور ہونگے عجب بات ہے کہ مرکز ہمیں وہ فنڈز نہیں دے رہا جو ہمارے اپنے ہیں اور مرکز نے ان وسائل میں پہلے ہی کافی کمی بھی کی ہے ہم کوئی مدد یا خیرات تو نہیں مانگ رہے انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ، وفاقی ملازمتوں، پن بجلی منافع، دریاؤں کے پانی کے استعمال، تیل و گیس کی رائلٹی، سی پیک، تمباکو سیس اور دیگر کئی اہم معاملات پر نہ صرف صوبے کی حق تلفیاں برقرار ہیں بلکہ ہماری تشویش کم کرنے اور عوام کو مطمئن کرنے کی بجائے اسے مسلسل بڑھایا جا رہا ہے جو اچھا شگون نہیں اور امید ظہار کی کہ مرکزی حکومت خود اپنے مفاد میں چھوٹے صوبوں سے متعلق اپنی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کرے گا جس کا پہلا قدم ہمیں بجٹ کیلئے 72 ارب روپے کی ادائیگی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں